ہم اب اپنے بچوں کی خوشیوں میں خوش ہیں

09:09 AM, 7 Apr, 2026


ہم اپنے بزرگوں یا اپنے والدین کی اشارے سے کہی یا سمجھائی ہوئی کسی بات کو حکم کا درجہ دے کر اُسے ٹالنے کا تصور بھی نہیں کرتے تھے، اب ہمارے اکثر دوست یہ شکوہ شکایت کرتے ہیں وہ اپنی اولاد کو جتنا چاہیں سمجھا لیں وہ وہی کرتی ہے جو اُن کے جی میں آتا ہے، شہروں خصوصاً ماڈرن شہروں کو چھوڑیں ہمارے اکثر دیہاتوں میں بھی اب یہی حالات ہیں، بدقسمتی سے ماڈرن شہروں کی کچھ بداخلاقیاں ہمارے دیہاتوں کی دیرینہ خوبصورت اخلاقی روایات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں، اگلے روز میں اوکاڑہ کے قریب ایک دیہات میں کسی جاننے والے کی عیادت کے لیے گیا وہاں ایک نوجوان نے اپنے بوڑھے والد کی کسی بات کے جواب میں کہا ”ابا تُوں چُپ کر تینوں بوہتا پتہ اے“، ابا بیچارہ چُپ کر گیا، میں سوچ رہا تھا ہم اپنے ابے کو ایسی بات اول تو کہنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے اور اگر اس طرح کی یا اس سے بہت ہلکی بے ادبی بھی کبھی ہم سے ہو جاتی ابا مار مار کے ہمیں ادھ موا کر دیتا تھا، میں جب دو تین ماہ بیرون مُلک قیام کے بعد لاہور واپس آتا تھا میری والدہ آتے ہی ایک لسٹ میرے ہاتھوں میں تھما دیتی تھیں، اُس میں یہ تفصیل ہوتی تھی ”تمہاری غیر موجودگی میں فلاں رشتہ دار کی شادی ہوئی ہے، فلاں کے گھر بچی یا بچہ ہوا ہے، فلاں فوت ہو گیا ہے، فلاں بیمار ہے، اگلے دو تین دنوں میں تم نے اُن سب کی طرف حاضری دینی ہے“، میں امی سے پوچھتا ”آپ لوگ نہیں گئے؟“ وہ فرماتیں ”ہم گئے تھے مگر اللہ نے جو عزت اور مقام تمہیں دیا ہے تم جاو¿ گے وہ زیادہ خوش ہوں گے“۔ امی کی وفات کے بعد یہ لسٹ ابو میرے ہاتھ میں تھما دیتے تھے، اب یہ کام بیگم کرتی ہے، اللہ کے فضل سے ہم اپنے بزرگوں اور والدین کی خوبصورت روایات کو اب تک نبھاتے چلے آ رہے ہیں، مگر ہم اپنے بچوں سے یہ توقع نہیں کرتے وہ ان خوبصورت روایات کو من و عن آگے لے کر چلیں گے، میں کسی اور کی کیا مثال آپ کو دُوں، میں آپ کو اپنی مثال دیتا ہوں، میں جب بیرون مُلک ہوتا ہوں، اکثر بیگم بھی میرے ساتھ ہوتی، اس دوران جب میں اپنے اکلوتے بیٹے راحیل سے کہتا ہوں ”ہماری غیر موجودگی میں رشتہ داروں کے دُکھ سُکھ میں آپ شریک ہوا کرو وہ ہماری بات مان کر چلے تو جاتا ہے مگر مجھے لگتا ہے وہ خوشی سے نہیں جاتا، ایک بار ازراہ مذاق اُس نے مجھ سے کہہ بھی دیا تھا ”ابو جی ملنے ورتنے میں آپ کی برابری میں لاکھ چاہ کر بھی نہیں کر سکتا، آپ میری بس یہی ”خدمت“ قبول فرما لیں۔ میں نے اکلوتا بیٹا ہونے کے باوجود آپ کو عمر بھر شکایت کا موقع نہیں آنے دیا“۔ میں نے اُس کی یہ بات مان لی کیونکہ میں نے اکثر اکلوتی اولاد کو اپنے والدین کو تگنی کا ناچ نچاتے دیکھا ہے، ہمارا المیہ دیکھئے بچپن اور جوانی میں ہم اپنے والدین سے ڈرتے تھے اب بڑھاپے میں اپنی اولاد سے ڈرتے ہیں وہ ہماری کسی بات کا بُرا نہ مان جائے، مجھے اپنا بچپن اپنے پچپن میں بھی یاد ہے، میرے والد کی کپڑے کی دکان تھی، رات کو دکان بند کر کے جب اُن کے گھر آنے کا وقت ہوتا تھا ہماری ماں شور مچا دیتی تھی چلو اپنے اپنے بستے (سکول بیگ) کھول لو، ابو دے آن دا ویلا (وقت) ہو گیا اے“۔ ہم سب بہن بھائی اپنے اپنے بستوں سے کتابیں کاپیاں نکال کر بیٹھ جاتے اور تب تک لکھتے پڑھتے رہتے جب تک ابو کھانا وغیرہ کھا کے فارغ نہ ہو جاتے، آج اس طرح کا ہمارا کوئی ڈر خوف ہمارے بچوں پر نہیں ہے، اُلٹا ہمارے بچوں نے ہمیں ”پڑھنے پایا“ ہوتا ہے، ایسی ایسی باتیں ایسی ایسی حرکتیں وہ کرتے ہیں بندہ سوچتا ہے اس ”افلاطونی مخلوق“ کا ہم کیا کریں؟ ہم اُن کا کچھ نہیں کر سکتے، بہتر ہے اُن کے کچھ معاملات میں ہم اُتنی ہی مداخلت کریں جتنی وہ برداشت کر لیں، ورنہ وہ ہمارے کچھ معاملات میں اتنی مداخلت شروع کر دیں گے جتنی ہم برداشت نہیں کر سکتے، ویسے سارے بچے اس طرح کے نہیں ہوتے، بے شمار بچوں یا نوجوانوں نے اپنے بزرگوں کی اخلاقی روایات کو بڑی مضبوطی سے تھام رکھا ہے، ایسے ہی ایک نوجوان سارب میراں کی شادی میں گزشتہ روز شرکت کا مجھے موقع ملا، وہ میرے محترم و محسن گوجرانوالہ سے سابق صوبائی وزیر چودھری محمد اقبال کا پوتا اور میرے بھائی چودھری محمد آصف اقبال کا صاحبزادہ ہے جس کے ساتھ میرا تعلق گورنمنٹ کالج لاہور کے زمانہ طالب علمی سے ہے، اس تقریب میں بیشمار دیرینہ دوستوں سے میری ملاقات ہوئی، ایک دوسرے کی عزت قدر کرنے والوں سے پنڈال بھرا ہوا تھا، حمزہ شہباز شریف بھی تشریف لائے، اُن سے ملنے اور اُن کے ساتھ سیلفیاں بنانے والوں کا رش اتنا زیادہ تھا اس دھکم پیل میں میری ہمت ہی نہیں ہوئی میں اُن سے ملتا حالانکہ اُن کا استقبال کرنے کے لیے چودھری اقبال صاحب اور آصف اقبال نے مجھے اینٹرس پر اپنے ساتھ کھڑا کر لیا تھا، حمزہ شہباز شریف کے بھائیوں جیسے پولیٹیکل سیکرٹری احمد سلیم بٹ کی نظر مجھ پر پڑی وہ زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے سٹیج پر لے گئے، اُس کے بعد حمزہ شہباز شریف جتنی دیر وہاں رہے مجھے اپنے ساتھ رکھا، اس تقریب میں جس طرح ایک بہت بڑا ہجوم دیوانہ وار اُن سے مل رہا تھا میں سوچ رہا تھا کاش ہمارے کچھ سیاستدان یہ مقبولیت اُس وقت بھی بحال رکھا کریں جب وہ حکمران بنتے ہیں، میں جب اپنے بڑوں یا بزرگوں کی اخلاقی روایات کی بات کرتا ہوں یا اُن کے ادب کی بات کرتا ہوں شریف خاندان کی مثال دئیے بغیر نہیں رہ سکتا، اس فیملی میں اپنے بزرگوں کا ادب کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہوا ہے، اپنے دادا میاں محمد شریف کو یاد کرتے ہوئے حمزہ شہباز کی آنکھیں آج بھی بھر آتی ہیں، یہی حالت چودھری اقبال گُجر کی فیملی کی بھی میں نے دیکھی، اُن کے دوہتے پوتے ہاتھ باندھ کر اپنے بڑوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں، آصف اقبال سے میرا برسوں پُرانا یارانہ ہے میں نے آج تک ایک بار ایسا نہیں دیکھا اپنے والد کی کسی بات سے اُس نے اختلاف کیا ہو، اپنے پوتے سارب میراں کی شادی پر میرے محترم و محسن چودھری محمد اقبال کی خوشی دیدنی تھی، آج کل وہ عموماً چھڑی ہاتھ میں پکڑتے ہیں، خوشی میں وہ بغیر سہارے کے کھڑے تھے، میں اپنی زندگی میں بہت کم اتنا خوش ہوا ہوں گا جتنا خوش میں اُس روز اپنے محسن و محترم چودھری محمد اقبال کو خوش دیکھ کر ہوا۔

مزیدخبریں