ہر زمانے اور وقت کا ایک تقاضاہوتا ہے اور ہر دور کی ایک خاص پہچان بھی ہوتی ہے ۔ تمام تر معاشرتی و سماجی ضروریات میں کوئی نہ کوئی ضرورت ایسی ضرور ہوتی ہے جسے اولین ترجیح بنا کر ہی اس سے نمٹا جا سکتا ہے ۔ آج جب میں بولتے الفاظ سپردِ قلم کر رہا ہوں تو میرے سامنے موجودہ دور کے تقاضوں اور ضرورتوں کی ایک لمبی فہرست آویزاں ہے۔ مگر مجھے ایقان کی حد تک صدق دل سے یہ کہنا ہے کہ ہمارے پیارے وطن پاکستان اور بطور خاص ترقی کی نئی منزلوں کی طرف عازم سفر ہوتے پنجاب کو شدت پسندی، تشدد آمیز خیالات اور انتشاری رویوں سے پاک کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے شائد بلکہ یقینا اس سے پہلے کبھی نہیں تھی ۔ ہماری پاک سرزمین اور یہ خطہ امن و آشتی کی صدیوں پرانی آفاقی روایات کا امین اور پرچارک ہے۔ اگر ہم اپنے خطے کی جغرافیائی حدود کے ساتھ محبت و رواداری کی جرا¿ت کی بات کریں تو یہ ایک دل موہ لینے والی آمیزش ہے جس نے ہر دور میں یہاں کے رہنے والوں کو اطمینان و طمانیت کی دولت سے بہرہ یاب کیا ہے۔ ہمارے خطے کے صوفیا ہوں یا مہم جو سیاح سب کے سب امن کا پیغام لیکر یہاں آئے۔ پھر یہ ہوا کہ ہم اپنے اسلاف و اجداد کے دیئے ہوئے سبق کو فراموش کر کے نت نئی مباحث میں الجھ گئے اور پھر الجھتے الجھتے دور لڑھک گئے۔ بیسویں صدی کا خاتمہ اور اکیسویں صدی کا آغاز ہمارے ملک کیلئے مسلسل ابتلا و آزمائش کا سندیسہ لایا ۔ ہمیں ایک نئی مصیبت میں ڈال دیا گیا اور ہمیں دہشت گردی کے عفریت نے جکڑ لیا ۔ حالات کی گردش اور مرورِ زمانہ نے ہمیں یہ دن دکھلائے کہ پرائی آگ ہمارے گھروں تک پہنچ گئی اور ہم بیٹھے بٹھائے باہمی محبت کا لین دین کرنے کی بجائے نفرت و انتشار کی سوداگری میں پڑ گئے۔ ہمسایہ ممالک سے درآمد کی جانے والی اس مکروہ سوغات کا دھندا جب اپنے عروج پر پہنچا تو ایک طرف اس مٹی کے محافظ تھے تو دوسری طرف نقاب پوش نقب زن جنہیں اب بجا طور پر خوارج کہنا چاہئے ۔ یہ خوارج کوئی وطن عزیز پاکستان کے جسد کو زخمی کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اس مشکل اور آفت زدہ گھڑی نے حکومت اور عوام نے ہم قدم و ہم آواز ہونے کا فیصلہ کیا ۔معلوم کہ یہ یہ تنہا حکومتوں کے کرنے کے کام نہیں تاہم حکومت پاکستان ، قومی سلامتی سے متعلق ریاست کے تمام اداروں بشمول افواج پاکستان نے اپنی پاک دھرتی کو دہشت گردی ، نفاق و منافرت کے اس ناسور سے پاک کرنے کا پختہ عزم کر رکھا ہے۔ یہاں اس بات کو سمجھنا انتہائی اہم ہے کہ کم و بیش دو عشروں سے جاری مسلسل دہشت گردی اور پر تشدد سرگرمیوںکا قلع قمع کرنے کیلئے مسلح کارروائیاں لازم ہیں مگر اس سے ایک قدم آگے یا اس کے پس پردہ کارفرما سوچ کا خاتمہ کرنے کیلئے ایک مسلسل اور مرحلہ وار مربوط حکمت عملی کی اشد ضرورت تھی جسے پورا کرنے کیلئے وفاقی سطح پر ” پیغام پاکستان “ جیسی شاندار مہم اور ابلاغ کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔ بعد ازاں جب صوبوں کو بھی اسی طرح کی منصوبہ بندی کرنے کی لائن دی گئی تو ہم نے ثابت کیا کہ پاکستان کی تمام صوبائی اکائیاں ایک دوسرے کے ساتھ یک جان دو قالب ہیں اور پنجاب اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے یہاں بھی سبقت لے گیا ۔ حکومت پنجاب نے©” پنجاب سینٹر آف ایکسی لینس آن کاﺅنٹرنگ وائلنس ایکسٹریم ازم©©“ کی بنیاد رکھ کے اپنے حصے کی شمع روشن کر دی اور اس کا اجالا چار سو بکھیرکر اس کے ذریعے جہالت و گمراہی کے اندھیرے مٹانے کی سعی کا آغاز کر دیا ۔اس سرکاری ادارے کی تشکیل کے ذریعے اکیڈیمیا ، شرفا ، اہل دانش سمیت مختلف شعبوں کو آن بورڈ لیکر ایک ایسا گلدستہ بنایا گیا ہے جس کے ذریعے تنگ نظری اور انتہا پسندی کا تدارک کیا جا سکے گا۔ پہلی بات یہ کہ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہمیں کرنا کیا ہے ، کہاں سے شروع کرنا ہے ، جتنا نقصان ہو چکا اس کا تخمینہ ہی نہیں لگانا ، مزید سے بچنے کی کوئی سبیل بھی کرنا ہے۔ ہمیں اپنی اصل کو اپنی نئی نسلوں کے اذہان میں راسخ کرنا ہے ، انہیں بتانا ہے کہ ہم کون ہیں اور کیا کر رہے ہیں ۔ ہمارا دین اور کلمہ طیبہ ہماری بنیاد ہے ۔ کالجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ کو دین بیزاری سے بچاتے ہوئے دین کی اصل سے روشناس کروا دیا جائے تو بڑی حد تک کامیابی کی طرف بڑھا جا سکتا ہے ۔ اسلام اپنے لفظی معانی اور بنیادی تصور سے لیکر اجمالی تعلیمات تک سراپا امن ہی امن ہے ۔ ہمارے پاس امن کے علاوہ کوئی آپشن نہیں اور نہ ہی ہمارے دین میں جبر و اکراہ کی کوئی گنجائش ہے ۔یہ جو دین کے نام پر شدت پسندی اور عدم برداشت کا تصور ہے اس کا وجود اب ناممکن بنا دیا جائے گا کیونکہ اب ارادوں سے وعدوں تک سفر عملی طور پر شروع کر دیا گیا ہے ۔ چند دن قبل لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں اسی ”سینٹر آف ایکسی لینس “ کے زیر اہتمام ایک آگاہی ورکشاپ کے ذریعے مختلف ماہرین نے اسی بات پر زور دیا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے کسی بھی اقدام سے پہلے ایسی سوچ کو ہی جنم نہ لینے دیا جائے جو ایسے اقدامات کا سبب بنتی ہے ۔ایسی منصوبہ بندی کی جائے ، ایسے عملی اقدامات کئے جائیں ، ایسا ماحول اور معاشرہ تشکیل دیا جائے جہاں دینی اصطلاحات کی من چاہی تشریح کر کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے والوں کے آگے بندھ باندھا جا سکے۔ اس ضمن میں اہل صحافت اور قلم و قرطاس کے وابستگان کی ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے۔ خیالات کی تشکیل پر پہرہ ہو تو ان کو عملی روپ دھارنے میں دقت ہوتی ہے اور یہی وہ کٹھن کام ہے جو اب ہمیں کرنا ہے کہ ایسے مکروہ اور متشددانہ خیالات کو ہی پروان نہ چڑھنے دیا جائے۔ برداشت ، رواداری ، ایک دوسرے کیلئے گنجائش اور صبروایثار جیسے محاسن کو عام کیا جائے۔ اس ضمن میں ” پنجاب سینٹر آف ایکسی لینس آن کاﺅنٹرنگ وائلنس ایکسٹریم ازم©©“ کا کردار قابل رشک اور قابل تقلید ثابت ہو گا۔
انتشار اور تشدد سے پاک پاکستان ....حکومت پنجاب کی ترجیح
09:04 AM, 7 Jan, 2026