بھارت: جنونی بپھرا بیل

09:27 AM, 7 Aug, 2025

پگڈنڈیوں سے جدا کیے گئے ہرے لہلہاتے کھیت، ٹھنڈی میٹھی ہواں کے جھونکے، پیپل کیکر کی گھنیری چھاو¿ں، درختوں کی شاخوں پہ بیٹھی کوئل کی کوک، کہیں دور چلتے ٹیوب ویل کی مدھر چھک چھک میں چارپائیوں پہ پر سکون بیٹھ کر حقے کے کش لگاتے کسانوں کے بیچ اگر کہیں سے رسہ تڑوا کر دیوانہ وار دوڑتا ہوا جنونی بیل حملہ آور ہونے کو لپکے تو کیا منظر بدلے گا نہیں؟ ہاں پگڈنڈیوں کنارے لگی نہروں میں دوڑتے پانی کی روانی میں کمی نہیں آئے گی لیکن یکا یک سارا سکوت کہیں تحلیل ہو جائے گا، خوشبو دار نرم ہری فصلوں کو لتاڑتا ہوا بیل چنگھاڑ کر جس اوڑ بڑھے گا تباہی لے آئے گا۔۔۔ اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ میں نے آپ کو پنجاب کے کسی پنڈ کی منظر کشی کر کے دکھائی ہے تو آپ کا خیال سراسر غلط ہے۔
میں نے آپ کے سامنے جنوبی ایشیا کا نقشہ کھینچا ہے، جس میں سب ایک تسلسل اور روانی سے بہت پُرسکون انداز سے چل رہا تھا اور ایک بدمست بیل نے اپنی جنونیت میں آس پڑوس کے سبھی کھیت کچلنے کی کوشش کی۔ آئیے مثال دے کر وضاحت کرتے ہیں، آپ سب لوگ اخباروں ٹی وی اور خبروں کے باعث یہ تو جانتے ہی ہیں کہ بھارت نے دو ماہ قبل کیسے پہلگام ڈرامہ رچایا اور اس کے نتیجے میں کیا شیطانی جال بننے کی کوشش کی، وہ علیحدہ بات ہے کہ اسے منہ کی کھانا پڑی اور اس کا سہرا افواجِ پاکستان کی مناسب حکمتِ عملی اور عوام کی بھرپور حمایت کے سر جاتا ہے، لیکن کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ بھارت کو ازل سے ہر ہمسائے کے نجی معاملات میں سینگ پھنسانے کی عادت رہی ہے؟ آئیے آپ کو ایک جھلک تاریخ کے جھروکوں کی دکھاتے ہیں۔
تو یہ قصہ ہے بھارت کی گلی سڑی بوسیدہ اندرا ڈاکٹرائن کا جس کا ماننا یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں اپنا وجود ایک طاقت ور بدمعاش کا رکھا جانا چاہیے۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے بنگلہ دیش، جو کہ ایک آزاد ریاست ہونے کے باوجود بھارت کے تسلط سے آزادی کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ بھارت بنگلہ دیش کے تمام تر نجی امور بشمول خارجہ پالیسی میں دخل اندازی اپنا حق سمجھ کر کرتا ہے، 2009ءسے 2024ءتک بھارت نے شیخ حسینہ واجد کی آمریت کی کھل کر حمایت کی، پھر جب عوام بربریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تو شیخ حسینہ نے کہاں پناہ لی؟ بھارت میں، بنگالی عوام کی شیخ حسینہ کے احتساب کی آواز کو دنیا بھر میں کون دبا رہا ہے؟ بھارت! روزِ اول سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات سنورنے سے کون روک رہا ہے؟ بھارت۔ 2020 ءمیں جب پاکستان اور بنگلہ دیش قریب آنے لگے تو کسے دیگی لال مرچ لگ گئی؟ بھارت! بنگلہ دیش میں بہنے والے 54 دریاو¿ں کے بہاو¿ پر کون ناگن بن کر بیٹھا ہے؟ بھارت! تیستا کے پانی کو اپنی مٹھی میں رکھ کر بنگلہ دیش کی زراعت کی گردن پر کون اپنے خونی ناخن دھنسائے بیٹھا ہے؟ بھارت! روہینگیا کے مسلمان مہاجرین والے معاملے پر کس نے اقوامِ متحدہ کے سامنے بنگلہ دیش کی گردن دبوچ لی؟ بھارت۔۔ 2024 ءکے بعد سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے بڑھتے روابط کسے کھٹک رہے ہیں؟ بھارت۔۔۔ کیا بھارت کا یہ رویہ کسی بھی ملک کی سالمیت پہ سوالیہ نشان نہیں؟ کیا بھارت یہ بدمعاشی صرف بنگلہ دیش کے ساتھ کر رہا ہے؟ نہیں! بھارت کی مثال اس سنکی بڈھی ساس جیسی ہے جو اپنے بیٹوں کو اپنے نرغے میں رکھنے کے لیے اپنی تمام بہوو¿ں کا لہو پیتی رہتی ہے۔ یقین نہیں آ رہا؟ آئیے آگے بڑھتے ہیں، بات کرتے ہیں سری لنکا کی۔
جس روز 1948ءمیں سری لنکا دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پر نمودار ہوا اسی روز سے بھارت اس پہ شکنجے کسنے میں مگن ہے۔ اکہتر میں جب سری لنکا نے پاکستانی طیاروں کو ری فیولنگ کرنے دی تو بھارت نے اسے بے وفائی گردان لیا اور بدلے کی بھاوناو¿ں میں اسی کی دہائی میں علیحدگی پسند تامل ٹائیگرز کی حمایت شروع کر دی، را نے کم و بیش تین ہزار جنگجوو¿ں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کیا کہ سری لنکا کی جڑیں کمزور کر سکے۔ پھر 1987ءمیں بھارت نے سری لنکا میں عسکری جارحیت کا مظاہرہ کیا اور پریشر دے کر معاہدہ کر لیا دوسری طرف پاکستان نے 2006-09ءکے درمیان ہونے والی حتمی جھڑپوں میں تامل ٹائیگرز کے خلاف سری لنکن حکومت کا بھرپور ساتھ دیا۔ پھر جب سری لنکا نے ہمبنتوتہ پورٹ میں چین کا ساتھ چاہا تو بھارت کے سینے پر سانپ لوٹنے لگے، 2014 ءمیں کولمبو نے ایک چینی آبدوز کو خوش آمدید کہا تو بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھ گئے، بھارت نے ہمیشہ سری لنکا کے داخلی خارجی اور اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت کی، اور تاحال کر رہا ہے 2022ءمیں جب چینی یوان وانگ نے ہمبنتوتہ کا دورہ کرنا چاہا تو بھارت نے خطے میں چینی موجودگی کو روکنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا۔ تو کیا اب بھی کوئی شک کی گنجائش باقی ہے کہ بھارت خطے کا بپھرا بیل ہے؟
آئیے مالدیپ کا جائزہ لیتے ہیں۔۔۔ 1965 ءمیں جب سے مالدیپ نے آزادی حاصل کی تب سے ہی بھارت اس کے گرد منڈلا رہا ہے، کبھی 1988ءمیں مدد کی آڑ میں بھارت نے آپریشن کیکٹس کے نام پہ مالدیپ میں اپنی عسکری موجودگی کو بڑھایا تو کبھی 2016ءمیں اسے SAARC کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور کیا، سابق صدر عبد اللہ یامین نے BRI میں شمولیت کا قدم بڑھایا تو بھارت کا فشارِ خون بلند ہو گیا۔ مالدیپ کے عوام خطے میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہیں اپنے حقوق کا بخوبی ادراک ہے، 2023 ءموئزو اسی ارادے سے الیکشن میں اترے کہ اپنی سرزمین سے بھارتی امر بیل کو نوچ پھینکیں گے، اور عوام نے انہیں اسی جذبے سے ووٹ ڈالا، گزشتہ برس سے مالدیپ میں بھارتی تسلط کو ختم کرنے کی تحریک کامیابی سے چل رہی ہے اور بھارت کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق مالدیپ سے فقط 125 کلومیٹر کے فاصلے پہ جتیو نیول بیس بنا کر بیٹھا ہے۔
طاقت کے نشے میں بدمست بھارت نے اپنے کسی ہمسائے کو کبھی سکھ کا سانس نہیں لینے دیا، اس کی کرتوتوں کی فہرست میں اگلا نام نیپال پر تسلط کی کاوشوں کا ہے۔ 1947ءمیں نیپال دنیا کے نقشے پر ابھرتا ہے اور 1950ءمیں بھارت ایک معاہدہ کرتا ہے، مگر درحقیقت وہ نیپال کی خرید و فروخت کی خود مختاری پہ ایک قدغن تھا، 1988 ءمیں نیپال نے چین سے اینٹی ائیر کرافٹ خریدنے کی جرا¿ت کی تو بھارت کی جانب سے معاشی بلاکیڈ کا سامنا کرنا پڑا، نتیجہ؟ 1989ءکا معاشی بحران۔۔۔ 
نیپال جغرافیائی لحاظ سے ایک زمین بند ملک ہے جو بھارت کے راستے تجارت کرتا ہے۔ 2015 ءمیں نیپال نے اپنا نیا قانون بنایا تو بھارت نے اپنا راج بحال رکھنے کو ایسا گھیرا تنگ کیا کہ نیپال کے عوام خوراک اور دواں کو ترس گئے۔ جب جب نیپال چین سے اقتصادی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتا ہے تب تب بھارت نیپال کی گردن پہ کھٹنا رکھ کر دبا چھوڑتا ہے، کبھی بارڈر بند تو کبھی ادارتی تاخیر۔۔۔ اور تو اور سستا اور کالا پانی کے 60,000 ایکڑ رقبے کو اپنا جہیز سمجھ کر لپیٹ لیا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی نیپال میں موجودگی اور آپریشنز بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ 2017ءمیں نیپال سے پاکستانی کرنل حبیب ظاہر کی گمشدگی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
ان تمام شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بھارت ایک جنونی بپھرا بیل ہے جو رسہ تڑوائے یہاں وہاں دوڑتا پھر رہا ہے اور جسے نتھ ڈالنے کی ضرورت اب پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ اور خیر سے یہ صلاحیت دو برادر ممالک پاکستان اور چین میں درجہ اتم موجود ہے۔

مزیدخبریں