قدم بڑھاﺅ نوازشریف، ناراض بلوچوں کو مناﺅ 

09:23 AM, 7 Feb, 2026

پاکستان اصلاً حالت جنگ میں ہے، آپریشن سندور جاری ہے، مودی پاکستان کے ہاتھوں مئی 2025 کی عبرتناک شکست کا بدلہ لینے کی تیاری کر رہا ہے، بھرپور تیاری، جنگی بنیادوں پر تیاری کر رہا ہے۔ اس نے حربی و ضربی سازوسامان کی خریداری کے لئے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، سرکاری مال کی خریداری کے لئے سرکاری ضوابط معطل کر دیئے گئے ہیں، ہنگامی بنیادوں پر سازوسامان خریدنے کے لئے تمام ضوابط معطل کر دیئے گئے ہیں۔ پاکستان کو سبق سکھانے کے لئے سندور ٹو شروع کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان میں حالیہ 12 شہروں پر منظم طریقے سے کئے جانے والے حملے اسی کی کارستانی ہے، بھارت اور اسرائیل مل جل کر پاکستان کو سبق سکھانے کے در پے ہیں۔ ایک مسلم ملک کی بھی ایسی ہی خواہش ہے اور وہ بھی اس تخریب کاری کا حصہ ہے۔ دشمن کے پی اور بلوچستان کو دہشت گردوں کے ذریعے غیرمستحکم کر رہا ہے۔ پاکستان کو لہولہان کیا جا رہا ہے، بظاہر دشمن کی کاوشیں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔
لیکن سلیوٹ ٹو پاک فوج۔ دنیا کے ماہرین دہشت گردی کے معاملات پر نظر رکھنے والے حیران ہیں کہ پاک فوج نے کس طرح 72 گھنٹوں کے اندر اندر 12 شہروں سے دہشت گردوں کا نہ صرف صفایا کر دیا بلکہ ان کے نیٹ ورک اور سپلائی لائن کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ اتنا بڑا آپریشن، دہشت گردی کا آپریشن، ایک منظم فوج کی طرح جدید ترین ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کا منظم طریقے سے کیا جانے والا کامیاب حملہ اتنی سرعت کے ساتھ اتنی مہارت کے ساتھ کس طرح ناکام بنا دیا گیا۔ سوا دو سو سے زائد دہشت گرد جہنم واصل کر دیئے گئے۔ ہم ہی اپنی فوج پر نازاں نہیں ہیں بلکہ عالمی ماہرین بھی اس کامیابی کو قابل تحسین قرار دے رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے پشتباں حیران و پریشان ہیں کہ ان کی پلانٹڈ دہشت گردی کس طرح نیست و نابود ہو گئی ہے۔ پاک فوج زندہ باد۔
ہماری فوج ایک پیشہ ور منظم فوج کے طور پر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے قربانیاں دے رہی ہے اسے کامیابیاں بھی مل رہی ہیں لیکن دہشت گردی کے خاتمے کے لئے یہ حتمی ہرگز نہیں ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے صرف فوجی آپریشن حل نہیں ہے اس کے لئے سیاسی سطح پر بھی کاوشیں کی جانی چاہئیں۔ قوم کو اس پورے عمل میں ساتھ شامل کرنا بھی ضروری ہے۔ فوج کی کامیابیوں پر تحسین و تعریف کافی نہیں ہے بلکہ فکری و نظری طور پر بھی مہم جوئی کی جانی چاہئے۔ دہشت گردوں کے خلاف گلی گلی، گاﺅں گاﺅں، شہر شہر آواز بلند ہونی چاہئے۔ قوم صرف فوج کی کامیابی کا نظارہ ہی نہ کرے بلکہ دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے بھی تیار ہو۔ رائے عامہ منظم ہو، بیانیہ تشکیل پائے اور پھر دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ہمدردوں کو سر چھپانا مشکل ہو جائے۔ صوبہ بلوچستان اور کے پی میں ریاست پاکستان کے ہمدردوں کو فکری و عملی طور پر منظم کئے جانے کی ضرورت ہے۔ آئین پاکستان کے پاسداران، بلوچوں و پشتونوں کو ایک میز پر بٹھانے، انہیں فکری طور پر منظم کر کے دہشت گردی کے خلاف میدان عمل میں اتارنے کی اشد ضرورت ہے۔ فوج پر دباﺅ بڑھتا چلا جا رہا ہے فوج کی کامیابیاں دیرپا نتائج نہیں لا سکتی ہیں۔ دہشت گردی کا دیرپا حل سیاسی عمل میں ہے۔ محب وطن قوتوں کو منظم کر کے دہشت گردی کے خلاف فکری میدان میں لانچ کرنے میں ہے، ہماری موجودہ اتحادی حکومت یہ سب کچھ کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے، ذہن سازی اور بیانیہ تشکیل کرنے کی ذمہ داری بھی فوج کے سر ڈالی جا چکی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر اپنے تئیں یہ ذمہ داری پوری کرنے کی کاوش کر رہے ہیں۔ وہ تعلیمی اداروں میں جا کر خطاب بھی کر رہے ہیں، پریس کانفرنسوں کے ذریعے صحافیوں کا سامنا بھی کرتے ہیں لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ سیاستدانوںکو اپنا کام کرنا پڑے گا، دانشوروں کو اپنے محاذ پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ وقت آن پہنچا ہے کہ قلم کو بندوق بنا لیا جائے، دشمن کے بیانیے کے مقابلے طاقتور بیانیہ پھیلایا جائے نہ صرف ریاست کے خلاف بیانیے کی نفی کی جائے بلکہ قوم کو قومی بیانیے پر اکٹھا کیا جائے۔ منظم کیا جائے۔ فکری محاذ پر جنگ کے لئے تیار کیا جائے۔ 
بلوچستان کے بلوچوں و پشتونوں کے ساتھ مذاکرات کرنے، ان کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنے کے لئے جس طاقتور اور قابل قبول سیاستدان کی ضرورت ہے وہ محمد نوازشریف ہو سکتے ہیں۔ عمران خان کے نامزد کردہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اس حوالے سے نوازشریف کا نام لے چکے ہیں۔ مینگل، بگٹی، مزاری وغیرہم پہلے بھی نوازشریف کی سیادت پر یقین رکھتے ہیں۔ بلوچستان میں ن لیگی محمد مالک کی حکومت کے دور میں دہشت اور وحشت گردی کو نکیل ڈالی جا چکی تھی اگر یہ دور چلتا رہتا تو شاید بلوچستان میں ایسا کچھ نہ ہوتا جو آج کل ہو رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کی اتحادی حکومت کو ”باپ“ کے ذریعے ناکام بنایا گیا تھا۔ اب حالات جہاں تک جا پہنچے ہیں اور بگاڑ جس سطح تک آن پہنچا ہے ان سے نمٹنے کے لئے کثیر جہتی کاوشوں کی ضرورت ہے۔ فوج اپنا کام انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ کر رہی ہے۔ اس کے مثبت نتائج بھی نکل رہے ہیں لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ سیاسی ڈائیلاگ، قومی بیانیے کی تشکیل، محب وطن بلوچوں کی ناراضی ختم کرنے اور انہیں دہشت گردوں کے خلاف آمادہ پیکار کرنے کے لئے جس ذہن اور صلاحیت کی ضرورت ہے وہ سیاستدانوں کے پاس ہے لیکن وہ اسے بروئے کار نہیں لا رہے ہیں حکمران اتحاد سب کچھ کر رہا ہے لیکن بلوچستان کے معاملات کو سدھارنے کی ساری ذمہ داری فوج کے کندھوں پر ڈالی جا چکی ہے جو درست نہیں ہے۔ محمد نوازشریف کو ملک و قوم کی خاطر، وطن عزیز کی سالمیت کی خاطر ایک بار پھر میدان سیاست میں اترنا پڑے گا۔ اپنی سیاست قربان کرنے کے لئے نہیں بلکہ اسے مزید نکھارنے کے لئے انہیں ناراض بلوچوں کو منانے کے لئے، ان کے ساتھ مل بیٹھنا ہو گا۔ پاکستان کے نقشے پر بلوچستان سب سے واضح اور گہرا نظر آتا ہے جو بلوچ آئین پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، ان کا ہاتھ تھامنا ہو گا، ان کی ناراضی دور کرنا ہو گی، ان کے گلے شکوے دور کرنا ہوں گے انہیں مرکزی دھارے میں لانا ہو گا، انہیں منانا ہے۔ ایسا کرنا دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بھی ضروری ہے اور پاکستان کی سلامتی کے لئے بھی اہم ہے اور یہ کام محمد نوازشریف کر سکتے ہیں۔ قدم بڑھاﺅ نوازشریف ہم تمہارے ساتھ ہیں۔

مزیدخبریں