عثمان بزدار کے دورِ حکومت میں پنجاب کا حال ایک ایسے یتیم صوبے کا سا رہا جس کا کوئی سرپرست نہ ہو، نہ رہنما، نہ نگہبان۔ ڈیٹا نکالیں تو معلوم ہوگا،یہ چار سال اس بدانتظامی، نااہلی اور غیر سنجیدہ طرز حکمرانی کی ایسی نظیر ہیں جن پر تحقیق ہونی چاہیے، کیونکہ جو کچھ پنجاب میں ہوا، وہ ایک صوبے کے ساتھ زیادتی ہی نہیںبلکہ قومی سطح پر ناکامی کی مثال ہے۔ بزدار صاحب کو جب وزارتِ اعلیٰ سونپی گئی تو سیاسی حلقوں میں حیرت کی لہر دوڑ گئی۔ ایک غیر معروف، غیر تجربہ کار اور غیر سیاسی شخصیت کو صوبے کے سب سے اہم اور حساس عہدے پر بٹھا دیا گیا۔ یہ فیصلہ کس نے کیا، کس نیت سے کیا، اور کن مقاصد کے لیے کیا، یہ اب راز نہیں رہا۔اگر ملک آگے بڑھانا ہے تو میری تجویز پر عمل کریں، مٹی نہ ڈالیں،مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرنے والوں کو مثال بنائیں۔پچیس کروڑ افراد کو اذیت دے کر چند لوگوں کو بچانے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔
بزدار حکومت میں سب سے زیادہ جو کام ہوا، وہ تبادلے تھے۔ ہر محکمے میں، ہر ضلع میں، ہر افسر کی کرسی غیر مستقل اور غیر محفوظ رہی۔ ایک اندازے کے مطابق، عثمان بزدار کے دور میں 700 سے زائد سینئر افسران کے تبادلے کیے گئے۔ صرف لاہور کے کمشنر اور ڈی سی درجنوں بار بدلے گئے۔ گوجرانوالہ، ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی اور سرگودھا جیسے بڑے شہروں کے ڈی سی چند مہینوں سے زیادہ کسی ایک جگہ پر نہیں رہے۔ ان تبادلوں میں شفافیت کا شدید فقدان تھا، شنید ہے کہ بعض تبادلوں کے پیچھے مالی معاملات اور سیاسی دباو¿ کارفرما تھا۔ خود وزیراعلیٰ ہاو¿س کے اندر بھی ایک منظم "رقم کے عوض پوسٹنگ" نیٹ ورک کی خبریں ذرائع ابلاغ میں آتی رہیں لیکن کسی نے ان کی تردید یا وضاحت ضروری نہ سمجھی۔
صوبے کے انتظامی سربراہ کی حیثیت سے بزدار صاحب کی گرفت کمزور، فہم محدود اور اعتماد ناقابلِ بیان حد تک کمزور تھا۔ ایک معروف ٹی وی پروگرام میں جب ان سے بجٹ کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا جواب ایسا تھا جیسے انہیں اس عمل کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔ حالانکہ ایک معمولی یونین کونسل کا چیئرمین بھی جانتا ہے کہ بجٹ میں کیا ہوتا ہے، فنڈز کیسے آتے ہیں، کہاں خرچ ہوتے ہیں اور کس کو رپورٹ کرنا ہوتی ہے۔ مگر پنجاب کا وزیراعلیٰ بے خبر، بے اختیار اور بے سمت رہا۔اگر موجودہ افسر شاہی یا حکومت اس دور کی خرابیوں پر پردہ ڈال رہی ہے تو یہ بھی ناقابل قبول ہے۔ بدمعاشوں کے خلاف سی سی ڈی کی کارروائیوں کی طرح قومی پیسہ لوٹنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔
عوامی تاثر یہ بنا کہ ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ہے اور ان کا برین واش کر کے انہیں ایک ایسے اقتدار پر بٹھا دیا گیا ہے جس کے تقاضے وہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ پنجاب جیسے بڑے اور حساس صوبے کے ساتھ یہ رویہ کسی تجربے یا جمہوری عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ بدنیتی اور شخصی آمریت کے شوق کا عکس تھا۔ اصل اختیار کہیں اور تھا، اور وزیر اعلیٰ محض ایک مہرہ۔ اس دور میں بیوروکریسی مکمل طور پر کنفیوز رہی۔ ایک طرف سیاسی دباو¿، دوسری طرف وزیراعلیٰ کی غیر متعین پالیسی اور تیسری طرف روز روز کے تبادلوں نے ہر محکمے کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔
پنجاب پولیس، جو پہلے ہی متنازع سہی مگر ایک منظم ڈھانچے میں چل رہی تھی، اس حکومت کے دوران خاص طور پر متاثر ہوئی۔ آئی جی پنجاب کو بھی بار بار بدلا گیا۔ عثمان بزدار کے دور میں پانچ آئی جی بدلے گئے: کلیم امام، امجد جاوید سلیمی، کیپٹن (ر) عارف نواز، شعیب دستگیر، اور انعام غنی۔ ہر آئی جی کو چند ماہ کے اندر ہی کسی نہ کسی وجہ سے ہٹا دیا گیا اور کئی مرتبہ وجوہات محض ذاتی انا یا سیاسی دباو¿ کے گرد گھومتی رہیں۔ اس سے پولیس فورس کی کارکردگی اور مورال دونوں بری طرح متاثر ہوئے۔
ایک ایسا واقعہ بھی پیش آیا جب ایک تھانے کے ایس ایچ او نے مجھ سے کہا کہ میرا تبادلہ کرا دیں۔ میں نے حالات کو دیکھتے ہوئے معذرت کر لی۔اس زمانے میں ہر شہری کو اندازہ ہو گیا کہ وہ بھی اس غیر یقینی، غیر شفاف اور بے اصول نظام کا ایک پرزہ ہے جس میں میرٹ نہیں، تعلق، تعلقات اور روپے کی زبان بولتی ہے۔
پنجاب میں اس دور کے دوران میگا پراجیکٹس کا فقدان رہا۔ نہ کوئی بڑا ہسپتال بنایا گیا، نہ کوئی یونیورسٹی قائم ہوئی، نہ کوئی سڑک ایسی بنی جو یادگار ٹھہرے۔ جو منصوبے شہباز شریف کے دور میں جاری تھے، وہ یا تو روک دیئے گئے یا انتہائی سست روی کا شکار ہو گئے۔ صحت کارڈ اور پناہ گاہوں جیسے چند منصوبے ضرور متعارف کرائے گئے، مگر ان کا دائرہ کار محدود اور عملدرآمد کمزور رہا۔ صوبے کا مجموعی ترقیاتی بجٹ یا تو لیپس ہو جاتا یا غیر ترقیاتی اخراجات کی نذر ہو جاتا۔
ایوانِ وزیر اعلیٰ میں داخلے کا راستہ محدود ہو گیا۔اراکینِ اسمبلی، خاص طور پر حکمران جماعت کے بھی، کئی مرتبہ شکوہ کرتے پائے گئے کہ انہیں بزدار صاحب وقت نہیں دیتے۔ گویا عوام کے منتخب نمائندے بھی اس دور میں بے وقعت ہو گئے تھے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس ساری صورت حال کا احتساب کون کرے گا؟ کیا کوئی ادارہ اس بات کی چھان بین کرے گا کہ عثمان بزدار کے دور میں کتنے افسران کے تبادلے ہوئے؟ کتنے افسران نے تین ماہ سے کم عرصہ کسی پوسٹ پر گزارا؟ کتنے تبادلوں کی وجہ مالی لین دین یا سیاسی دباو¿ بنی؟ کس کس منصوبے کے فنڈز واپس چلے گئے؟ اور سب سے اہم یہ کہ پنجاب کو چار سال میں کیا ترقی ملی، یا وہ صرف وقت اور وسائل کا زیاں تھا؟
یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان فیصلوں کی پشت پر کون لوگ تھے؟ کیا وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس معاملے پر توجہ دیں گے، اگر ہاں، تو کیا ماضی کے کرداروںسے بازپرس ممکن ہے؟ کیونکہ جب تک اس بے عملی اور سیاسی تماشے کی جڑوں تک نہیں پہنچا جائے گا اور جب تک حقائق سامنے لا کر آڈٹ نہیں کیا جائے گا، ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔
آج جب وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب ترقی کر رہا ہے تو صوبے کے کسی عام شہری سے پوچھا جائے کہ عثمان بزدار نے کیا کیا، تو اس کے چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ ضرور ابھرے گی۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بزدار کا دور ایک ایسا خواب تھا جو کسی اور نے دیکھا، اور عوام کو صرف اس کی قیمت چکانا پڑی۔ اب وقت آ چکا ہے کہ نہ صرف اس دور کا مکمل آڈٹ کیا جائے بلکہ ایسے تمام تجربات کی حوصلہ شکنی کی جائے جن میں میرٹ، تجربہ، علم اور سوجھ بوجھ کی جگہ اطاعت، خاموشی اور تابع داری کو معیار بنایا جائے۔ یہی احتساب کی اصل روح ہے، یہی جمہوریت کی بقا کی ضمانت۔
لاوارث پنجاب
09:21 AM, 7 Aug, 2025