مریم نواز کی شخصیت بظاہر بھی نہایت مثبت ہے اور جس والد کے زیرتربیت ان کی سیاسی تعلیم ہوئی ہے وہ بھی پنجاب سے بے پناہ محبت کرنے والے ہیں، منیر نیازی کہتے تھے کہ ”حُسن“ معاشرے کو جینے کے قابل بناتا ہے یہ حسن دلکش چہرے کا ہو ”باطنی“ ہو یا پھر تربیت کا تینوں ہی معاشرے سے بدصورتی، منفی سوچ اور منحوسیت کا خاتمہ کرتے ہیں۔
مریم نواز کی شخصیت یہ تینوں ”گُن“ لئے ہوئے ہے پنجاب میں ان کے آتے ہی منحوسیت، غربت، غلاظت کے سائے ختم ہو چکے ہیں خاص کر متوسط اور کمزور طبقے نے سکھ کا سانس لیا ہے۔
اس وقت عالمی جنگی تناظر میں جہاں بڑے بڑے امیر ملک بھی متاثر ہو گئے ہیں وہیں پاکستان کو بھی اقتصادی جھٹکا لگا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں قدرتی اور عالمی مسائل کو سمجھا جاتا ہے جبکہ یہاں ایک خاص طبقہ جس کی تربیت ایک انتہائی پاکستان دشمن سوچ کی گود میں ہوئی ہے مزید پاکستانی ریاست کے خلاف ہو کر زہر بکنا شروع کر دیتا ہے۔ سب جانتے ہیں پٹرول کا بحران عالمی ہے مقامی نہیں اس جنگ نے بڑے بڑوں کی کمر توڑ دی ہے،مگر آفرین ہے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر جنہوں نے عین میاں نوازشریف کی سوچ کو آگے بڑھاتے ہوئے یہاں بھی غریب طبقے کو پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متاثر نہیں ہونے دیا۔
اس موقع پر مریم نواز نے موٹرسائیکل رجسٹریشن چارجز سب سے پہلے ختم کئے ہیں تاکہ لوگ رجسٹرڈ بائیک کے بینیفشری ہو سکیں.... کیونکہ ر جسٹرڈ بائیک پر ماہانہ 20 لٹر پٹرول 100 روپے فی لٹر کے رعایت سے ملا کرے گا اس فیول ”سبسڈی“ کے لئے موٹرسائیکل مالکان 1000 پر کال کر سکتے ہیں رجسٹرڈ موٹرسائیکل مالکان پلے سٹوو سے ایپ ”مریم کو بتائیں“ استعمال کر سکتے ہیں، اسی طرح ویب پورٹل بھی موجود ہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال جس پازیٹو اپروچ کے ساتھ مریم نواز نے کیا ہے شاید ہی کسی نے کیا ہو۔چند دن پہلے سیف سٹی میں جاکر میں حیران ہو گئی۔ سی ایم پنجاب نے اتنی زیادہ ایپ اور نمبرز جاری کروا رکھے ہیں کہ خواتین کو یہ تحفظ کبھی حاصل نہ تھا۔
ایسے موقع پر مریم نواز اپنے کاشتکار بھائیوں کو نہیں بھولیں۔ پنجاب میں 25 ایکڑ تک اراضی مالکان کی مالی معاونت ہو گی۔ ہر ایکڑ کے لئے 10 لٹر ڈیزل پر 150 روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ مزید براں اس سے زیادہ ہمدردانہ رویہ کیا ہو سکتا ہے کہ مریم نواز صاحبہ نے پورے پنجاب کے اندر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کر دی ہے۔ میٹرو بس سروس، سپیڈو بس اور گرین بس کے علاوہ اورنج ٹرین کا سفر بھی فری ہے۔ مسافروں کو ایک روپے تک کا ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا ایسا کبھی ہوا ہے پہلے....؟
یہی نہیں محترمہ وزیراعلیٰ نے زراعت کسان اور بنیادی طور پر خوراک کے تحفظ کے لئے کسانوں کو نقد مالی معاونت کا بھی اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب ذاتی طور پر اس امر کی نگرانی کر رہی ہیں کہ شفاف طریقے سے یہ رقوم کسانوں تک پہنچیں اور وہ اس ”سبسڈیز“ سے بھی فائدہ اٹھا سکیں۔اس مقصد کے لئے مریم نواز نے ماہانہ ٹارگیٹڈ سبسڈی کا اعلان کیا ہے رجسٹرڈ گڈز ٹرانسپورٹ کے لئے ستر ہزار بڑی گاڑیوں 80 ہزار اور بس سروس کے لئے 1 لاکھ کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد متوسط اور کمزور طبقے کی مالی معاونیت تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ معیشت اور معاشرے کا پہیہ چلنے کے لئے مدد فراہم کرنے کی ممکن کاوشیں کی ہیں۔
کوئی شعبہ نظر انداز ہو جائے مریم نواز کے ہوتے یہ کیسے ممکن ہے یہ پہلی پنجاب حکومت ہے جس میں خواتین نہایت حساسیت سے ملک کا انتظام و انصرام چلا رہی ہیں اور یہ پہلی حکومت ہے جس کی خاتون انفارمیشن منسٹر براہ راست عوام سے مخاطب رہتی ہیں بغض اور پلانٹڈ لوگوں کی تنقید کی پرواہ کئے بغیر بھی کہ کہیں کوئی سچا حق دار محروم نہ رہ جائے پنجاب ہمیشہ یاد کرے گا کہ پنجاب پر جب ان شاندار خواتین کی حکومت تھی تو انہوں نے کبھی اپنی ذات پر نشانہ بازی کرنے والوں کو بھی نقصان نہیں پہنچایا مرد ساری زندگی انتقامی سیاست کرتے ہیں جبکہ پنجاب خوش قسمت ہے کہ اس وقت ایک خوش شکل، خوش اطوار اور خوشگوار وزیراعلیٰ کے زیرانتظام ہے۔
”مریم نواز کی کمزور طبقے پر عنایات“
09:07 AM, 8 Apr, 2026