وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے اسلام آباد میں اکنامک سمٹ کانفرنس سے خطاب کے دوران جن خیالات کا اظہار کیا ہے ، اُس نے سب کو چونکا کر ہی نہیں رکھ دیا ہے بلکہ ملک میں موجودہ نظام کی تبدیلی اور نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث بھی شروع ہو چکی ہے ۔ سید محسن نقوی نے اپنے خطاب میں اور بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ، اُن کو نقطہ وار بیان کیا جائے تو اس کی کچھ یوں صورت بنتی ہے۔
ہم جس نظام یا سسٹم میں رہ رہے ہیں، وہ تباہ ہو چکا ہے ۔ یہ نظام اگر چلتا رہا تو دس سال بعد بھی ہم انہی مسائل پر بات کر رہے ہونگے۔ پاکستان کو اس حال تک پہنچانے کے ہم سب ذمہ دار ہیں۔اس وقت ہر سیاسی جماعت صرف اپنے بارے میں سوچتی ہے ۔ سیاستدان ملک کا نظام ٹھیک نہیں کریں گے تو ایک بندے (فیلڈ مارشل سید عاصم منیر) کی محنت کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ نوجوان جو میرٹ کی بنیاد پر روزگار کے مواقع اور درست و شفاف نظام چاہتے ہیں ، انہیں لیپ ٹاپ یا دو چار ہزار روپے دے کر خاموش نہیں کیا جاسکتا ۔ وہ اگر اکٹھے ہو کر اُٹھ کھڑے ہوئے تو ہر چیز اُلٹ دیں گے۔ ہم اپنا بجٹ نیگیٹو بناتے ہیں کہ اس سال کتنا قرضہ دینا ہے ۔ امریکہ سے جتنا مرضی ہے تعلقات اچھے ہو جائیں ، ملکی نظام ٹھیک نہ ہوا تو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ایک بندہ اتنی محنت کر کے سب کچھ پلیٹ میں لا کر دے رہا ہے لیکن وہ ریڈ لائن کراس نہیں کرنا چاہتا۔ پی ٹی آئی سمیت سب جماعتیں متحد ہوں ، تمام سٹیک ہولڈرز مل بیٹھیں ۔ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں۔
سید محسن نقوی کے خیالات ایسے نہیں ہیں کہ جنہیں بالکل نیا یا پہلی بار سامنے آنے والا کہا جاسکے۔ اس طرح یا ان سے ملتے جلتے خیالات کااظہار کسی نہ کسی صورت میں یا کسی نہ کسی شخصیت کی طرف سے اس سے پہلے بھی سامنے آتا رہا ہے۔ تاہم حکومتِ وقت میں موجود کسی اعلیٰ منصب پر فائز شخصیت کی طرف سے اس طرح کا برملا اظہار جن میں بالواسطہ طور پر موجودہ حکومتی بندوبست پر عدمِ اعتماد کااظہار جھلکتا ہے کا سامنے آنا بلا شبہ تعجب کی بات سمجھی جا سکتی ہے۔ پھر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے ، سید محسن نقوی کی حیثیت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اُن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ اُن کے چیف کا ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ قریبی روابط اور دیرینہ مراسم ہیں۔ اس صورت میں سید محسن نقوی حکومتی بندوبست کے حوالے سے کوئی بات کرتے ہیں یا کسی کمزوری یا اور کسی پہلو کی نشاندہی کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس میں مقتدر حلقوں کی بھی ترجمانی کر رہے ہیں۔
خیر بات جو بھی ہے، سید محسن نقوی نے اپنے طور پر ان خیالات کا اظہار کیا ہے یا مقتدر حلقوں کی ایما پر یہ باتیں کی ہیں ان سے قطع نظر اہم ترین بات یہ ہے کہ دیکھنا ہو گا کہ جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ کس حد تک درست اور مبنی بر حقائق ہے ۔ سید محسن نقوی کے خیالات کا بہ نظر غائر جائزہ لیا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ بڑی حد تک درست ہے۔
موجودہ ملکی حالات و واقعات، حکومتی اداروں کی کار گزاری اور کاکردگی، گورننس اور اندازِ حکمرانی ، حکومتی معاملات میں عوام کی شمولیت، نچلی اور مقامی سطح تک اختیارات کی تقسیم، آئین ، قانون اور پارلیمنٹ کی بالا دستی، عدلیہ کی آزادی اور اداروں کا اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا ادا کرنا ، یہ سب معاملات ایسے ہیں جن میںبلا شبہ ہم کوئی قابلِ فخر بلکہ اوسط درجے کی روایات قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے اُلٹا ہم دن بہ دن زوال اور گراوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہماری سول انتظامیہ کی بحیثیت مجموعی کارکردگی کسی صورت میں بھی قابلِ تحسین کہلانے کی بجائے اطمینان بخش بھی نہیں ہے۔ اس پر مستزاد کہ ہم آج تک خود احتسابی اور اس کے ساتھ حکومتی اور ریاستی سطح پر احتساب اور چیک اینڈ بیلنس کا کوئی اطمینان بخش ، ہر رطرح چوں وچراں سے مبرا اور مستحکم و دیر پا نظام قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔
سید محسن نقوی نے ان ساری باتوں کا حوالہ دیا ہے تو اُسے بڑی حد تک درست کہا جاسکتاہے تاہم انہوں نے اپنے خطاب میںاحتساب یا خود احتسابی کا ذکر نہیں کیا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہوسکتی ہے کہ اس کی زد خود اُن کی ذات پر بھی پڑتی ہے ۔ وہ پچھلے تقریباً چار برس سے پہلے بطورِ نگران وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور فروری 2024ءسے بطور وفاقی وزیرِ داخلہ موجودہ نظام کا ایک فعال اور اہم حصہ ہیں۔ اُن سے سوال کیا جاسکتا ہے کیاانہوں نے اپنی اس حیثیت کا کبھی ناقدانہ جائزہ لیا ہے کہ جس طرح کی کارکردگی یا جس طرح کے اقدامات اور اندازِ فکر و عمل کی اُن سے توقع کی جاتی ہے کیا وہ کبھی اُس کو پورا کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اپنے رفقائے کار اور ہم منصبوں میں مقابلتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے باوجود سید محسن نقوی یقینا یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ اُن کی کارکردگی اگر مثالی نہیں رہی ہے تو اپنے منصب کے تقاضوں پر بھی پورا اُترتی ہے۔ اچھا ہوا وفاقی وزیرِ داخلہ خواجہ محمد آصف جو منہ پھٹ واقع ہوئے ہیں انہوں نے سید محسن نقوی کو اُن کی یہ حیثیت یاد دلا دی ہے ۔
سماجی رابطے کی ایک سائٹ ایکس پر خواجہ آصف نے لکھا ہے،” میں خود بھی ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے محسوس کرتا ہوں کہ ملک کے نظام کا ارتقائی عمل کئی دہائیوں سے گروہی اور ذاتی مفادات نظر رہا ہے ، جسے ان مفادات سے آزاد کرانے کی ضرورت ہے۔ اگر نظام کو مضبوط بنانا اور بنیادی تبدیلی لانا مقصود ہے تو اس کا آئینی فورم پارلیمنٹ ہے ، جس کے محسن نقوی رُکن ہیں یا پھر اس معاملے پر وفاقی کابینہ میں بھی بات کی جاسکتی ہے۔ اس سے نہ صرف پارلیمنٹ اور کابینہ جیسے ادارے مضبوط ہونگے بلکہ تبدیلی بھی آئینی عمل کے ذریعے آئے گی۔سید محسن نقوی گزشتہ ساڑھے تین برس سے نظام کے طاقتور ترین عہدوں پر فائز ہیں ، اگر وہ چاہتے تو اس عرصے میں نظام میں تبدیلی کے معاملے کو آگے بڑھا سکتے تھے۔ تاہم دیر آید درست آید ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے نیشنل ایکشن پلان کے 13 نکات کاذکر کیا تھاجن میں سے ایک نقطے پر جو مسلح افواج کی ذمہ داری تھی ، افواج نے اپنی قربانیوں کے لئے عملدرآمد کیا، جبکہ باقی 12 نکات وزارتِ داخلہ کی ذمہ داری ہیں جن پر اب تک عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ محسن نقوی صاحب نظام میں تبدیلی کاآغاز نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے کریں اور اپنی وزارت سے اصلاحات کی ابتدا کریں۔ “
خواجہ آصف کے یہ خیالات یقینا انتہائی قابلِ قدر سمجھے جاسکتے ہیں کہ انہوں نے نظام کی بہتری کے لئے ایک درست راستے کہ آغازاپنی ذات سے کریں، کی نشاندہی کی ہے لیکن اسی اثنا میں مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی ایک ہدایت بھی سامنے آ چکی ہے ۔ قومی معاصر کے مطابق میاں نواز شریف نے لیگی رہنماﺅں کو ہدایت کی ہے کہ وہ محسن نقوی کے بیان کو نظرانداز کر دیں۔ میاں صاحب کی اس ہدایت کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے برسرِ زمین مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی بجائے اُس پر مٹی ڈالنے (مٹی پاﺅ) کی کوشش کی ہے تو یہ کچھ ایسا غلط نہیں ہو گا۔
فرسودہ نظام ۔۔۔ تبدیلی کی ضرورت !
09:08 AM, 8 Aug, 2026