امریکہ نے وینزویلا پر حملہ کر کے اس کے صدر کو ان کی بیوی سمیت اغوا کر لیا ہے۔ وینزویلا میں دنیا کے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب کے ذخائر سے بھی زیادہ تیل یہاں پایا جاتا ہے۔ امریکہ نے ہوائی حملہ کر کے یہاں تباہی مچائی۔ خوف و ہراس پیدا کیا اور اسی دوران صدر کو اس کی بیوی سمیت اُچک لیا۔ واہ واہ امریکی طاقت کی دھاک بیٹھ گئی۔ عالمی و علاقائی میڈیا پر امریکی فتح کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اب ایران کی باری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کھلے عام کہا ہے کہ اگر ایرانی حکومت نے مظاہرین پر طاقتور کریک ڈاﺅن کیا تو امریکہ انہیں بچانے آئے گا۔ واہ جی واہ امریکہ بہادر کی بہادری اور عسکریت کے چرچے ہو رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ جو چاہے کر سکتا ہے لیکن یہ ایک تاثر ہے حقیقت کا ایک جزو ہے۔ پوری حقیقت نہیں ہے۔ امریکہ 2001ءمیں پوری قوت اور شان و شوکت کے ساتھ، اپنے درجنوں اتحادیوں کی افواج کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہوا تھا۔ 20سال تک طالبان کے ساتھ نبرد آزما رہا لیکن ان کی طاقت اور آزادی کی خواہش کو ختم نہیں کر سکا، انہیں شکست نہیں دے سکا۔ 2022ءمیں دم دبا کر بھاگا اور افغانستان پر ایک بار پھر انہی طالبان کی حکومت قائم ہو گئی جنہیں امریکی صدر جارج بش نے چوہے کہا تھا۔ امریکہ ایک بڑی عسکری طاقت ہے، اس کی جنگی مشین لاریب دنیا میں مانی جاتی ہے لیکن فتح و شکست کا فیصلہ صرف جنگی مشین کے ذریعے نہیں ہوتا ہے ، فتح کے لئے کئی دیگر عوامل کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ کسی بھی جنگ میں اسلحی و تکنیکی برتری کے ساتھ ساتھ اخلاقی برتری کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ جنگ جن مقاصد کے حصول کے لئے چھیڑی جاتی ہے، اگر ان کا اخلاقی جواز نہ ہو تو صرف اسلحے کے بل بوتے پر جنگ لڑی تو جا سکتی ہے لیکن جیتنا اتنا بھی آسان نہیں ہوتا ہے جتنا امریکی صدر سمجھ رہے ہیں اور جس طرح امریکی فتح و نصرت کی باتیں کی جا رہی ہیں، جس طرح اب ایران کی باری ہے کی گردان کی جا رہی ہے۔ وہ اتنا آسان نہیں ہو گا جتنا کہا اور سمجھا جا رہا ہے۔ زیادہ دور نہ جائیے گزشتہ صدی کی سرد جنگ کو ہی لے لیں۔ کیوبا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ 1959ءمیں 33 سالہ سوشلسٹ انقلابی فیڈول کاسترو نے کیوبا پر قابض امریکی پٹھو حکمران کا تختہ الٹ کر حق حکمرانی حاصل کیا اور پھر سب سے پہلے امریکی آئل کمپنیوں اور بینکوں کو قومی تحویل میں لیا اور زمین کسانوں میں بانٹ دی اور سوویت یونین کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کئے۔ امریکی صدر آئزن ہاوور نے سی آئی اے کو حکم دیا کہ کاسترو کو ختم کر دیا جائے۔ 1961ءمیں سی آئی اے نے آپریشن شروع کیا۔ 1400 کیوبن پناہ گزینوں کو فوجی تربیت دے کر خلیج سور (Bay of Pigs) میں داخل کیا۔ کاسترو نے 72 گھنٹوں کے اندر اندر اس حملے کو ناکام بنا دیا۔ ساری کارروائی ٹی وی پر دکھائی گئی۔ امریکہ کی عالمی سطح پر رسوائی ہوئی۔ امریکہ نے حکمت عملی بدل ڈالی۔ اب صرف کاستروکو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا گیا، اس کی خوراک میں زہر دے کر ہلاک کرنے کی کاوشیں ناکام ہوئیں۔ سگار میں بارودی مواد ڈال کر ہلاک کرنے کی منصوبہ سازی کی گئی۔ تیراکی سوٹ میں زہر بھر کر مارنے کی کاوشیں ناکام ہوئیں، اس کی ایک دوست کو خریدا گیا کہ وہ اسے ہلاک کرنے کے منصوبے میں شامل ہو۔ مافیا کی خدمات حاصل کی گئیں۔ کار بموں کے ذریعے اسے ہلاک کرنے کی کاوشیں بھی کامیاب نہیں ہو سکیں۔ امریکی صدور بشمول جے ایف کینیڈی، لینڈن بی جانسن، نکسن، فورڈ، کارٹر، ریگن، بش، کلنٹن، بش، اوباما، گیارہ امریکی صدور فیڈرل کاسترو کو ہلاک کرنے اور اس کی حکومت کے خاتمے کی کاوشیں کرتے رہے لیکن انہیں کامیابی نہیں ہو سکی۔ 600 منصوبوں کی ناکامی کے بعد نومبر 2011ءمیں کاسترو اپنے خاندان کی معیت میں 90 سال کی عمر میں طبعی موت مرا۔ امریکہ 60سال تک اس کے خلاف نبرد آزما رہا لیکن کامیاب نہیں ہو سکا، اس عرصے کے دوران کاسترو اپنے عوام کے لئے کام بھی کرتا رہا۔ ضروریات اور سہولیات کی فراہمی میں مصروف رہا، اسے اپنی عوام کا اعتماد حاصل رہا۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے بعد کیوبا گر جائے گا، پتہ نہیں کیسے؟۔
وینزویلا میں امریکی کامیاب ہو گئے، اس لئے نہیں کہ وہ بہت بڑی طاقت تھے بلکہ اس لئے کہ یہاں کے عوام اپنے حکمرانوں سے مطمئن نہیں تھے۔ تیل کی دولت ہونے کے باوجود عوام بنیادی ضروریات و سہولیات سے محروم ہیں، انہیں اپنے حکمرانوں پر اعتماد نہیں ہے۔ امریکہ ایران میں ابھی تک کامیاب کیوں نہیں ہو سکا ہے؟ وہاں کی تھیوکریسی کو منظر سے ہٹانے میں کامیاب کیوں نہیں ہو سکا ہے؟ امریکی و اسرائیلی سازشیں ابھی تک کامیاب کیوںنہیں ہو سکی ہیں؟ وجہ وہاں کا نظم حکمرانی ہے جس پر عامة الناس کو اعتماد ہے۔ صدر کوئی بھی ہو لوگ اس کے خلاف ہو سکتے ہیں۔ حکومت وقت کے خلاف بھی ہو سکتے ہیں لیکن نظام موثر اور مضبوط ہے اور لوگ اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ ایران میں ایک احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حکومتی پالیسیوں کے خلاف، مہنگائی کے خلاف، بیروزگاری کے خلاف، ایک ہمہ گیر تحریک جاری ہے۔ عوام مطمئن نہیں ہیں، پریشان حال ہیں۔ انہیں اپنی حکومت پر اعتماد نہیں رہا ہے کیونکہ وہ انہیں ضروریات و سہولیات فراہم نہیں کر سکی ہے۔ امریکہ اس شے کو دیکھتے ہوئے ایران کے خلاف علی الاعلان دھمکیوں پر اتر آیا ہے۔ حملہ آور ہونے کا امکان نظر آنے لگا ہے۔ عوام حکومت کے خلاف ضرور ہیں لیکن نظم حکمرانی کے ساتھ ہیں۔ یہ ایران ہی ہے جس نے اسرائیل پر راکٹ باری کر کے اس کے دفاعی نظام کو مفلوج کر دیا تھا۔ اسرائیل کی چیخیں نکلوانے والا ایران ہی تھا۔ ایران میں 46سال سے تھیوکریٹک حکومت قائم ہے۔ امریکی، یورپی اور دیگر عالمی پابندیوں کے باوجود حکمرانی کا یہ نظم قائم ہے۔ حکمران بدلتے رہتے ہیں۔ ایران نے
تمام منفی حالات کے باوجود جس طرح عزم و ہمت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ مثالی ہے، اس کی مشرق وسطیٰ کی سیاست میں اہمیت کم نہیں ہوئی ہے۔ غزہ میں حالیہ اسرائیلی بربریت نے عربوں کے دل ہی زخمی نہیں کئے بلکہ ان کے دماغ بھی متحرک کر دیئے ہیں۔ حماس نے جس پامردی کا ثبوت دیا ہے وہ بھی مثالی ہے۔ اسرائیل تمام تر جبر و ہلاکت خیزی کے فلسطینیوں کی ہمت توڑ نہیں سکا ہے۔ حماس قائم و دائم ہے اور اسرائیل کے لئے آج بھی اتنا ہی بڑا خطرہ ہے جتنا بڑا کل تھی۔ مغربی عسکری برتری کا بھرکس مئی کی 4 روزہ پاک بھارت جنگ میں نکل گیا ہے۔ خطے میں جس طرح اسرائیل امریکی لے پالک ہے بالکل اسی طرح امریکہ اس خطے میں ہندوستان کی پرورش کرتا رہا ہے۔ اسے عسکری و تکنیکی طور پر مضبوط بناتا رہا ہے لیکن پاکستان نے 4 روزہ جنگ میں نہ صرف بھارتی طاقت کا بت پاش پاش کر دیا بلکہ مغربی عسکری برتری کو بھی شدید زک پہنچائی ہے۔ امریکہ تنہا سپریم طاقت نہیں ہے۔ عالمی منظر تبدیل ہو رہا ہے بلکہ تبدیل ہو گیا ہے۔ وینزویلا میں جو کچھ ہوا وہ امریکی طاقت منوانے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ امریکہ ایسی ہی کاوش کہیں اور بھی کر سکتا ہے۔ یہ کیوبا بھی ہو سکتا ہے، ایران بھی لیکن انجام کار امریکی ہزیمت نوشتہ دیوار بن چکی ہے۔
وینزویلا پر حملے کے بعد .... امریکی ہزیمت نوشتہ دیوار ہے
09:02 AM, 7 Jan, 2026