پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ میں 'امن مشن': اسلام آباد عالمی مذاکرات کا مرکز بن گیا، نائب وزیراعظم 

06:31 PM, 7 Apr, 2026

اسلام آباد :نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ کے اہم اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اس وقت خطے کو ایک ہولناک جنگ سے بچانے کے لیے مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان وہ پہلا اسلامی ملک تھا جس نے ایران پر ہونے والے حملے کی فوری اور غیر مبہم الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے بتایا کہ     جس وقت حملہ ہوا، وہ مدینہ منورہ میں تھے اور وہیں سے فوری طور پر مذمت کی ہدایت جاری کی۔    حملے کے فوراً بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا گیا تاکہ کشیدگی کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
نائب وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ اس نازک سفارتی مشن میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار کلیدی رہا ہے۔ ان کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں     فریقین کا اہم اجلاس، جو پہلے استنبول میں ہونا تھا، پاکستان کی کوششوں سے اسلام آباد منتقل ہوا۔    پاکستان کی سفارتی مہارت کے باعث فریقین مذاکرات پر آمادہ ہوئے اور بعد ازاں چین بھی اس عمل کا حصہ بن گیا۔
    اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ سے رابطے کے بعد ایک روزہ ہنگامی دورہ چین بھی کیا تاکہ خطے کے استحکام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنایا جا سکے۔نائب وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستانی سفارت کاری کے نتیجے میں فریقین کے درمیان پہلے 6 روزہ مہلت حاصل ہوئی، جسے مزید 2 دن کے لیے بڑھایا گیا، تاہم گزشتہ روز صورتحال نے اچانک خطرناک رخ اختیار کر لیا۔ اسرائیل کے بڑے حملے کے جواب میں ایران کی جانب سے سعودی عرب کے آئل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا، جس سے امن کی جاری کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ   موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے، جس کی وجہ سے تمام تفصیلات ابھی بیان نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے ایوان اور قوم سے دعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب بھی کوشش کر رہا ہے کہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جائے اور حالات کو قابو میں رکھا جائے۔ پاکستان امن کے قیام کے لیے اپنی تمام تر سفارتی توانائیاں صرف کرتا رہے گا۔

مزیدخبریں