کلٹ۔۔ذہنی مرض

09:08 AM, 7 Dec, 2025

وہ دوست جن کو آج کل سول بالادستی سے زیادہ فوج کی نفرت کا بخار ہے وہ فوج سے نفرت کسی اصول، ضابطے یا بہتری کے لیے نہیں بلکہ صرف اس لیے کر رہے ہیں کہ ان کے لیڈر کو رہا نہیں کیا جا رہا۔ اسی فوج کی آشیرباد سے ان کا لیڈر آج رہا ہو جائے تو یہ نفرت محبت میں بدلتے دیر نہیں لگے گی۔ پی ٹی آئی کے ناقدین اس جذبے کو ’’کلٹ‘‘ کا نام دیتے ہیں اور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے اس کو ذہنی مرض اور عمران خان کو ذہنی مریض بتایا ہے۔ ساتھ ہی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بھی۔ ڈی جی صاحب کی پریس کانفرنس بہت طویل، مدلل اور تاریخی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ پہلی مرتبہ پاک فوج کی طرف سے کسی بھی سیاسی شخصیت کے حوالے سے اس طرح کھل کر بات کی گئی۔ ان کی باتوں کا جواب دیا گیا اور کسی شخص کو باقاعدہ سکیورٹی تھریٹ قرار دیا گیا۔ ڈی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس گھٹیا الزامات اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ذات پر مسلسل اچھالے جانے والے اس گند کے جواب میں تھی جس کا سلسلہ دراز تو ہو ہی رہا تھا، ساتھ ساتھ یہ راگنی پاکستان دشمنوں کے ساتھ مل کر کورس میں گائی جارہی تھی۔ عمران خان دراصل اپنی ذات کے غلام اور کلٹ ہیں۔
یہ کلٹ کیا بلا ہوتی ہے؟ یہ کیسے کام کرتا ہے؟ یہ کیسے افراد کو متاثر کرتا ہے؟ کیا یہ کلٹ مثبت چیز ہے یا منفی ہے؟ کیا یہ معاشرے کو تعمیر کرتا ہے یا تخریب کا باعث بنتا ہے؟ کیا یہ کلٹ انسانی سوچ کو وسعت دیتا ہے یا اس کو تنگ نظر بنا دیتا ہے؟ کیا یہ کلٹ انسان کی ترقی کا ذریعہ ہوتا ہے یا اس کو تنزلی کی کھائی میں لے جاتا ہے؟ یہ سوالات انتہائی اہم ہیں۔ آج ان سوالات کا تجزیہ کر لیتے ہیں۔ کلٹ چونکہ انگریزی زبا ن کا لفظ ہے تو اس کو سمجھنے کے لیے انگریزی لغات کو دیکھ لیتے ہیں۔ آکسفورڈ سے برناٹیکا اور ’’میریم ویب سٹر‘‘ تک جو بھی ڈکشنری اٹھا لیں اس میں اس کلٹ کے ملتے جلتے معانی ہی ملتے ہیں۔ کلٹ کی سٹڈی کریں تو اس کی کچھ تعریفیں یا استعمال مذہب کے علاوہ سیاسی گروپوں کے طورپر بھی ملتی ہیں۔ سیاسی طور پر کلٹ فالوورز ’’ہائی کنٹرول گروپس‘‘ کہلاتے ہیں۔ یعنی ایسے گروپ پر کسی ایک شخصیت یا مخصوص سیاسی نظریات کا اس قدر کنٹرول ہوتا ہے کہ اس کلٹ کی پوجا کرنے والے صرف حکم یا خواہش کے انتظار میں رہتے ہیں۔ وہ کوئی سوال نہیں کرتے۔ یہ لوگ صرف عمل کرتے ہیں۔ ان کو جس طرف لگا دیا جائے یہ بغیر کوئی سوال کے اس طرف لگ جاتے ہیں۔ یہ لوگ اس لیڈر کے علاوہ باقی ہر کسی کی مخالفت کر سکتے ہیں یہاں تک کہ اپنی ذات تک کی نفی کرنی پڑے تو کر دیتے ہیں۔
تاریخ دان جب اس کلٹ کی بات کرتے ہیں تو اس کاپہلا ریفرنس جو دیاجاتا ہے وہ ’’رومن امپیریل کلٹ‘‘ ہے۔ تاریخ دان یہ مانتے ہیں کہ رومن امپائر کا کھڑا ہونا بھی ایک کلٹ ہی کا مرہون منت تھا لیکن بعد میں اس میں اصلاحات لائی گئیں جس سے رومن امپائر کو کلٹ سے نکال کر ایک نظام کے تابع کیا گیا۔ یہ بات واضح ہے کہ کلٹ میں کوئی نظام نہیں ہوتا۔ کلٹ میں لیڈر ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ کلٹ کو جمہوریت کی ضد بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں سب اختیارات صرف ایک شخص کے پاس ہوتے ہیں۔ اس میں نہ کوئی مشاورت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سازی کا پراسس۔
کلٹ کو پہلی بار سٹڈی کا موضوع انیسویں صدی میں بنایا جانے لگا لیکن اس پر باقاعدہ ریسرچ یا لکھے جانے کا کام بیسویں صدی میں کیا گیا۔ 1930 میں کلٹ کو سوشیالوجی کا موضوع بنایا جانے لگا۔ کلٹ کو زیادہ تر لٹریچر یا ریسرچ مضامین میں ایک منفی جذبہ کہا گیا ہے۔ اس کی تعبیر کسی بھی جگہ مثبت نہیں کی گئی۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ کلٹ کی وجہ سے کسی بھی معاشرے میں سدھار کم اور تباہی اور تخریب زیادہ آئی ہے۔
کلٹ جہاں اپنے اندر ایک الگ دنیا رکھتا ہے وہیں اس کلٹ کی مختلف اقسام اور کیٹیگریز بھی بیان کی جاتی ہیں۔ ان اقسام میں ایک قسم کو ’’تباہ کن کلٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ کلٹ کی اس قسم میں انتہاپسندی اس حد تک چلی جاتی ہے کہ اس کا نتیجہ تشدد کی صورت میں نکلتا ہے۔ کلٹ کی یہ قسم اتنی خطرناک ہے کہ اس گروہ کے لوگ آپس میں بھی لڑ پڑتے ہیں اور اپنے ہی گروہ کے لوگوں کو بھی نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرتے۔ اگر ان سے کوئی محفوظ رہتا ہے تووہ ان کا لیڈر ہوتا ہے جس کو سب فالو کرتے ہیں۔ کلٹ کی ایک خوبی یا خامی یہ بھی ہوتی ہے کہ لیڈر وفاداروں کی وفاداری ٹیسٹ کرنے کے لیے خود بھی اپنے نیچے کے لوگوں کو آپس میں لڑوا سکتا ہے۔ یہ لڑائی جھگڑے نچلی سطح تک رکھے جاتے ہیں۔ جب کلٹ کے نیچے عہدوں کی باری آتی ہے تو لیڈر اپنی ہی پارٹی یا گروہ میں اختلافات کو ہوا دیتا ہے اور نیچے والوں کو آپس میں مقابلہ کرنے پر لگا دیتا ہے۔ ایسے میں نیچے والوں کو ایک مصروفیت مل جاتی ہے اور پھر جب جھگڑا حد سے بڑھ جاتا ہے تو جھگڑنے والے اپنی لڑائی اسی کلٹ لیڈر کے سامنے رکھتے ہیں جو اس کا فیصلہ کرتا ہے اور اختلافات ختم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس مشق سے لیڈر کا اپنے اوپر اعتماد اور اتفاق ٹیسٹ ہو جاتا ہے۔
تباہ کن کلٹ کو ’’سائیکوپیتھ سنڈروم‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں کلٹ کے ماننے والے دلیل کی عادت سے کوسوں دور چلے جاتے ہیں۔ جب بحث کرتے ہیں تو موضوع یا دلیل سے نہیں بلکہ اپنے مخالف نظریات رکھنے والے کی شکل دیکھ کر ہی اس کے خلاف رائے قائم کرتے ہیں اور اس کو گالیاں دیتے ہیں۔ آج کل کی سوشل میڈیا کی زبان میں اس کو ’’ٹرولنگ‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ میں نے جب کلٹ کی سٹڈی شروع کی اس پر ریسرچ کی تو اس میں سب سے تکلیف دہ پہلو ایک امریکی کلٹ لیڈر ’’جم جونز‘‘ کی کہانی نکلی۔ سب ہی لکھنے والے اس کو کلٹ سے ہی جوڑتے ہیں۔ یہ ایک اجتماعی خودکشی کا واقعہ ہے جس میں جم جونز کے کہنے پر 900 لوگوں نے زہر کھا کر خودکشی کی جن میں 276 بچے شامل تھے۔
جم جونز 1931 میں امریکی ریاست انڈیانا میں پیدا ہوا۔ جوانی میں چرچ سے وابستہ ہو گیا۔ لیڈری کا شوق چڑھا تو سیاست میں آگیا۔ جم جونز روس کے قریب ہونے لگا۔ جب امریکا کی طرف سے اس کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا تو یہ اپنے فالوورز کو لے کر گیانا آگیا۔ اس نے عوامی ٹیمپل کے نام سے ایک ادارہ بنا لیا اور وہیں سے اپنا نیٹ ورک چلانے لگا۔ امریکی حکومت کو پتہ چلا کہ اس کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں تو امریکی کانگریس نے تحقیقات کے لیے کانگریس مین ’’لیوریان‘‘ کو بھجوایا تو جم جونز نے اس کو قتل کروا دیا۔ اس قتل کے بعد امریکی حکومت نے جم جونز کے نیٹ ورک کو اکھاڑنے کا فیصلہ کیا۔ جب یہ بات جم جونز تک پہنچی تو اس نے سب کو ایک میدان میں جمع کیا اور اپنے کلٹ فالووز کو اجتماعی خودکشی کرنے کا حکم دیا جس میں سب لوگوں نے خود کو قتل کر لیا۔ کلٹ اتنا تباہ کن بھی ہوسکتاہے!

مزیدخبریں