نئے صوبوں کاقیام کیوں ضروری۔؟

09:10 AM, 7 Dec, 2025

یہ حقیقت توسب جانتے اورمانتے ہیں کہ اختیارات کی نچلی سطح پرمنتقلی سے جس طرح عوام کے مسائل حل اورترقی کی راہیں کھلتی ہیں اس طرح اوپرسطح کے اختیارات یاکسی اورطریقے سے نہیں لیکن اس کے باوجودجب ملک میں نئے انتظامی یونٹس اورنئے صوبوں کے قیام کی بات آتی ہے توہم میں سے بہت لوگ ناک چڑھاناشروع کردیتے ہیں۔یہ حقیقت جاننے اورسمجھنے کے باوجودکہ نئے صوبوں کے بننے سے نقصان کوئی نہیںبلکہ فائدے ہی فائدے ہیں پھربھی ملک کی ترقی اورعوام کی خوشحالی کے کچھ دشمن نئے صوبوں کی مخالفت کے لئے میدان میں اترتے ہیں۔سمجھ نہیں آرہی کہ نئے صوبوں کے قیام و نام سے آخر مسئلہ کیا ہے۔؟ اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے تحریک صوبہ ہزارہ کے قائدباباسردارحیدرزمان جن کوہم نے نہ صرف بہت قریب سے دیکھابلکہ خوب پرکھابھی وہ زندگی کی آخری سانس تک صوبہ ہزارہ سمیت ملک میں دیگرنئے صوبوں کے قیام کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ صوبہ ہزارہ کے قیام کے لئے بابانے جو قربانیاں دیں اتنی قربانیاں شائد کسی نے دی ہوں۔ وہ نحیف و کمزور جسم اور بڑھاپے کے باوجود ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے لئے ہر محاذ پر لڑتے رہے۔ ایک دن ہم نے مذاق مذاق میں پوچھا۔ بابا آپ صوبہ کیوں بنانا چاہتے ہیں۔؟ بابا نے ہمارے سوال کاجوجواب دیاوہ آج بھی ہمیں یادہے۔کہنے لگے جوزوی بیٹاکبھی سوچاہے کہ پرندے اپنے لئے گھونسلے کیوں بناتے ہیں۔ جس طرح پرندوں کے لئے گھونسلہ ضروری ہے اسی طرح انسانوں کی ترقی، خوشحالی،تحفظ اورشناخت کے لئے نئی تحصیل،اضلاع اورصوبے بھی ضروری ہیں۔ملک میں جس قدرنئے انتظامی یونٹ اورصوبے بنیں گے اس قدرنہ صرف عوامی مسائل حل ہوں گے بلکہ ملک ترقی اورخوشحالی کی راہ پربھی گامزن ہوگا،ہزارہ کی پسماندگی کی بڑی وجہ صوبہ بننانہیں،ہزارہ صوبہ ہوتاتویہاں یہ مسائل اورعوام کاکایہ حال نہ ہوتا، میری خواہش ہے کہ ہزارہ صوبہ بنے تاکہ یہاں کے غریب و محکوم عوام ان اندھیروں سے نکل سکیں، افسوس زندگی نے باباکے ساتھ وفانہیں کی اوروہ ملک میں نئے صوبوں کاخواب دل میں لئے اس دنیاسے رخصت ہوئے، اب پھر ملک میں نئے صوبوں کا شور سنا تو بابا یاد آگئے۔ ویسے لوکل باڈیزسسٹم اوربلدیاتی انتخابات کانہ کوئی انکارکرتاہے اورنہ کوئی اس کی مخالفت کرتاہے بلکہ ہربندہ یہ کہتاہے کہ لوکل نظام کے ذریعے نچلی سطح پراختیارات منتقل ہوکر گھرکی دہلیزپرعوام کے مسائل بھی حل ہوتے ہیں اورعلاقوں کی ترقی بھی ہوتی ہے۔ بلدیاتی نظام کے ذریعے اگراتناکچھ ہوتاہے توسوچنے کی بات ہے کہ پھرنئے صوبوں کے قیام سے کیاکچھ نہیں ہوگانئے صوبے بننے سے نہ صرف بھرپوراختیارات اورفنڈزبلکہ پوراایک سسٹم مختص اضلاع اورعلاقوں میں منتقل ہوگاجہاں پھرکسی کام کے لئے دورجانانہیں پڑے گااورنہ علاقائی وسائل کہیں اورصرف ہوں گے۔ ہزارہ کودیکھیں اس علاقے میں قدرتی وسائل اوررب کی عطاء کردہ نعمتوں کی کوئی کمی نہیں لیکن اختیارات اوراپناسسٹم نہ ہونے کی وجہ سے ایک طرف جہاں ہزارہ کے وسائل دوسری جگہوں پرلگ رہے ہیں وہیں دوسری طرف ہزارہ کے عوام کوچھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے بھی پشاور اور اٹک پارجاناپڑتاہے۔نئے صوبوں کے قیام سے مرکزاورسسٹم بھی کمزورنہیں بلکہ مضبوط سے بھی مضبوط ترہوگاکیونکہ نئے یونٹ اورصوبے جتنے زیادہ ہوں گے اتناہی مرکزمضبوط ہوگاجس طرح فردکے مقابلے میں افرادکاپلہ بھاری ہوتاہے اسی طرح صوبے کے مقابلے میں صوبوں کی اہمیت اوروزن بھی زیادہ ہے۔آسان الفاظ میں یوں سمجھیں کہ دوالگ خاندان ہیں ایک میں افرادواشخاص پانچ اوردوسرے میں دس ہیں اب خود سوچیں کہ مضبوط اوربڑاخاندان پانچ والاہوگایادس والا۔؟جس طرح پانچ کے مقابلے میں دس کی اہمیت زیادہ 
ہے اسی طرح چاراورپانچ صوبوں کے مقابلے میں اٹھ اور دس صوبوں کی اہمیت و طاقت بھی زیادہ ہو گی۔ اختیارات جتنے نچلی سطح پرمنتقل ہوں گے اس حساب سے مسائل کم اوروسائل بھی زیادہ ہوں گے۔یہ توہمیں نہ جانے نئے صوبوں سے کیا ڈر، خوف اوردشمنی ہے کہ نئے صوبوں کانام سنتے ہی ہم غم وغصے سے کالے پیلے ہوجاتے ہیں ورنہ یہ نئے صوبے یہ کوئی بلاتونہیں بلکہ یہ توترقی اور خوشحالی کا ایک ذریعہ ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا جہاں جتنے زیادہ صوبے اورانتظامی یونٹس ہوتے ہیں وہاں اس حساب سے ترقی کی رفتارتیزہوتی ہے۔ اسی لئے ہم شروع دن سے یہ لکھتے اورکہتے آرہے ہیں کہ ملک میں نئے صوبے بننے چاہئیے مگرہاں یہ صوبے یانئے انتظامی یونٹس قومیت، لسانیت ،سیاست یاذاتیات کی بنیاد پر ہرگز نہیں۔ اس طرح کی سوچ اور خرافات پرلعنت بھیجنے کے سواہمارے پاس نہ پہلے کوئی راستہ تھا اور نہ اب کوئی چارہ ہے۔ پنجاب ہو، خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان یاپھرگلگت بلتستان ان میں رہنے والے سب بھائی بھائی اورایک جسم کی مانند ہیں۔ ہم الگ اضلاع میں رہیں یا الگ صوبوں میں ہمارایہ بھائی چارہ، پیار اور محبت کا رشتہ ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ بحیثیت قوم ہم پہلے بھی ایک تھے ،اب بھی ایک ہیں اور انشاء اللہ تاقیامت ایک رہیں گے۔ ترقی اور خوشحالی کی نیت ہو تو نئے صوبوں کاقیام یہ کوئی جرم اور گناہ نہیں۔ گناہ تو وہ ہے جو ملک و قوم کو لسانی، قومی یا سیاسی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کریں۔ نئے صوبے تو اختیارات کی تقسیم ہے، قومیت اور لسانیت کی نہیں، اس میں تو ہر زبان، رنگ اور نسل کا بندہ رہ سکتا ہے، اس سے ملک اور قوم تقسیم نہیں بلکہ مزید مضبوط اور متحد ہو گی۔ ایک ہی مکان میں رہنے والے بہن بھائی جب الگ الگ مکانوں میں رہنے لگتے ہیں تو کیا اس سے ان کی محبت،بھائی چارہ اورتعلقات کم ہوتے ہیں۔؟ نہیں اور سو فیصد نہیں۔ یہ توقانون فطرت ہے کہ جوں جوں آبادی کی رفتار بڑھتی جاتی ہے اس حساب سے اختیارات بھی آگے منتقل اورتقسیم ہو جاتے ہیں۔ اس لئے صوبہ ہزارہ سمیت ملک میں نئے صوبے یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اوراس کیلئے ہرشخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

مزیدخبریں