ہم اکثر بیماریوں کا رونا روتے ہیں مگر ہماری زندگیوں میں جو سب سے بڑی اور سب سے خاموش بیماری پھیلتی جا رہی ہے، اس کا نام ہے روزمرّہ کی تھکن۔ یہ کوئی عام تھکن نہیں، جسے نیند، آرام یا چند گھنٹوں کی چھٹی دور کر دے۔ یہ ایک ایسی تھکن ہے جو جسم کے ساتھ ساتھ دل پر بھی اثرانداز ہوتی ہے، جو خالی لمحوں میں سانس لیتی ہے اور جو ہر رات کے سناٹے میں ہمارے کندھوں پر ایسے بیٹھ جاتی ہے جیسے کسی نے زندگی کی پوری تاریخ انہی چند گھڑیوں میں لکھ دی ہو۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان آج پہلے سے زیادہ مصروف، پہلے سے زیادہ متحرک ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ پہلے سے زیادہ تھکا ہوا بھی ہے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے پاس کچھ بھی ایسا نہیں جو ہمیں اس قدر تھکا دے،نہ کوئی جنگ، نہ کوئی بھاری مشقت، نہ کوئی پورا دن پہاڑ ڈھونا۔ پھر بھی ہر شخص ٹوٹا ہوا ہے۔ جیسے زندگی ایک غیر محسوس بوجھ بن چکی ہو۔یہ تھکن کہاں سے آتی ہے؟ دراصل اس کے کئی ٹھوس اور کئی نہایت باریک اسباب ہیں جنہیں ہم روز دیکھتے ہیں مگر کبھی ان کی شکل پہچاننے کی کوشش نہیں کرتے۔
ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں صبح کا آغاز ہی دباؤ کے ساتھ ہوتا ہے۔ بجلی کے بل سے لے کر مہنگی دوائی تک، مہنگائی سے لے کر رسوائی تک، ہر چیز ہمیں ایک میراتھن میں دھکیل دیتی ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں ہر شخص مسافر بھی ہے اور اپنا بوجھ خود اٹھانے والا مزدور بھی۔ لوگوں کی زندگیاں مشکلات میں جکڑی ہوئی ہیں اور یہ مشکلات وقت کے ساتھ زندگی کے ڈھانچے میں پختہ ہوتی جا رہی ہیں۔اسی لیے روزمرّہ کی تھکن اب کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں رہی۔ یہ ایک "قومی تہوار" بن چکی ہے اور امیر، غریب، متوسط سب اس کا شکار ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کے پاس تھکن چھپانے کے تین کپڑے ہیں اور کسی کے پاس چھپانے کے الفاظ بھی نہیں۔آج گھروں میں ہر شخص تھکا ہوا ہے۔ مرد دفتر سے آ کر تھک جاتے ہیں، خواتین ذمہ داریوں میں پِس جاتی ہیں، نوجوان بے یقینی میں جلتے ہیں اور بزرگ مایوسی میں خاموش پڑے رہتے ہیں۔ تھکن کا یہ بوجھ نسل در نسل منتقل ہوتا جا رہا ہے۔ بچوں پر بھی وہی تھکن چپکے سے اتر رہی ہے جس کا تعلق نہ سکول سے ہے نہ کھیل سے، بلکہ ہمارے ماحول، ہماری گفتگو اور ہماری زندگی کے دبائو سے ہے۔یہ تھکن صرف جسم کی نہیں یہ دل کی تھکن ہے۔ یہ وہ تھکن ہے جو ہمیں بے ربط، بے یقین اور بے سکون بنا رہی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ زندگی میں سانس لینے کے وقفے بھی ضروری ہوتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں اپنے ساتھ نرم ہونا بھی ایک ضرورت ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کچھ کام ہم چھوڑ بھی سکتے ہیں اور کچھ بوجھ ہم اْتار بھی سکتے ہیں۔
لیکن ہماری روزمرّہ کی زندگی ایسے ڈھنگ سے ترتیب پا چکی ہے کہ اس میں تھوڑا سا آرام بھی جرم لگتا ہے۔ جیسے وقفہ لینا وقت کا ضیاع ہو۔ جیسے خود سے محبت کرنا خود غرضی ہو۔ جیسے خاموش بیٹھنا ناکامی کی نشانی ہو۔ ہم ایک ایسی معاشرتی فضا میں سانس لے رہے ہیں جہاں مسلسل دوڑنے کا نام ہی زندگی ہے اور جو رک جائے اسے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کی لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے۔یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم تھک بھی جاتے ہیں مگر رکنے کی اجازت اپنے آپ کو دیتے ہی نہیں۔ ہم نے اپنی روزمرّہ کی تھکن کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیا ہے۔ اب یہ تھکن ہماری واک، ہماری گفتگو، ہمارے رویوں اور ہماری خاموشیوں تک میں شامل ہو گئی ہے۔اس تھکن کا ایک پہلو معاشی دباؤ ہے لیکن اس کا دوسرا اور زیادہ نقصان جذباتی دباؤ ہے۔ ہر شخص اپنے اندر بھاری سوال رکھ کر چل رہا ہے۔ کیا میں محفوظ ہوں؟ کل کیا ہوگا؟ اگلا مہینہ کیسے گزرے گا؟ یہ سوال ہمارے ذہنوں میں مسلسل گردش کرتے رہتے ہیں اور کسی پرانی ریکارڈنگ کی طرح بار بار بجتے ہیں۔ یہی گونج مسلسل بے چینی، تھکن کو تہ در تہ بڑھاتی ہے۔
پھر ایک مسئلہ ہماری معاشرتی توقعات کا بھی ہے۔ ہم ایک دوسرے کے کندھوں پر ذمہ داریاں، توقعات اور تقاضے رکھتے جاتے ہیں۔ ہم اپنے ہی پیاروں سے، اپنے ہی کام سے، اپنی ہی روزمرّہ کی ذمہ داریوں سے اتنے دب جاتے ہیں کہ کہیں جا کر دل تھک کر بیٹھ جاتا ہے۔اصل المیہ یہ ہے کہ یہ تھکن ہمیں بیمار نہیں لگتی۔ ہم اسے زندگی کا حصہ سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ یہ معمول ہے، سب ہی تھکے ہیں، تو ہم کیوں مختلف ہوں؟ مگر یہی رویہ ایک پوری نسل کو آہستہ آہستہ بے حس اور اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ اس خاموش وبا کا علاج کیا ہے؟سب سے پہلا علاج وقفہ ہے۔ لمحہ بھر رک کر سانس لینا۔ دن میں دس منٹ خود کو دینا۔ ایک کپ چائے، ایک مختصر سی واک، ایک کتاب جو دل کو سکون دے۔ یہ چھوٹے وقفے زندگی میں بڑے زخموں کو بھرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔دوسرا علاج نرمی ہے،خود سے بھی اور دوسروں سے بھی۔ ہم اکثر اپنے ساتھ بہت سخت ہو جاتے ہیں۔ ہم ہر دن سو فیصد پر گزارنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ بعض دن پچاس فیصد پر بھی گزارے جا سکتے ہیں۔ یہ مان لینا کہ ہم انسان ہیں، مشین نہیں، تھکن کم کرنے کی سب سے بڑی شرط ہے۔
تیسرا علاج بات کرنا ہے۔ تھکن، دکھ، دباؤ،یہ سب اندر رکھ کر مزید بھاری ہو جاتے ہیں۔ کسی ایک شخص سے بات کرنا، چاہے وہ والدین ہوں، دوست ہو، بہن ہو، یا کوئی ایسا رشتہ جس کے دامن میں لفظ پہنچ کر اپنا بھرم نہیں کھوتے بلکہ سنبھال لیے جاتے ہیں، شیئرنگ دل پر چڑھی دھند کم کر دیتا ہے اور پھر آخری علاج اپنی زندگی کو ہلکا کرنا ہے۔ کچھ ذمہ داریاں تقسیم کر دینا، کچھ چیزیں چھوڑ دینا، کچھ رشتے تھوڑے فاصلے پر رکھ دینا، کچھ محفلوں سے نکل آنا۔ ہر چیز اٹھانے کے لیے ہم نہیں بنے۔ ہر بوجھ اٹھانا ہمارا فرض نہیں۔زندگی کی خوبصورتی اس میں نہیں کہ ہم کتنا زیادہ کرتے ہیں بلکہ اس میں ہے کہ ہم کتنی محبت کے ساتھ جیتے ہیں اور محبت تھکن میں نہیں جنتی،محبت تو وہاں جنم لیتی ہے جہاں انسان خود کو تھوڑا سا آرام، تھوڑا سا سکون اور تھوڑا سا وقت دیتا ہے۔روزمرّہ کی تھکن کو معمول نہ سمجھیں۔ یہ ایک خاموش وبا ہے۔ اسے پہچانیں، اس کا علاج کریں اور خود کو اسی طرح سنبھالیں جیسے آپ کسی بہت پیارے کو سنبھالتے ہیں کیونکہ آخر میں سب سے زیادہ اہم آپ ہیں اور آپ کا زندہ رہنا صرف جسم سے نہیں، دل سے بھی ہوتا ہے۔
روزمرہ کی تھکن، ایک خاموش وبا
09:09 AM, 7 Dec, 2025