سیاست میں کامیابی کا راستہ انتشار نہیں مکالمہ!

09:03 AM, 7 Jan, 2026

سیاست عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ملکی تدبیر و انتظام کرنے کے ہیں۔ اردو لغت میں کسی ملک کے نظامِ حکومت ، ملکی تدبیر و انتظام، طریقہ حکمرانی کو سیاست کا نام دیا جاتا ہے۔سیاست خدمت کا دوسرا نام ہے اور اگر اس میں خدمتِ خلق نہ ہو تو یہ ذلت بن جاتی ہے۔ پاکستان جیسے بڑے ملک میں سیاست کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ آپ ایک چھوٹے سے یونٹ یعنی پانچ افراد پر مشتمل گھر کو ہی دیکھ لیں تو وہاں بھی کسی معاملہ پر متضاد آرا سامنے آ جاتی ہیں۔ ایسے میں اگر گھر کا ہر فرد اپنی اپنی ضد یا انا پر قائم رہے توگھر کا ماحول کشیدہ ہونے کے ساتھ مسئلہ حل ہونے کی بجائے بگڑتا چلا جائے گا لیکن اگر پانچوں مل بیٹھ کر باہم کوئی فیصلہ کر لیں تو اس سے گھر کا ماحول بھی خوشگوار ہو گا اور مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ سیاست میں کوئی بھی بات حرفِ آخر نہیں ہوتی۔ ضد پر اڑے رہنے سے جمود پیدا ہوتا ہے جبکہ مذاکرات سے درمیانی راستہ نکلتا ہے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔ جب سیاست دان ضد کو انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں تو نقصان عوام کا ہوتا ہے کیونکہ مذاکرات کے ذریعے ہی معاشی اور سماجی مسائل کا حل ممکن ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے سے بڑے جنگی اور سیاسی بحران میز پر بیٹھ کر ہی حل ہوئے ہیں، سڑکوں پر یا ضد بازی سے نہیں۔ ان دنوںملک میں سیاسی عدم استحکام ہے اور اس کی واحد وجہ سیاستدانوں کی ضد یا ہٹ دھرمی ہی کہی جا سکتی ہے۔ سیاست اپنے لیے راہیں کھولنے کا نام ہے نہ کہ بند گلی میں جا کر کھڑے ہو جانا۔ اگر آپ سیاستدان ہیں تو آپ کو اپنے رویے میں لچک پیدا کرنا ہو گی ۔ ایک ایسا ملک جہاں مختلف النسل اور مختلف الخیال لوگ بستے ہیں وہاں آپ ” میں نہ مانوں“ کی رٹ نہیں لگا سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں سیاست کو مفادات کے حصول کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے ۔ بدقسمتی سے یہاں ایسے افراد کو بھی سیاستدان کہا جاتا ہے جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں اور جن کی وفاداریاں آج ایک کے ساتھ تو کل دوسرے کے ساتھ ہوتی ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اپنے اس فعل پر نادم ہونے کی بجائے وہ اس پر فخر کا اظہار کرتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت کا انتخابی منشور اس قدر دلفریب ہوتا ہے کہ لوگ اس کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں مگر حقیقت اس سے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ پاکستان کی سیاست کا اصل چہرہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں بے نقاب ہوتا ہے۔ پاکستانی عوام کو جھوٹے وعدے اور نعروں کی گونج سے باہر نکل کر عملی طور پر کام کرنے والوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ اصول و نظریات جو کبھی سیاست کی جان ہوا کرتے تھے اب محض خواب وخیال بن کر رہ گئے ہیں۔ یہ بات حقیقت ہے کہ یہاں آج کے سیاسی حریف کل کے سیاسی حلیف بنتے ذرا دیر نہیں لگاتے اور ہم ماضی میں اس کی کئی مثالیں دیکھ چکے ہیں۔ یہ دو انتہائیں ہیں اور ان میں اعتدال ہی بہترین راستہ ہے۔ آپ مختصر طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیاست میں کامیابی کا راستہ تصادم یا انتشار نہیں مکالمہ ہے۔ 
اسلامی نظریہ¿ سیاست کی بات کی جائے تو اسکی بنیاد اس تصور پر ہے کہ کائنات کا حقیقی حاکم اللہ تعالیٰ ہے۔ اسلامی سیاست کا سب سے پہلا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ اقتدارِ اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور ریاست میں کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو قرآن و سنت کے واضح احکامات کے منافی ہو۔ انسان زمین پر اللہ کا خلیفہ یا نمائندہ ہے۔ حکمران کو مطلق اختیار حاصل نہیں ہوتا بلکہ وہ اللہ کے احکامات اور عوام کی امانت کے طور پر اختیارات استعمال کرتا ہے۔ اسلامی ریاست کے نظم و نسق میں شوریٰ (مشاورت) کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ قرآن کے مطابق مسلمانوں کے معاملات باہمی مشورے سے طے پانے چاہئیں (سورت الشورٰی، آیت 38)۔ عدل اسلامی سیاست کا بنیادی ستون ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کو، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، بلا امتیازِ رنگ و نسل یا مذہب انصاف فراہم کرے۔ اسلامی نظریہ¿ سیاست میں تمام انسان برابر ہیں۔ قانون کی نظر میں حکمران اور عام شہری کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا اور سبھی قانون کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں۔ حکمران عوام اور اللہ دونوں کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکمران کے غلط اقدامات پر اسے ٹوکیں اور اس کا محاسبہ کریں۔ اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں (ذمیوں) کی جان، مال، آبرو اور مذہبی آزادی کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ خلاصہ یہ کہ اسلامی سیاست کا مقصد ایک ایسا عادلانہ معاشرہ قائم کرنا ہے جہاں ”امر بالمعروف و نہی عن المنکر“ (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) کے ذریعے انسانی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسلامی نظریہ¿ سیاست بہترین ہے لیکن افسوس کہ بحیثیت مسلمان بھی ہم اس پر عملدرآمد نہیں کرتے ہیں۔ 
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ سیاست دو طرح کی ہوتی ہے ایک اصولی اور دوسری اقتدار کی سیاست۔ اصولی یا نظریاتی سیاست کا مقصد بھی حصولِ اقتدار ہی ہوتا ہے لیکن اس میں کسی فرد یا خاندان کی بجائے ایک نظریہ کو اقتدار پہنچانا ہوتا ہے۔ایسی سیاست کم ہی اقتدار تک پہنچ پاتی ہے لیکن ایسے سیاستدانوں کو عوام عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں نوابزادہ نصر اللہ خان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ گزشتہ دنوں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناءاللہ نے یہ تجویز دی کہ ملک کے 5بڑے بیٹھ کر استحکام اور پائیدار ترقی کا کوئی راستہ نکالیں، یہ انتہائی عمدہ تجویز ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ تمام فریقین ایک ساتھ بیٹھنے پر آمادہ ہوں ، اگر ان میں سے ایک بھی ہٹ دھرمی یا ضد دکھائے تو معاملات جوں کے توں ہی رہیں گے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ایک سیاستدان اپنی وزارت عظمیٰ کے دور میں بھی اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں تھے اور ابتک ایسا ہی لگ رہا ہے کہ وہ کسی دوسرے سیاستدان کے ساتھ بات چیت کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ان کی جماعت کو اگر قومی دھارے کی سیاست میں دوبارہ واپس آنا ہے تو اسے مذکرات کی میز پر بیٹھنا ہو گا۔

مزیدخبریں