مشتری ہوشیار باش 

09:08 AM, 8 Aug, 2026

پاکستان کی سیاسی تاریخ دیکھ لیں یہاں دور آمریت ہو یا جمہوری ادوار ، وطن عزیز کی خارجہ پالیسی اکثر کامیاب رہی لیکن وہی حکمران کہ جن کے دور میں خارجہ محاذ پر کامیابیوں کے ریکارڈ قائم کئے گئے انہی کے دور میں داخلی سطح پر ملک عدم استحکام کا شکار رہا ۔ موجودہ دور کو ہی دیکھ لیں کہ خارجہ سطح پر کون سا ملک ہے یا کون سی کامیابی ہے جو ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کے سر کا تاج نہیں بنی ۔ ہم نے سر کا تاج اس لئے کہا کہ جب پوری دنیا میں ہماری سفارت کاری کو خراج تحسین پیش کیا جائے اور پوری دنیا میں ہماری تعریفیں ہوں تو ایسی شاندار کامیابی کو سر کا تاج ہی کہا جائے گا ۔ اب ہوا کیا ہے کہ وہ دشمن کہ جو ایک عرصہ سے پوری دنیا میں اس بات کا ڈھنڈورا پیٹ رہا تھا کہ پاکستان اس دنیا میں تنہا ہو چکا اب معاملات اس کے بالکل بر عکس ہیں اور پاکستان کو اس حوالے سے کچھ کہنے کی بھی ضرورت نہیں بلکہ زمینی حقائق اس قدر واضح ہیں کہ جن کی تردید ممکن ہی نہیں اور خود ہمارے ازلی دشمن کا میڈیا چیخ چیخ کر مودی قیادت کو ہندوستان کی تنہائی کے طعنے دے رہا ہے اور مودی سرکار کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے ۔ یہ تو ہندوستان کی بات ہے لیکن جس طرح پاکستان کی سیاسی اور خاص طور پر عسکری قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب نے ایران امریکی اسرائیل جنگ میں ایک انتہائی مدبرانہ ثالث کا کردار ادا کر کے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا ہے تو اس کے بعد تو روس اور چین سے لے کر پورا مغرب پاکستان کی سفار کاری ، امن پسندی اور نیک نامی کے گن گا رہا ہے اور یہ عزت ہندوستان کے ساتھ ساتھ اسرائیل سے بھی برداشت نہیں ہو رہی ۔ ہندوستان اور اسرائیل دونوں نے ثالثی کے میدان میں پاکستان کو ناکام کرنے کی بہت کوشش کی لیکن جب اس میں کامیابی نہیں ملی تو اب ایک بار پھر وطن عزیز کے خلاف داخلی محاذ پر سازشوں کا بازار گرم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پاکستان کی خارجہ میدان میں کامیابیوں کا بدلہ ملک کے اندر عدم استحام اور انتشار کی صورت حال پیدا کر کے لیا جا رہا ہے لیکن یہ کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا اس سے پہلے بھی ایسا کرنے کی کئی بار کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ملی اورخدائے بزرگ و برتر نے چاہا تو اب بھی نتیجہ ماضی سے مختلف نہیں ہو گا ۔ 
اندرون ملک سازشوں کی ناکامی کی بات ہم جذبات میں نہیں کہہ رہے بلکہ حقائق کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں ۔ دشمن ملک جب کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہے تو کبھی بھی تمام سلیپنگ سیلز کو ایک ساتھ متحرک نہیں کیا جاتا بلکہ کچھ کو متحرک کیا جاتا ہے اور دیگر کو غیر فعال رکھ کر اپنے ان قیمتی اثاثوں کو محفوظ رکھا جاتا ہے لیکن اگر ہم پاکستان کی صورت حال پر غور کریں تو دشمن کم و بیش اپنے تمام سلیپنگ سیلز کو متحرک کر چکا ہے تو یہاں سوال یہ ہے کہ کیا تمام سلیپنگ سیلز کو ایک ساتھ متحرک کیا ہے تو اس کا جواب نفی میں ہے ۔ دشمن نے باری باری ان سب کو متحرک کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے پہلے کچھ پاکٹس کو سامنے لایا لیکن جب کامیابی نہیں ملی تو پھر باری باری دیگر کو بھی میدان میں لاتا گیا ۔ آپ دیکھ لیں کہ یہ کتنی بڑی سازش ہے کہ آج تک کشمیر میں جو کام اور جو بیان کالعدم ایکشن کمیٹی کر رہی ہے وہ اس سے پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا ۔ غور کریں کہ آزاد کشمیر اسمبلی کی مدت ختم ہو چکی ہے اور بارہ نشستوں کے خاتمہ ایسے آئینی مطالبے پر انتشار پھیلایا جا رہا ہے کہ جن کو صرف اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے ہی ختم کرنا ممکن ہے لیکن جب نیت بد ہو تو پھر ایسے ہی ہوتا ہے ۔ اس کے بعد بلوچستان میں فتنہ الہندوستان اور خیبر پختون خوا میںفتنہ الخوارج سر گرم عمل ہیں ۔ سیاسی محاذ پر تحریک انصاف ابھی تک تو صرف بیان بازی کی حد تک ہی سیاست کر رہی ہے ۔ سہیل آفریدی نے 27ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان تو کیا ہے کہ جس پر علیمہ خان صاحبہ نے تاخیر کی وجہ سے اعتراض بھی کیا ہے حالانکہ اعتراض تو اس وقت بنتا ہے کہ جب عوام بس تحریک انصاف کی کال کے انتظار میں ہیں کہ جیسے ہی کال ہو تو وہ گھروں سے باہر نکلیں اور حالت یہ ہے کہ پشاور جہاں تحریک انصاف کی اپنی حکومت ہے وہاں پر پہلے بڑے گراﺅنڈ میں جلسہ کرنا تھا لیکن بعد میں حالات کو دیکھتے ہوئے چھوٹے گراﺅنڈ میں کرنا پڑا لیکن 27ستمبر ڈیڑھ ماہ سے زیادہ کا وقت ہے یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابھی ” دلی دور است“ ۔
 ملک میں پہلے سے جو مسائل ہیں وہ کم نہیں ہیں اور نہ ہی مہنگائی بیروز گاری دہشت گردی جیسے مسائل کوئی عام یا معمولی مسائل ہیں ۔ ان مسائل کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہم کوشش کے باوجود بھی برسوں بیت گئے لیکن ان پر قابوں نہیںپا سکے ۔ ان حالات میں جس بات کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ یہ کہ پورے ملک میں ماحول کو بہتر بنائے رکھیں اور آپس کے گلے شکوﺅں کاجمہوری اقدار کے دائرے میں رہتے ہوئے حل تلاش کریں ۔ کبھی ہم اپنی انہی تحریروں میں کہتے رہے ہیں کہ اپنے گلے شکوے کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھیں لیکن ہماری قومی سیاست کا مزاج ایسا ہے کہ یہاں ہمہ وقت کسی کو کسی سے شکایات رہتی ہیںلہٰذا کسی اور وقت پر اٹھا رکھنے سے کہیں بہتر ہے کہ جمہوری طریقہ کار کے تحت تمام مسائل حل کئے جائیں ۔

مزیدخبریں