اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے توانائی کے شعبے میں خود کفالت کے لیے بڑا روڈ میپ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو مہنگے درآمدی ایندھن کے چنگل سے نکالنے کے لیے شمسی اور قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy) کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بجلی کی طویل مدتی منصوبہ بندی کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم نے شرکاء کو بتایا کہ خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی رسد شدید متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے اطمینان ظاہر کیا کہ قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی بدولت ملک اب تک کسی بڑے توانائی بحران سے محفوظ رہا ہے۔ شہباز شریف نے مستقبل کی ضروریات کے پیشِ نظر بیٹری توانائی سٹوریج سسٹم (BESS) کے منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی، تاکہ شمسی توانائی کو ذخیرہ کر کے بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔وزیراعظم کو بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے حوالے سے آئندہ کئی برسوں کے جامع منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو درج ذیل اقدامات فوری طور پر کرنے کا حکم دیا ملک کے 'انرجی مکس' میں شمسی اور پون (Wind) بجلی کا تناسب بڑھانے کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ بجلی کی پیداوار میں مقامی وسائل کو ترجیح دی جائے تاکہ زرمبادلہ کی بچت ہو سکے۔ صنعتی اور گھریلو صارفین کو سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے ترسیلی نظام (Transmission Lines) کو جدید بنایا جائے۔
درآمدی تیل پر انحصار ختم کریں گے، بجلی کا مستقبل صرف 'گرین انرجی' میں ہے: وزیراعظم شہباز شریف
03:15 PM, 7 Apr, 2026