ے مثل درویش، بے مثال دانشور، صاحبِ طرز شاعر اور صاحبِ اسلوب نثر نگار، دِگر دانائے راز قطبِ ارشاد حضرت واصف علی واصفؒ کی آسمانی دانش نے زمین والوں کو حیران سا کر رکھا ہے۔ آپؒ کی دانشِ برہانی نے جہاں اہلِ خرد کی گنجلگ گتھیاں سلجھائی ہیں، وہاں اہلِ جنوں کے جذبِ دروں کا سامان بھی کیا ہے آپؒ کے لفظوں کی بُنت، فقروں کی بندش اور اسلوب کی کشش .... فکر کے آوارہ پنچھی کو تہذیب و اخلاق کے دام میں لے آئی ہے۔ آپؒ ایک ایک فقرہ .... فکر کا مکمل سفر ہے۔ آپ کا ایک فقرہ، مکمل فقیر بنانے پر قادر ہے۔ ایک جملے کے کوزے میں معانی کا قلزم سمیٹ دینا آپؒ کے اسلوبِ بیان کا وصفِ خاص ہے۔
حضرت واصف علی واصفؒ کی جائے پیدائش خوشاب ہے، نسب اعوان اور قبیلہ کنڈان۔ محققین کے مطابق اعوان قبیلے کے جدِّ امجد حضرت عباسؓ بن علیؓ بن ابی طالب ہیں۔ 1929ءکی جنوری تھی، اور تاریخ 23 .... جب ملک محمد عارف اعوان کے ہاں ایک فرزند نے آنکھ کھولی جس نے علم و عرفان کے میدان میں جھنڈے گاڑ دئیے۔ ابتدا میں ملک محمد واصف کہلائے اور بالآخر اپنے جدِّ امجد سیّدِ مرتضیٰؓ شیرِ خدا کے روحانی تصرف سے اپنے نام اور کام دونوں میں واصف علی واصفؒ کہلائے۔ اگرچہ ریڈیو اور ٹی وی پر آپؒ کی تاریخِ پیدائش 15 جنوری لکھی اور پڑھی جاتی ہے ، کیونکہ یہ تاریخ آپؒ کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر درج تھی، لیکن پی ایچ ڈی کے مقالے میں، محققین نے جنوری 1929 کے خوشاب میونسپل کمیٹی کے ریکارڈ کی روشنی میں 23 جنوری رقم کی ہے۔ اس پرانے ریکارڈ کا دستاویزی ثبوت او ر ان کی نقول بھی مقالے میں مہیا کی گئی ہیں۔ اسی تاریخ پر آپؒ کے برادرِ خورد مرحوم پروفیسر شوکت محمود کنڈان نے بھی گواہی دی تھی۔ انہوں نے ”واصف خیال“ میگزین میں اپنی ایک تحریر بعنوان ” .... بھائی جان!“ میں یہ تاریخ گنوائی تھی۔ ڈاکٹر زاہد اختر شاہین کی کتاب ”شہیدِ جلوہِ میم“ میں یہی تاریخ درج ہے۔
ابتدائی تعلیم خوشاب میں اور سیکنڈری تعلیم اپنے نانا کے زیرِ سایہ جھنگ میں حاصل کی۔ ازاں بعد، لاہور منتقل ہو گئے۔ مادرِ علمی میں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ اور گورنمنٹ کالج لاہور بھی شامل ہیں۔ آپؒ نے پرانی انارکلی میں”لاہور انگلش کالج“ کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا جہاں بی اے اور ایم اے کے طلبا کو انگریزی کی تعلیم دی جاتی۔ اسی کالج میں رات گئے روحانی مجالس بپا رہتیں۔ یہ کالج ادیبوں، شاعروں اور درویشوں کے لیے ایک
نشست گاہ بھی تھی اور تزکیہ گاہ بھی۔ نعتیہ مشاعرے کی روایت بھی یہاں تادیر قائم رہی۔
دانشور طبقے سے اصلاحی مکالمے کاآغاز اگرچہ ایک عرصے سے شروع تھا، لیکن 1979ءمیں لاہور انگلش کالج کی تعلیمی سرگرمیاں موقوف کرنے کے بعد آپؒ نے حکمت و معرفت کی محافلِ گفتگو کی طرف بھر پور توجہ مرکوز کر دی۔ ہفتے میں دو دن سوال و جواب کی محافل بپا ہوتیں جس میں ہر طبقہِ زندگی سے تعلق رکھنے والے متلاشیانِ حق والہانہ شرکت کرتے۔ ان ہی سوال و جواب کی محافل کی ٹرانسکرپشن پر مشتمل کتابوں کا سلسلہ تادمِ تحریر ”گفتگو“ کے نام سے 38 کتب تک پھیل گیا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
آپؒ کی تحریر اور گفتگو کے مرکزی موضوعات .... حق آگہی، تزکیہ نفس، اخلاقیات، خدمتِ انسانیت، پاکستانیت، وحدتِ ملّت اور حُبِّ رسول ہیں۔ محققینِ فکر و فن نے اپنے تحقیقی مقالوں میں آپؒ کو ”مصلحِ پاکستان“ کا خطاب دیا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے آپؒ کا موقف بہت واضح ہے، پاکستان اور اہلِ پاکستان کے اچھے مستقبل کی نوید آپؒ کی گفتگو اور تحریر کا مستقل حصہ ہے۔ آپؒ ہی کا معروف جملہ ہے: ”پاکستان نور ہے، اور نور کو زوال نہیں“ .... اسی جملے کی وضاحت میں آپؒ فرماتے ہیں”آپ ہی کی بخشی ہوئی نورِ ایمان کی روشنی میں پاکستان بنا اور آپ ہی کے فیضِ نظر سے اس کا قیام و دوام ممکن ہے“۔ پاکستان اور اسلام کا رشتہ اٹوٹ ہے۔ آپؒ کا فرمان ہے: ”اس ملک کی خدمت دراصل اسلام کی خدمت ہے“۔ مضامینِ واصف جس فکر و عمل کی شاہراہ کی طرف لے جاتے ہیں، وہ سوئے مدینہ و نجف جاتی ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ اس راہ پہ چلنے والوں کی آنکھوں میں خاک مدینہ و نجف کا سرمہ لگ جاتا ہے اور وہ دانشِ فرنگ سے خیرہ نہیں ہوتیں۔
اسلوب میں جدید اور تاثیر میں قدیم، تحریرِ واصفؒ روحِ اسلام سے آگہی کی کلید ہے۔ عصرِ حاضر کے جملہ فکری اشکالات فکرِ واصفؒ کی روشنی میں خوب رفع ہوتے ہیں۔ تصوف روِحِ دین ہے اور واصفیات روحِ تصوف ہے۔ قطبِ ارشاد حضرت واصف علی نے ایک دل نشیں مائدہ ادب بچھایا ہے اور اس پھر اس پر اشعار، اقوال اور مضامین کی صورت میں جو قابیں چنی ہیِں، ان میں روحِ دین ہے۔ یہ فکر جسے ہم واصفیات بھی کہتے ہیں، اہلِ خرد کی فکر کو فراوانی اور اہلِ جنوں کو جولانی دے رہا ہے۔ ایک صوفیِ کامل کے ہاں یہی دستور پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے دور کے طلب اور تقاضوں کے مطابق، اپنے عہد کے اسلوبِ بیان کے مطابق فکرِ اسلام سے لوگوں کے قلوب و اذہان کا منور کرتا چلا جاتا ہے۔ اسلام دینِ فطرت ہے اور صوفی فطرت کی آواز ہوتا ہے۔ آپؒ کے ہر قول اور ہر شعر کے پس منظر میں کسی قرآنی آیت یا حدیثِ کا نور جھلملا رہا ہے۔ اقبالؒ کے بعد اس دھرتی پر جو احسان ہوا ہے اس کا نام واصف علی واصفؒ ہے۔ علمی و ادبی حلقوں میں اقبالیات کی طرح واصفیات بھی ایک مخصوص صنف فکر و سخن کے طور پہچانی جاتی ہے۔ بقول جان کاشمیری:
فکرِ واصفؒ سے ہر اک سوچ سجی لگتی ہے
یہ صدی حضرتِ واصف کی صدی لگتی ہے
متعدد یونیورسٹیوں میں واصفیات پر پی ایچ ڈی کے مقالہ جات ہو چکے ہیں ۔ پہلا مقالہ بعنوان ”واصف علی واصفؒ .... فن اور شخصیت“ آج سے قریباً دس ایک برس قبل ڈاکٹر زاہد اختر شاہین نے مکمل کیا تھا۔ ایم فل سطح کے مقالے درجنوں کی تعداد میں تحریر ہو چکے ہیں۔ یہ مقالہ جات شعبہ اردو اور شعبہِ اسلامیات دونوں میں تحریر کرائے گئے ہیں۔ ابھی حال ہی میںلاہور یونیورسٹی میں شعبہ اسلامیات کی طرف سے ذیشان دانش صاحب نے ”فکرِ واصفؒ کے قرآنی ماخذ“ کے عنوان سے ایم فل کا مقالہ مکمل کیا ہے۔ آپؒ کی اختصار نویسی پر بھی ایم فل ہو چکے ہیں۔ واصفیات نے ہمارے معاشرے کی نفسیاتی اور اخلاقی ہیئت پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں، شعبہِ نفسیات والوں نے اس پر الگ سے ریسرچ پیپر شائع کیے ہیں۔
اگر چہ سوشل میڈیا میں اقوالِ واصفؒ نے ایک دھوم مچا رکھی ہے، لیکن کتاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ آپؒ کے فرمودات aphorism پر مشتمل کتب ”کرن کرن سورج“، ”بات سے بات“ اور ”واصف جہان دریچے“ ہیں۔ نثر پاروں پر مشتمل ”کرن کرن سورج“ آپؒ کی طبع زاد ہے، جبکہ ”با ت سے بات“ اور ”واصف جہان دریچے“ آپؒ کی تصانیف اور گفتگو سے منتخب نثر پاروں پر مشتمل کتابیں ہیں۔ 1984ءسے تادمِ وصال روزنامہ ”نوائے وقت“ میں شائع ہونے والے ”گفتگو“ کے عنوان سے ہفتہ وار کالم ، اگرچہ کہنے کو کالم تھے لیکن یہ قارئین کے ساتھ ایک اصلاحی اور فکری مکالمے تھے۔ ان کالموں پر مشتمل تین کتب شائع ہو چکی ہیں۔ ”دل، دریا سمندر“، ”قطرہ قطرہ قلزم“ آپؒ کی حیاتِ ظاہری ہی میں منظرِ عام پر آ چکی تھیں، جبکہ ”حرف حرف حقیقت“ بعد اَز وصال شائع ہوئی۔ ان کتب کے انگریزی تراجم بھی مکمل ہو چکے ہیں۔
مضامینِ واصفؒ کا مطالعہ کریں تو غالب کا یہ شعر از خود اپنے معانی آشکار کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ غالب الکلام مرزا اسداللہ غالب نے کیا خوب کہا تھا:
”آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں“
مضامینِ واصفؒ
09:02 AM, 7 Jan, 2026