اسلام آباد : کوآرڈینیٹر قومی پیغامِ امن کمیٹی حافظ طاہر محمود اشرفی نے علماء و مشائخ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ ترلائی میں سجدہ کرنے والوں کو نشانہ بنانے والے انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔
حافظ طاہر اشرفی نے پمز ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کے موقع پر جذباتی مناظر کا ذکر کرتے ہوئے کہامیری زندگی میں یہ پہلا موقع تھا جب تمام مذاہب کے نمائندے ایک ساتھ زخمیوں کے سرہانے موجود تھے، جسے دیکھ کر میری آنکھیں بھر آئیں۔
انہوں نے کہا کہ دشمن ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن پاکستانی قوم نے ہسپتالوں میں خون کے عطیات دے کر ثابت کر دیا کہ ہم ایک جسم کی مانند ہیں۔
حافظ طاہر اشرفی نے افغان سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہم نے دہائیوں تک افغانستان کے لیے قربانیاں دیں، مگر آج قوم سوال کر رہی ہے کہ کیا ان قربانیوں کا بدلہ پاکستان میں کارروائیوں کی صورت میں ملے گا؟ ہم افغانستان کو بھائی سمجھتے ہیں، مگر وہاں سے ہونے والی مداخلت اب ناقابلِ برداشت ہے۔
پریس کانفرنس میں یہ بات زور دے کر کہی گئی کہ پیغامِ پاکستان کے تحت تمام مکاتبِ فکر کا متفقہ فتویٰ ہے کہ معصوموں کا خون بہانے والے اسلام کے باغی ہیں۔حملہ کرنے والوں کے پیچھے عالمی سطح پر پاکستان دشمن قوتیں ملوث ہیں۔
علماء و مشائخ اپنے سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے تک ان کے شانہ بشانہ رہیں گے۔
مذہبی قیادت دہشت گردی کے خلاف متحد: حافظ طاہر اشرفی
10:32 PM, 7 Feb, 2026