1990ءمیں جماعت ِ اسلامی کے اُس وقت کے امیرمردِ جری قاضی حسین احمدمرحوم و مغفور کی تحریک پر ہر سال 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر منانے کا آغاز ہوا تو اب تک اس سلسلے کو جاری رکھے تقریباً پینتیس ، چھتیش سال گزر چکے ہیں۔ پچھلے تقریباً دو عشروں یا اس سے بھی کچھ زائد عرصے سے مجھ کم مایہ شخص کی بھی یہ روایت چلی آ رہی ہے کے ہر سال اس موقع پر کشمیریوں سے یکجہتی کے اظہار اور مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوﺅں کو اُجاگر کرنے کے لئے کوئی چھوٹی موٹی تحریر یا کالم ضرور لکھتا ہوں۔ اس سال 5 فروری اگرچہ گزر چکا ہے لیکن اسی روایت کے تحت یہ کالم لکھا جا رہا ہے۔ سچی بات ہے مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہ ملنے کا ذکر آئے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ایسا کیوں نہ ہو کہ کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی قربانےوں اور ناکامیوں کی اےسی داستان بنی ہوئی ہے جس کی قوموں کی تارےخ مےں مثال ملنی مشکل ہے ۔ کےا اس سے بڑھ کر بھی قربانےاں ہو سکتی ہےں کہ اےک خطہِ ارض پر بسنے والے لاکھوں افراد اپنے اوپر مسلط کی جانے والی غلامی اور جبر و استبداد کے خلاف اتنے طوےل عرصے سے برسر پےکار ہوں، لاکھوں افراداپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہوں بستےوں اور آبادےوں کے قبرستان شہےدوں کی قبروں سے بھرے پڑے ہوں، ظلم وستم اور جبرو استبداد کا بازار گرم ہو اوراسکے خلاف ہڑتالےں احتجاجی مظاہرے، خونرےز ہنگامے اور جلسے جلوس روز کامعمول بنے ہوئے ہوں لےکن پھر بھی اس خطہ ارض پر بسنے والے آزادی، خودمختاری اور اپنی منزل مقصود کو پانے سے محروم ہوں۔ ےہ خطہ ارض جنت نظےر کشمےر ہے جو گزشتہ تقرےباً سات دہائےوں بلکہ اس سے بھی زائد عرصے سے اس المناک صورت حال سے دوچار ہے۔
کشمیر کا مسئلہ ہے کیا ہے اس کو جاننے اور سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تمام پہلوﺅں اور تاریخی و واقعاتی پس منظر اور پیش منظر پر ایک نگاہ ڈال لی جائے۔ برصغیر جنوبی ایشیا میں انگریزوں سے آزادی کی تحریک شروع ہوئی تو کشمیر جہاں مسلمانوں کی آبادی نوے فیصد سے بھی زیادہ تھی اور وہ ڈوگرہ ہندو حکمران خاندان کی حکومت میں بنیادی حقوق سے محروم دوسرے درجے کے شہری بن کر غلامی کی زندگی بسر کررہے تھے اُن میں بھی ہندو ڈوگرہ راجا کی حکمرانی سے نجات پانے اور اپنے حقوق حاصل کرنے کی تحریک بھی شروع ہو گئی۔
مارچ 1940ءمےں لاہور مےں قرار داد پاکستان کی منظوری کے چار ماہ بعد جولائی 1940 ءمےں کشمےری مسلمانوں کی نمائندہ جماعت آل جموں و کشمےر مسلم کانفرنس نے کشمےر کی آزادی کے لئے باقاعدہ قرار داد منظور کی اور اپنے قائد احرار ملت چودھری غلام عباس مرحوم کی قےادت مےں کشمےر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کو اپنی منزل قرار دےا۔ 3 جون 1947 ءکو تقسےمِ ہند کے منصوبے کا اعلان ہوا جس مےں ہندوستان کی نےم خو د مختار رےاستوں کو جو براہِ راست تاجِ برطانےہ کے ماتحت تھےں ےہ حق دےا گےا کہ وہ اپنے جغرافےائی محل وقوع اور اپنے عوام کی خواہشات کا خےال رکھتے ہوئے بھارت اور پاکستان مےں سے کسی اےک کے ساتھ الحاق کر سکےں گی ےا اپنی نےم خود مختار حےثےت برقرار رکھ سکےں گی۔ کشمےر کا ڈوگرہ ہندو حکمران مہاراجہ ہری سنگھ جو کشمےری مسلمانوں کی آزادی کے لےے شروع کی جانے والے تحرےک کی بنا پر مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتا تھا وہ کسی صورت مےں کشمےر کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہےں چاہتا تھا۔ اس صورت حال کو سمجھتے ہوئے کشمےری مسلمانوں کی نمائندہ جماعت آل جمو ں و کشمےر مسلم کانفرنس نے 19 جولائی 1947 ءکو واضح لفظوں مےں ےہ مطالبہ کےا کہ ”چونکہ جغرافےائی ، مذہبی ، تارےخی اور ثقافتی ہر لحاظ سے ےہ ضروری ہے کہ رےاست جمو ں و کشمےر اور گلگت و لداخ کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہو لہٰذا مہاراجہ ہری سنگھ کو خبردار کےا جاتا ہے کہ اگر اُس نے اس کے برعکس کوئی فےصلہ کےا تو کشمےری عوام اُس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونگے“۔
14 اگست 1947 ءکو ہندوستان مےں دو آزاد مملکتوں پاکستان اوربھارت کے وجود مےں آنے کے بعد کشمےرکے پاکستان سے الحاق کے کشمیری مسلمانوں کے مطالبے مےں اور شدت آگئی اور پورے کشمےر مےں مسلمان اس مطالبے کے حق مےں ڈوگرہ راج کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔ پاکستان سے ملحقہ کشمےر کے علاقوں کو ڈوگرہ راج سے آزاد کروالےا گےا اور 24 اکتوبر 1947 ءکوآزاد کشمےر حکومت کا باقاعدہ اعلان کر دےا گےا۔ ڈوگرہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ بھی شروع مےں کشمےر کے بھارت کے ساتھ الحاق کے حق مےں نہےں تھا لےکن بھارتی وزےر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو ،گورنر جنرل لارڈ ماﺅنٹ بےٹن اور بھارتی وزےر داخلہ سردار پٹےل کے دباﺅ پر اس نے 26 اکتوبر 1947 ءکو کشمےر کے بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دےا۔ اور اسکے ساتھ ہی بھارتی فوجےں جو پہلے خفےہ طور پر ڈوگرہ مہاراجہ کی حماےت کے لئے کشمےر مےں موجود تھےں اب کھلم کھلا مسلمان مجاہدےن کوکچلنے کے لےے حرکت مےں آگئےں۔پاکستان کو بھی اپنے فوجی دستے کشمےر مےں بھےجنے پڑے ےکم جنوری 1948 ءکو بھارت کشمےر کا تنازع اقوام متحدہ مےں لے گےا ۔اقوام متحدہ کی کوششوں سے بھارت اور پاکستان کے درمےان جنگ بندی ہو گئی اورطے پاےا کہ کشمیری حقِ خود ارادیت کے تحت اپنے مستقبل کا فےصلہ کرنے مےں آزاد ہونگے اورآزادانہ استصوابِ رائے کے ذرےعے پاکستان ےا بھارت مےں سے جس کے ساتھ چاہےں الحاق کر سکےں گے۔ بھارت شروع مےں اقوام متحدہ کی قرادادوں پر عمل درآمد کرنے کی ےقےن دہانےاں کراتا رہا لےکن بعدمےں وہ کشمےر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے کر ان قراردادوں سے منحرف ہو گےا۔
مسئلہ کشمیر کے اس پس منظر اور پیش منظر اور معروضی حالات و واقعات کے تذکرے سے یقینا اس مسئلے کی نوعیت کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن سچی بات ہے کہ یہ سب نصابی باتیں ہیں اس وقت عملاً صورت حال یہ ہے کہ ہم ایکطرح کے LOOSER (نقصان اُٹھانے والے) اور بھارت WINNER بنا ہوا ہے۔کیا اس صورتحال میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے؟ میرے خیال میں اس صورتحال میں تبدیلی آنے کے کچھ آثار پچھلے سال سے نظر آ رہے ہیں۔ بھارت نے مئی 2025 ءکے پہلے عشرے میں پہلگام واقعہ کو آڑ بنا کر پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا تو اُسے بُری طرح حزیمت اور شکست سے دوچار ہی نہ ہونا پڑا بلکہ اُس وقت سے وہ قوموں کی برادری میں ایک طرح کے دباﺅ اور پسپائی کا بھی شکار ہے۔ پاکستان جو پچھلی تقریباً دو اڑھائی دہائیوں سے قوموں کی برادری بالخصوص عالمِ اسلام میں ایک طرح کی کسمپرسی کا شکار تھا یقینا اُس کی عزت افزائی اورمقام و مرتبے میں اضافہ ہوا ہے۔ اب یہ پاکستان کے حکمرانوں اور قیادت جن میں عسکری قیادت بھی شامل ہے پر منحصر ہے کہ وہ پاکستان کو بتدریج کتنے اُونچے مقام پر لے جاتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ ہو یا عالم سطح پر کوئی دوسرا فورم ہو، وہاں پاکستان کی بات کو رد نہ کیا جاسکے اور اُسے اہمیت دی جائے۔اگلے دن 5 فروری یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لئے جس طرح کی فضا سامنے آئی ہے اُس کے ساتھ پاکستان کے وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف اور آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جن دبنگ خیالات کا اظہار کیا ہے اُن سے بھی کشمیریوں کے لئے اُمید کے چراغ روشن ہوتے نظر آتے ہیں۔
ایک اور یوم یکجہتی کشمیر گزر گیا!
09:21 AM, 7 Feb, 2026