پاکستانی فلم انڈسٹری کی تاریخ دراصل پنجابی فلموں کی ہی تاریخ ہے، اردو اور پشتو میں بھی لازوال فلمیں بنیں مگر میرا موضوع اس وقت فن اور فلم نہیں، سنگیت اور موسیقی ہے نہ ہی فنون لطیفہ۔ اس میں سیاست، ثقافت اور تاریخ کے ساتھ وطن عزیز کے نامور اور معروف صحافی جناب طاہر سرور میر اتھارٹی ہیں۔ اگلے دن ان کا ویلاگ دیکھا جو وطن عزیز کی مایہ ناز پنجابی و اردو فلموں کی ہیروئن اور اداکارہ ممتاز جن کا اصلی نام رفعت قزلباش ہے، کے ساتھ تھا۔ ممتاز نے 1970 سے 1990 تک پاکستان کی سکرین پر راج کیا اور پھر کینیڈا چلی گئیں۔ بھارتی اداکاروں کے ٹک ٹاک میں چھوٹے چھوٹے کلپ آپ دیکھتے ہوں گے، جس میں جیا بہادری ہواو¿ں سے لڑتی دکھائی دیں گی، جتیندر گرتے ہوئے نظر آئیں گے، تقریباً تمام پرانے اداکار بن پیے لڑکھڑاتے نظر آئیں گے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ 1970 سے 1990 کی دہائی کی بس میں سوار تھے جو کسی درخت سے ٹکرا گئی اور نظر نہ آنے والے زخموں سے چور لولے لنگڑے گرتے چلتے دکھائی دیں گے۔ لیکن 50 کی دہائی کے آخر میں پیدا ہونے والی پاکستانی فنکارہ ممتاز بیگم کے چہرے پر رونق ہے، اور کوئی پچھتاوا نظر نہ آیا۔ نہ ہی بھارتی اداکاراو¿ں کی طرح سمارٹ رہنے کے لیے چہرہ ایسے کر لیا ہے جیسے گوشت بھی نوچ لیا ہو اور نہ ہی ہواوں سے لڑتی دکھائی دی۔ کینیڈا میں مکین ہیں آج کل پاکستان میں ہیں ان کے ساتھ ان کا بیٹا زیشان راحیل بھی دیکھا گیا۔ انتہائی ہینڈسم خوبرو نوجوان ہے۔ طاہر سرور میر صاحب سے میرا مسلسل رابطہ رہتا ہے ایک دن میں نے فون کیا تو بتانے لگے، پاجی میں کچہری آیا واں، میڈم ممتاز کے لیے وکیل چاہیے، بات آئی گئی ہو گئی، البتہ میرے پاس اس کیس کے حوالے سے معروف وکیل عقیل شریف سندھو جو صحافت کے استاد نیک نام شخصیت جناب اشرف شریف کے چھوٹے بھائی ہیں، آئے جب کیس پر بات ہوئی تو پتہ چلا کہ ممتاز بیگم کو ان کے دیور خرم نے ہی بلایا کہ باری سٹوڈیو کے مالک ان کے شوہر بیمار ہیں جن کی دو بیویاں اور بھی ہیں تو آپ کے بچوں کا بھی جائیداد میں حصہ ہے وہ آپ لے لیں ہم دینے کو تیار ہیں۔ وہ پاکستان آئیں مگر جائیداد جو 99 کنال تھی اب سکڑ کر 75 کنال رہ گئی ستم ظریفی یہی ہے کہ باقی اراضی نامعلوم کھا گئے، ان کا جو حصہ بنتا تھا غالباً 17 کنال وہ بھی نہ دیا گیا۔ جب انہوں نے اپنے سسرالی رشتہ داروں کا رویہ دیکھا اور ان کے بچوں کو جائیداد میں سے حصہ نہیں دے رہے تو مایوس ہو کر واپس چلی گئیں۔ گویا راحیل باری کا بچوں کو نام تو دیتے ہیں، زیشان راحیل مگر جائیداد نہیں۔ مگر ممتاز کی ممتا کہاں چین پائے انہوں نے جب سنا کہ پنجاب کی انتہائی متحرک اور جاگتی ہوئی منتخب وزیر اعلیٰ جو انتہائی مقبول بھی ہیں اور ان کے والد جناب میاں نواز شریف تین بار کے وزیراعظم، فنکار پرور آدمی ہیں، نے اخبار میں اشتہار دئیے، ٹی وی پر سوشل میڈیا پر دہائی سنی گئی اب کوئی کسی کی جائیداد نہیں ہتھیا سکتا نہ کسی عورت کا حق مار سکتا ہے نہ کسی حق دار اولاد کا۔ ممتاز بیگم سن کر خوش ہوئیں کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ٹریبونلز قائم کر دیئے ہیں جو چند ماہ میں فیصلہ کر دیں گے۔ انہوں نے شاید اپنے حق کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کو درخواست دینے کا ارادہ کیا ہے۔ مجھے یاد ہے فلم بنارسی ٹھگ مجھے گلزار بھائی (گلزار احمد بٹ سابق سپرنٹینڈنٹ جیل حال کوآرڈینیٹر وفاقی محتسب لاہور ریجن) دکھانے کے لیے لائے۔ فلم محض اس لیے یاد نہیں کہ سپر ہٹ فلم تھی بلکہ مجھے اس لیے یاد ہے کہ اپنے آبائی محلہ سے ہم بائیک پر سینما آئے اور میں پورے راستے اللہ سلامت رکھے اپنے گلزار بھائی کو لطیفوں اور جگتوں سے ہنساتے ہوئے آیا اس فلم کے بعد ممتاز بیگم نے راج کیا اور پھر باری سٹوڈیو کے مالک راحیل باری سے ان کی شادی ہو گئی۔ آج ان کے بچے باپ کی جائیداد میں سے اپنا حصہ مانگتے ہیں۔ ممتاز بیگم کی مامتا اپنے بچوں کے حق کے لیے مضطرب اور بے قرار ہے کہ کہیں ان کے بچوں کا حصہ راحیل باری کی دوسری بیویوں اور ان کی اولادوں کو سازش کر کے نہ دے دیا جائے۔ ان کی واحد امید اللہ کے بعد اس وقت پنجاب کی ایک جاندار جاگتی ہوئی وزیراعلی ہیں، فنکار پرور میاں محمد نواز شریف ہیں، وطن عزیز کے سپہ سالار ہیں۔ رہی بات عدلیہ کی ہو سکتا ہے نئے ٹریبونلز میں کوئی فیصلہ جلدی ہو جائے۔ ’اکھ لڑی بدوبدی‘ والی ممتاز کی مامتا آج خون کے آنسو اپنے ہی سینے میں انڈیل رہی ہے۔ ممتا سے مجبور ہو کر ممتاز پاکستان آئی ہیں بھارت میں فنکاروں کی بہت عزت ہے، چلیے ہمارے ہاں فن کی نہ سہی، بیرون ملک پاکستانی کی نہ سہی، ایک اس عورت کی مامتا کی پکار پر اس کے حق کے لیے جو ساری امیدیں اللہ کے بعد وزیر اعلیٰ مریم نواز، فنکار پرور میاں نواز شریف پر اور تحفظ کی علامت سپہ سالار فیلڈ مارشل پر لگا کر آئی ہیں، کے بچوں کو حق ملنا چاہیے کیونکہ پنجاب حکومت کا دعویٰ ہے کہ کوئی کسی کا حق نہیں کھا سکے گا، ناجائز قابض انجام کو پہنچیں گے۔ مگر ذرائع کے مطابق ممتاز بیگم اور ان کے بچوں کو فون پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ پنجاب کے حالات اب مختلف ہیں، محترمہ مریم نوازشریف
نے اپنی کارکردگی کی بدولت سوشل میڈیا پر جعلی مقبولیت والے کلٹ کا قلع قمع کر دیا ہے۔ چند دن پہلے جناب طاہر سرور نے میری ممتاز بیگم سے فون پر بات کرائی میں نے کیس کی بات تو نہ کی البتہ میں نے سوال کیا کہ آپ کے حوالے سے گریٹ ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق سوشل میڈیا پر کوئی ویلاگ دیکھا تھا۔ کہنے لگیں کہ اگر کوئی بے بنیاد باتیں کر کے اپنا چینل بیچ رہا ہے تو اس کی روزی لگی رہنی چاہیے۔ کوئی میری عمر اپنی والدہ کی عمر بتا رہا ہے اور کوئی وطن عزیز کے عظیم رہنما بھٹو صاحب کی بات کر رہا ہے۔ در اصل کسی بھی شعبے کے لوگوں کے چند اکابرین ہوتے ہیں جیسے ہمارے فلم انڈسٹری کے علی زیب تھے۔ میرا شوق تو میرا فن تھا، اگر کسی وقت گریٹ بھٹو نے میرے فن کی تعریف کر دی تو مجھے انہی لوگوں نے بتایا۔ ظاہر ہے یہ میرے لیے اعزاز تھا مگر چونکہ میں سیاسی ہوں نہ تھی، بس ایک فنکار کا ایوارڈ اس کی پذیرائی ہوتا ہے۔ اگر اس لیول پر پذیرائی ملے تو اللہ کا فضل ہے۔ میں خود گریٹ بھٹو کی بہت زبردست مداح ہوں اور انہوں نے ملک کو بہت کچھ دیا۔ میں چاہتی ہوں کبھی اُن کے مزار پر جاو¿ں اور خراج عقیدت پیش کروں۔ اگر میاں نواز شریف فنکار پرور ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دلچسپی رکھتے ہیں فن اور فنکار کو میاں نواز شریف ہو یا عظیم ذوالفقار علی بھٹو سراہنے کے لیے چند الفاظ کہہ سکتے ہیں، ایٹمی پروگرام یا معیشت تو فنکاروں کے ساتھ گفتگو کا موضوع نہیں بن سکتے۔
اکھ لڑی بدو بدی! ممتاز کی مامتا اور مریم نواز
09:20 AM, 7 Feb, 2026