ویانا: اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسداد منشیات و جرائم (UNODC) نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر ایک بار پھر تشویشناک وارننگ جاری کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان کی ناکام حکمرانی کے سائے میں افغانستان سے ہونے والی منشیات کی اسمگلنگ نے خطے اور پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
'افغانستان انٹرنیشنل' کی رپورٹ کے مطابق، طالبان رجیم کے تحت افغانستان میں میتھا مفیٹامین (آئس) جیسی انتہائی مہلک منشیات کی پیداوار میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے، جو اب بڑے پیمانے پر بین الاقوامی سرحدوں کے پار اسمگل کی جا رہی ہے۔عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ افغانستان سے پھیلنے والے منظم جرائم کے سنگین خدشات حقیقت بنتے جا رہے ہیں، جس نے پڑوسی ممالک کے لیے سکیورٹی رسک بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف طالبان کے اعلانات محض دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابر ہیں، کیونکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔سفارتی حلقوں میں اس بات پر گہری تشویش پائی جاتی ہے کہ منشیات کے اس کالے دھندے سے حاصل ہونے والی رقم انتہا پسند گروپوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغان سرزمین کو جرائم اور منشیات سے پاک نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
افغانستان منشیات کی اسمگلنگ کا عالمی مرکز بن گیا؛ طالبان رجیم خطے کی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج
12:22 PM, 7 Apr, 2026