ایم کیو ایم کی سیاست کا ایکشن ری پلے

09:08 AM, 7 Dec, 2025

بلاشبہ لفظی جنگ شروع کرنے والے اور صبر کی آخری حد تک جانے کے بعد اس کا ردعمل دینے والوں کو ایک ہی کیٹیگری میں نہیں رکھا جا سکتا۔ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین ، اس کے میڈیا سیل اور اس کی بہنوں نے جو رویہ اختیار کر رکھا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی با ت نہیں۔ مہینوں اس جا رحانہ طرز عمل کو برداشت کرنے کے بعد اب اگر پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے کوئی ردعمل آ گیا ہے تو وہ بالکل جائز ہے۔ حیرت اور افسوس ان تجزیہ کاروں کے رویے اور ردعمل پر ہے جو اس صورتحال میں دونوں فریقوں کو برابری کی سطح پر ٹریٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔بھلا یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک شخص یا اس کی پارٹی مستقل طور پر نا صرف ملکی اداروں پر الزاما ت اور تہمتیں لگائے، ان کی تنصیبات اور شہدا کی یادگاروں کو نقصان پہنچائے اور سب سے بڑھ کر دشمن ملک کے میڈیا پر بیٹھ کر اس قسم کا بیانیہ بنائے کہ جس سے دشمنوں کی صفوں میں خوشی پھیل جائے اور کوئی اسے منع کرنے یا اس کی زبان کو لگام دینے کی کوشش بھی نہ کرے؟
آج کل جو با ت سب سے زیادہ زیر گفتگو ہے، وہ یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اسٹیبلشمنٹ اور خاص طور پر موجودہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ جو کھلی لڑائی چھیڑ رکھی ہے اسے اس کا کتنا نقصان ہو سکتا ہے؟ عام لوگ، سیاسی تجزیہ کار، حتیٰ کہ وہ لوگ جو سیاست کا زیادہ شعور نہیں رکھتے، وہ بھی یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ آخر یہ لڑائی کہاں جا کر رکے گی،رکے گی بھی یا نہیں؟ اور ،ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی کا انجام بھی ایم کیو ایم جیسا ہی ہونے جا رہا ہے؟
ریکارڈ کی با ت ہے کہ آج تک پاکستان میں کبھی کوئی جماعت اداروں کے ساتھ ٹکر لے کر مضبوط نہیں رہ سکی۔ تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ پیپلز پارٹی نے بھی محاذ آرائی کی قیمت ادا کی، مسلم لیگ ن نے بھی سخت وقت دیکھا، ایم کیو ایم نے تو سب سے زیادہ سختیاں برداشت کیں۔ لیکن آخر میں ان جماعتوں کو لڑائی چھوڑ کر سیاست کی راہ ہی اختیار کرنا پڑی۔
یہ بات درست ہے کہ سیاست میں اختلاف رائے کا حق ہونا چاہیے، سوال ہونا چاہیے، اور جہاں ضروری ہو وہاں طاقتور اداروں پر تنقید بھی ہونی چاہیے، لیکن اس سب کی حد بھی مقرر ہونی چاہیے۔ جب سیاسی اختلاف ذاتی حملوں میں بدل جائے، جب سوشل میڈیا پر اداروں کو نشانہ بنایا جائے، جب پارٹی کے جلسوں میں فوجی قیادت کے نام لے کر بات کی جائے، تو پھر یہ محض سیاست نہیں رہتی بلکہ براہِ راست لڑائی بن جاتی ہے اور پاکستان جیسے ملک میں ایسی لڑائی کبھی بھی ہلکے انداز میں نہیں لی جا سکتی۔ پی ٹی آئی نے جس شدت کے ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خلاف بیانیہ بنایا ہے، اس نے حالات کو بہت تلخ کر دیا ہے۔ اب یہ محض اختلاف نہیں رہا بلکہ کھلی محاذ آرائی بن چکا ہے، اور تاریخ بتاتی ہے کہ اداروں کے خلاف محاذ آرائی ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اور بہت دیرپا اثر رکھتی ہے۔
پی ٹی آئی کا سب سے پہلا نقصان یہ ہوا ہے کہ پارٹی اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ جو راہنما کبھی عمران خان کے ساتھ کھڑے نظر آتے تھے، وہ ایک ایک کر کے الگ ہو چکے یا اس قسم کی منصوبہ بندی میں مشغول ہیں۔ کچھ نے تو نئی جماعتیں بنالیں، کچھ خاموش بیٹھ گئے اور کچھ عملی سیاست سے دور ہو گئے۔ ایک بڑی جماعت کے لیے اس سے بڑا بحران اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کا ڈھانچہ ہی بکھر کر رہ جائے؟ اس صورتحال میں پی ٹی آئی کودوسرا نقصان یہ ہواہے کہ اس پر سیاسی اعتماد ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی جماعت اس وقت تک مضبوط رہتی ہے جب تک اس پر عوام کے ساتھ ساتھ اداروں کا کسی نہ کسی حد تک اعتماد موجود ہو۔ پی ٹی آئی نے اس اعتماد کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔ سیاست میں اعتماد وہ عنصر ہے جس کے بغیر کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اگرآج پی ٹی آئی کسی بھی جماعت سے مذاکرات کی بات کرے تو مخالفین یہی سوال پوچھتے ہیں کہ جو جماعت کل تک سب کے ساتھ لڑائی کر رہی تھی، کیا وہ اب قابل اعتماد ہے؟
یہ تمام سوچیں اور تجزیے اپنی جگہ لیکن جو سوال سب سے زیادہ اہم ہے وہ یہ کہ کیا پی ٹی آئی بھی ایم کیو ایم جیسی صورت حال کا شکار ہونے والی ہے یا یہ اپنے بچاو کی کوئی صورت پیدا کر لے گی؟
ہمیں یا د ہونا چاہیے کہ ایک وقت تھا کہ ایم کیو ایم کراچی کی مضبوط اور طاقتور ترین جماعت تھی، لیکن جب شامت آئی تو اس نے ریاست سے لڑائی مول لے لی۔ نتیجہ ہم سب نے دیکھ لیا۔مین قیادت بیرون ملک فرار ہو گئی، پاکستان میں پارٹی کے کئی دھڑے بن گئے، ایک متبادل قیادت بھی سامنے لائی گئی، تنظیم کمزور ہو گئی اور آج ایم کیو ایم وہ نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔
پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم میں ایک فرق بہر حال موجود ہے وہ یہ کہ ایم کیو ایم علاقے کی جماعت تھی، جبکہ پی ٹی آئی پورے پاکستان میں ووٹ بنک رکھتی ہے لیکن یہ ووٹ بینک بھی تبھی بچ سکتا ہے جب پارٹی سیاست کو لڑائی میں تبدیل نہ کرے، جذباتیت کو کم کرے، اور اداروں کے ساتھ دروازے بند کرنے کے بجائے کھولے۔
اگر پی ٹی آئی موجودہ راستے پر گامزن رہی تو اسے کئی بڑے نقصان اٹھانے پڑ سکتے ہیں۔ سب سے پہلا نقصان یہ ہو سکتا ہے کہ پارٹی کی قیادت یا تو لمبے عرصے تک جیل میں رہے یا پھر بیرون ملک جا بیٹھے۔ دوسرا نقصان یہ ہو سکتا ہے کہ ریاست کسی متبادل گروپ کو سامنے لے آئے، جیسے ایم کیو ایم پاکستان سامنے آئی تھی۔ تیسرے مرحلے میں پارٹی کے اندر سے ہی کئی دھڑے جنم لے سکتے ہیں۔ سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ جب ایک جماعت پر دباؤ بڑھ جاتا ہے تو وہ خود بخود ٹوٹنے لگتی ہے۔
پی ٹی آئی اگر یہ سمجھتی ہے کہ وہ جذباتی نعروں اور سوشل میڈیا کے ٹرینڈز کے زور پر سیاست چلا لے گی، تو یہ بڑی غلط فہمی ہے۔ سوشل میڈیا ایک وقت تک مدد دیتا ہے مگر اصل قوت نہیں بنتا۔
پی ٹی آئی کو اب بھی سمجھ لینا چاہیے کہ سیاست دشمنی کا نہیں بلکہ برداشت کا کھیل ہے۔ اگر اس نے اپنا بیانیہ نرم کیا، اداروں کے ساتھ معاملات بہتر کیے، کارکنوں کو ساتھ لے کر چلی، اور اپنی شدت پسندی کو کم کیا تو وہ ایک مضبوط جماعت کے طور پر زندہ رہ سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ سب نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں تجزیہ نگار یہی لکھتے نظر آئیں گے کہ پی ٹی آئی کا انجام بھی وہی ہوا جو کبھی ایم کیو ایم کے حصے میں آیا تھا — ایک بڑی جماعت دھیرے دھیرے چھوٹی ہوتی گئی، بکھرتی گئی اور آخرکار اپنا اصل وزن کھو بیٹھی۔

مزیدخبریں