دبئی (رپورٹ: سعدیہ عباسی) متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی صحافیوں نے وطنِ عزیز کے بعض میڈیا حلقوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یو اے ای کے خلاف جاری "سنسنی خیز مہم" کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
صحافتی فورم نے واضح کیا کہ یو اے ای کی معیشت، ایئرپورٹس اور سماجی نظام مکمل طور پر مستحکم ہے۔ کسی بھی قسم کے معاشی بحران یا "ریاستی ناکامی" کا بیانیہ محض مفروضوں پر مبنی ہے۔ مقررین نے خبردار کیا کہ غیر ذمہ دارانہ تجزیے نہ صرف سفارتی تعلقات کو بگاڑ سکتے ہیں بلکہ یہ وہاں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار اور سماجی تحفظ کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
قرضوں کی واپسی جیسے تکنیکی معاملات کو "ناراضی کی کہانیوں" میں بدلنا صحافتی بددیانتی ہے۔ جس ملک نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا، اس کے ساتھ تعلقات میں سنجیدگی لازم ہے۔مباحثے میں شریک طاہر منیر طاہر، خالد ملک، سعدیہ عباسی اور دیگر نے متفقہ طور پر کہا کہ پاکستانی میڈیا کو ریٹنگ کے پیچھے بھاگنے کے بجائے ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے۔ یو اے ای کی قیادت نے ہمیشہ پاکستانیوں کی فلاح کو مقدم رکھا ہے، لہٰذا اندھی تقلید کے بجائے شعور اور فہم سے کام لینا وقت کی ضرورت ہے۔
"منفی پروپیگنڈا مسترد: یو اے ای میں مقیم 20 لاکھ پاکستانیوں کا مستقبل داؤ پر نہ لگایا جائے"
12:06 PM, 7 Apr, 2026