سلیم طاہر بھی رخصت ہوئے 

09:09 AM, 8 Aug, 2026

جن لوگوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کا سنہری دور دیکھ رکھا ہے وہ سلیم طاہر کے نام سے ضرور واقف ہوں گے یہ وہ دور تھا جب ابھی پاکستان کے نجی الیکٹرانک میڈیا کی پیدائش نہیں ہوئی تھی۔ صرف ایک ہی چینل ہوتا تھا پاکستان ٹیلی ویژن جس کی روزانہ نشریات کا آغاز سہ پہر کے بعد تلاوت کلام پاک سے ہوا کرتا تھا اور اختتام نصف شب کو فرمان الہی سے ہوتا تھا۔ اس کے بعد ٹی وی اگلے تقریبا چودہ پندرہ گھنٹے کے لیے بند ہو جاتا تھا۔ جی ہاں اس وقت ٹی وی بند بھی ہوتا تھا جبکہآج تو نجی ٹی وی چینل چوبیس گھنٹے چلتے رہتے ہیں۔
وہ ایسا دور تھا جس میں پی ٹی وی نے بہت شاندار اور بے مثال پروگرام ا دیے۔ آج کے نجی چینلز پر بیشتر پروگرام اسی دور کے پروگراموں کی پیروی ہیں۔ اس دور میں کسی نہ کسی سٹیشن سے کوئی قسط وار یا سلسلہ وار ڈرامہ ہر رات کو آٹھ بجے نشر کیا جاتا تھا جسے دیکھنے کے لیے گلیاں اور بازار سنسان ہو جایا کرتے تھے۔ لوگ آٹھ بجنے سے پہلے اپنے اپنے گھروں میں پہنچ کر ٹی وی کے سامنے براجمان ہو جاتے تھے۔ انہیں اس ڈرامے کا ایک ایک منظر اور ایک ایک مکالمہ یاد رہتا تھا۔ ڈرامہ نگاری کے بڑے بڑے نام اشفاق احمد، مستنصر حسین تارڑ، امجد اسلام امجد، نور الہدیٰ شاہ، حسینہ معین، سعد اللہ جان برق اور بہت سے اسی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔
ڈراموں کے علاوہ لوگ پی ٹی وی کے ٹاک شوز بھی بہت شوق سے دیکھتے تھے ان میں سنجیدہ شوز بھی ہوتے تھے اور مزاحیہ بھی۔ انور مقصود معین اختر، اسماعیل تارا، عمر شریف، اطہر شاہ خان، فخری احمد جیسے کامیڈین اس دور کے چند اہم نام ہیں۔ اس کے علاوہ لوگ پی ٹی وی کا نو بجے کا خبرنامہ بھی بہت پابندی سے دیکھتے تھے جبکہ بچوں خواتین اور معاشرے کے دیگر طبقات کے لیے بھی بہت عمدہ اور مفید پروگرام نشر ہوتے تھے۔
پی ٹی وی کے جس سنہری دور کا اوپر ذکر ہوا ہے اس دور کا ایک بہت اہم نام محمد سلیم طاہر بھی تھا۔ سلیم طاہر یوں تو پروڈیوسر تھے اور پروڈیوسر عام طور پر سکرین پر نہیں آتے بلکہ پس پردہ رہ کر کام کرتے ہیں لیکن سلیم طاہر کی انفرادیت یہ تھی کہ انہوں نے پی ٹی وی کو ایک ایسا پروگرام ”میں اور آپ“ کے نام سے متعارف کرایا جسے پاکستان کا پہلا روڈ شو کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ اس روڈ شو کے اینکر خود سلیم طاہر ہوتے تھے جو مائک پکڑ کر سڑک پر آ جاتے اور لوگوں سے ان کے مسائل پوچھتے۔ یہ ایک ایسا زبردست اور کامیاب پروگرام تھا کہ اس نے پی ٹی وی ڈرامے کے عروج کے دور میں اپنی جگہ بنائی اور لوگوں میں مقبول ہوا۔ آج پاکستان کا کوئی نجی چینل روڈ شو کے بغیر مکمل نہیں لیکن افسوس کہ آج الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے بیشتر لوگ سلیم طاہر کا نام ہی نہیں جانتے۔ خیر سلیم طاہر کو اس سے کوئی فرق بھی نہیں پڑنے والا لیکن عرض کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم نے اپنے مشاہیر کو کتنا جلد بھلا دیتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔
سلیم طاہر شاہد ہمیں بھی یاد نہ رہتے لیکن ہماری ان سے نیاز مندی تھی۔ ایک بہت اچھا تعلق تھا۔ اس لیے ان کے رخصت ہونے کا واقعی بہت دکھ ہوا۔ وہ کامیاب ٹی وی پروڈیوسر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اعلیٰ پائے کے شاعر اور بہت عمدہ انسان بھی تھے۔ دوستوں کے درمیان بہت بے تکلف ہوتے اور پنجابی میں زیادہ گفتگو فرماتے۔ راقم کو تو وہ اکثر اپنی شاعری اور پی ٹی وی دور کی یادداشتیں بھی واٹس ایپ کے ذریعے بھیجتے رہتے۔ کبھی کبھار فون بھی کر لیتے اور بہت لمبی کال کرتے جس میں زیادہ وقت وہی بولتے۔ ان سے شناسائی تو بہت دیر سے تھی لاہور پریس کلب کے مشاعروں میں بھی آتے جاتے تھے۔
اور پاک ٹی ہاو¿س میں بھی ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں تاہم گزشتہ سال ان سے قربت زیادہ بڑھ گئی تھی وہ یوں کہ انہوں نے بطور جوائنٹ سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق میرے کام کی تعریف کی تو میں نے انہیں بتایا کہ میں آپ کے دوست پروفیسر لطیف ساحل صاحب کا شاگرد ہوں۔ کہنے لگے ”لے فیر تے توں اپنا ای بندہ ایں“۔
سلیم طاہر کے انتقال کی خبر ملی تو شدید دھجکا لگا۔ جی میں آئی کہ اڑ کے جاﺅں اور ان کا آخری دیدار کروں، جنازے میں شرکت کروں لیکن دفتر کی صورتحال کچھ یوں تھی کہ ایک ہی وقت میں تین رفقائے کار صاحب فراش اور ایک ہفتہ وار چھٹی پر تھے۔ سو کام چلانے کے لیے مجھ سمیت دو ہی افراد اپنی جگہ موجود تھے، ایسے میں ایک لمحے کے لیے بھی کہیں ادھر ادھر ہونا ناممکن تھا سو ان کے جنازے میں شرکت نہ ہو سکی لیکن اتنا ضرور کیا کہ اپنے چینل پر ان کے انتقال کی خبر چلوا دی کہ اس وقت یہی میرے اختیار میں تھا۔ اللہ تعالیٰ سلیم طاہر صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آمین ثم آمین۔ آخر میں سلیم طاہر کا ایک حمدیہ شعر ملاحظہ کیجیے:
 میں تجھ سے اپنا تعلق چھپا نہیں سکتا
 جبیں سے کیسے مٹا دوں تیرے نشان کو میں

مزیدخبریں