قومی سلامتی کیلئے خطرہ: ذہنی مریض کا خاتمہ ضروری

09:08 AM, 7 Dec, 2025

پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ملک دشمن، ذہنی بیمار اور غدار کا چہرہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان پاکستان دشمن طاقتوں کے مہرے کے طور پر فعال ہیں، ان کے منہ سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ ریاست پاکستان کے لئے زہر قاتل کا کام کرتا ہے۔ عمران خان ایک شاعر اور چالاک شخص ہے وہ ایک ہاتھ میں تسبیح پکڑ کر ریاست مدینہ کی بات کرتا رہا ہے تو دوسرے ہاتھ سے نوجوانوں میں بے حیائی، بدکلامی اور دین دشمنی کی ترغیب دیتا رہا ہے، اس کی دوغلی اور منافقانہ پالیسی کو سوشل میڈیا کے ذریعے فروغ دیا جاتا رہا ہے۔ ہمیں شاید معلوم نہیں کہ ایلون مسک نے جب اپنے x پلیٹ فارم کے ساتھ کچھ اپ گریڈیشن کی کوشش کی تو اس میں ایک ایسا فیچر ایکٹو ہو گیا جس سے اکائونٹ کی لوکیشن ظاہر ہونے لگی۔ یہ حادثاتی طور پر ہوا جسے کچھ دیر کے بعد قابو کر لیا گیا تھا۔ اس دوران پتہ چلا کہ جن اکائونٹس کے ذریعے پاکستان و ریاست پاکستان دشمن مواد پھیلایا جاتا رہا ہے، ان کی منزل یا پیدائش بھارت، افغانستان اور اسرائیل ہے۔ یہ اکائونٹس عمران خان اور پی ٹی آئی کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ عمران خان کے ٹویٹر ہینڈل کے بارے میں بھی اسی قسم کی خبریں ہیں۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ عمران خان و ہمنوا اپنے بارے میں اس طرح کی باتوں پر نہ تو شرمندہ ہوتے ہیں اور نہ ہی چھپانے کا تردد کرتے ہیں بلکہ گزرے کچھ عرصے کے دوران تو ان کی ملک دشمن و ریاست دشمن سرگرمیوں میں اضافہ بھی ہو گیا ہے اور اب وہ دھڑلے سے اپنے اس مشن پر گامزن ہیں۔ ہمیں ایک بات بڑی وضاحت و صراحت کے ساتھ معلوم ہونی چاہئے کہ صہیونی و صلیبی طاقتیں روز اول سے ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ہیں۔ وہ کسی طور بھی پاکستان کو ایک مضبوط اور ایٹمی ملک دیکھنے کی روادار نہیں ہیں۔ دشمنوں کی کھلی اور چھپی سازشوں کے نتائج تو ہمیں نظر آرہے ہیں۔ پاکستان میں فکری و عملی انارکی پائی جاتی ہے۔ 67فیصد یوتھ آبادی کا حصہ اتنا بڑا حصہ اپنے حال سے مایوس ہو کر ملک چھوڑنے پر لگا ہوا ہے، انہیں اس ملک کے معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام ان کی رہنمائی کرنے یا انہیں کارآمد فرد بنانے میں ناکام نظر آرہا ہے۔ ڈاکٹر اور انجینئر بننے کی دوڑ جاری ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں ڈاکٹر بننے کے لئے 26 تا 28 لاکھ روپے ماہانہ کے اخراجات درکار ہوتے ہیں پھر ڈاکٹر بننے کے بعد ہائوس جابز کا بھی مسئلہ ہوتا ہے پھر ڈگریاں مل جانے کے بعد ملازمتیں کہاں ہیں۔ ہر گریجویٹ لاہور میں پوسٹنگ چاہتا ہے بغیر کام کئے تنخواہ وصول کرنا چاہتا ہے۔ ہمارا نظم سرکار یا حکمرانی کھوکھلا ہو چکا ہے۔ کروڑوں اربوں کے بجٹ اور نتیجہ صفر ہے۔ آبادی زیاد ہے وسائل کم ہیں۔ نظم و نسق کمزور ہے، سیاست زیادہ ہے۔ دشمنوں نے بڑی عرق ریزی کے بعد ہمیں یہاں تک پہنچایا ہے۔ قرض کے ذریعے ہمارے معاملات میں دخیل ہو کر اپنی پالیسیاں مسلط کی ہیں۔ این جی اوز کے ذریعے معاملات کو اپنے ہی ڈھب پر لانے کی کاوشوں کے نتائج ایک بکھرے اور غیر منظم پاکستان کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔ افزائش آبادی کی شرح، معاشی نمو کی شرح سے زیادہ ہے۔ ترقی کیسے ہوگی ،خوشحالی کہاں سے آئے گی۔ خطِ غربت سے نیچے زندگیاں گزارنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کو متحرک اور فعال بنانے کے لئے ہمارے پاس کوئی قومی بیانیہ نہیں ہے، ایسے حالات میں عمران خان کا نفرت اور ملک دشمن پر مبنی بیانیہ زہر قاتل کا کام کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے مادر پدر آزاد خیالات اور افکار کی اشاعت کے ذریعے معاملات بگاڑے جا رہے ہیں۔ معاشرے میں پہلے سے موجود دراڑوں اور فالٹ لائنز کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔ پہلے سے کمزور معاشرے میں فکری انارکی کو فروغ دے کر دشمن کے ایجنڈے کی تکمیل کی جا رہی ہے۔ عمران خان کے بیانیے کا ہدف ریاست، ہماری مسلح افواج ہیں، دشمن کو پتہ ہے کہ جب تک پاک فوج موجود ہے، منظم ہے، مضبوط ہے، پاکستان کی جغرافیائی وحدت کو نقصان 
نہیں پہنچایا جا سکتا ہے۔ دشمن نے بیرون ملک یعنی بھارت سے حملہ کر کے دیکھ لیا، اسے منہ کی کھانا پڑی۔ دشمن نے تحریک طالبان پاکستان کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنانے کی کوشش کر کے بھی دیکھ لی۔ حد تو یہ ہے کہ تحریک طالبان افغانستان بھی پاکستان کے خلاف لانچ کر کے دیکھ لیا، انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ قوم، اپنی مسلح افواج کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی رہی اور کھڑی ہے۔ قربانیاں دینے کی عظیم داستانیں رقم کی جا رہی ہیں۔ عمرانی ٹولے کے علاوہ پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر دفاع وطن کے لئے مستعد و ہوشار ہے۔ عمرانی ٹولہ ففتھ کالمسٹ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ احمد شریف چودھری کی پریس کانفرنس کو جاری پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ قیدی نمبر 804کے خلاف ریاستی چارشیٹ ہے۔ ریاست دشمن شخص کے کرتوتوں کا بیان ہے اور وضاحت ہے۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان کی ایسی تمام حرکات و سرگرمیاں ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ وہ ہر بات، ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہے۔ گولڈ سمتھ خاندان کا داماد (سابقہ) ہونے کے حوالے سے اس کا صہیونی لابی سے خونی رشتہ بھی بڑا واضح ہے۔ گو وہ اب جمائما کا شوہر نہیں ہے لیکن گولڈ سمتھ کے دو نواسوں کا باپ تو ہے۔ عمران خان کے صہیونیوں کے ساتھ تعلق کا بیان تو حکیم محمد سعید اور ڈاکٹر اسرار احمد جیسے صالحین اور نابغہ روزگار افراد پہلے ہی دے چکے ہیں۔ ابھی عمران خان سیاست میں وارد نہیں کیا گیا تھا تو ڈاکٹر اسرار نے پیش گوئی کر دی تھی کہ عمران خان کو سیاست میں داخل کیا جائے گا اور پاکستان دشمن عناصر اسے استعمال کریں گے، ان کی باتیں حرف بحرف سچ ثابت ہو چکی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم تاریخ کی کس سمت میں کھڑے ہیں۔ عمرانی طاقتیں پاک فوج کیخلاف ہر محاذ پر صف آرا ہیں۔ فوج کو کمزور کر کے پاکستان کے ایٹمی بازو کو کمزور کرنا مقصود ہے۔ اندرون ملک عمرانی ٹولہ اس کام میں ان کا ممد و معاون بنا ہوا ہے۔ شریف چوہدری نے بدی کی نشاندہی کر دی ہے اور ٹھیک ٹھیک کر دی ہے۔ کنویں میں گرے ہوئے کتے کی نشاندہی کرنا کافی نہیں ہوتا ہے بلکہ کنویں کو پاک کرنے کیلئے کنویں سے کتے کے وجود کے بے دخلی ضروری ہوتی ہے۔ ناسور کی نشاندہی کافی نہیں ہے، اس کا تدارک اور صدباب کرنا بھی ضروری ہے۔ ارض پاک سے ناپاک وجود کا خاتمہ، اس کی نشاندہی سے بھی زیادہ ضروری ہے، وگرنہ دشمن پہلے ہی ہماری صفوں میں گھسا ہوا ہے۔

مزیدخبریں