پاکستان میں تیل کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کا نیا اقدام

08:21 PM, 7 Jan, 2026

اسلام آباد: حکومت نے ملک میں تیل کی سپلائی کے نظام میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ٹرانسپورٹ کے بجائے پائپ لائن کے ذریعے تیل فراہم کیا جائے گا۔ اس قدم کا مقصد نقل و حمل کے اخراجات کو کم کرنا اور صارفین کو زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق، فی الحال 100 فیصد ڈیزل اور 60 فیصد پیٹرول ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کے ذریعے فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس نئے منصوبے کے پہلے مرحلے میں فیصل آباد سے ٹھلیاں تک پائپ لائن بچھانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی تیل کی سپلائی کو روکنے کے لیے جدید ٹریکنگ نظام متعارف کرایا جائے گا۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم سیکٹر میں کی جانے والی اصلاحات سے گیس کی قیمتوں میں استحکام آیا ہے اور گیس سیکٹر کے گردشی قرضوں کی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایندھن کے استعمال سے متعلق ادائیگیاں کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی ہے۔

علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور آئل سپلائی چین سے متعلق مسائل پر کام جاری ہے اور اس حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مسائل کو جلد حل کرنے کی توقع ہے۔

وزیر پیٹرولیم نے ایل پی جی انڈسٹری کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ اس کے لیے ایک نئی پالیسی تیار کی جائے گی تاکہ اس شعبے میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے مائننگ سیکٹر کے لیے طویل المدتی حکمت عملی پر بھی زور دیا، تاکہ اس شعبے میں مزید ترقی ہو سکے۔

علی پرویز ملک نے قطر سے ایل این جی کی درآمد کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا اور کہا کہ 2026 کے آغاز میں قطر سے ایل این جی کے کارگوز کی تعداد 120 سے کم کر کے 84 تک کر دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قطر سے ایل این جی کی ماہانہ ترسیل 10 سے کم کر کے 7 کی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ قطر کے ساتھ ایل این جی کے اضافی کارگوز کی منتقلی کے معاہدے کی بدولت گیس کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ نہیں ہے۔ اس معاہدے سے 242 ارب روپے کی ایل این جی کی درآمدی قیمت کو گھریلو سیکٹر میں منتقلی سے روک دیا گیا ہے۔

مزیدخبریں