بند فلم انڈسٹری کو کیا آئی ایم ایف کھولے گی؟…(پہلا حصہ)

09:14 AM, 7 Apr, 2025

ایک دور تھا جب پاکستان میں فلم انڈسٹری کا طوطی بولتا تھا۔ اردو اور پنجابی فلموں کے طوفان برپا ہوتے تھے۔ ایک سے بڑھ کر ایک فلم سلور جوبلی سے گولڈن جوبلی سے پلاٹینیم جوبلی تک بڑی فلمیں بڑے چہروں کے ساتھ جب سینما گھروں کی زینت بنتی تھیں تو عوام کا سمندر امڈ آتا تھا۔ ٹکٹ بلیک ہوتے، ایڈوانس بکنگ کے لئے لائن در لائن لوگ کھڑے نظر آتے۔ دوسری طرف وہ گلیمر کا ایک ایسا دور تھا جب ایک جوان سے بوڑھے آدمی تک فلم میں دلچسپی پیدا کرتی تھی۔ خاص کر عیدوں کے موقع پر بڑی پروڈکشنز کے بینرز تلے بڑی فلموں اور بڑے اداکاروں کے درمیان مقابلے کا رحجان ہوا کرتا تھا۔ بھارت کی فلم انڈسٹری جس کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ بہت بڑی ہے وہ ہماری فلموں کی کہانیاں اور گیت چرایا کرتے تھے اور ہم بھارت سے کہیں دو ہاتھ آگے تھے۔ اردو اور پنجابی فلموں نے فلم انڈسٹری کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔ پھر کیا ہوا کہ ہم بجائے مزید عروج پکڑتے نجانے کسی کی کیا بد نظر لگی کہ ہم زوال کی طرف جانے لگے اور پھر ایسے گئے کہ بس گئے ہی رہ گئے اور غریب عوام کو سستی تفریح دینے والی فلم انڈسٹری بند ہوگئی۔ سٹوڈیوز گوداموں میں اور سینما گھر شو رومز میں بدل گئے۔ 
دنیا کے نظام ایجوکیشن، صحت، سپورٹس، فنون لطیف اور آپ کی فلم انڈسٹری کی بنیادوں پر چلتے ہیں اور بدقسمتی سے ہماری قوم ایک صدی کی طرف رواں دواں ہے یہاں نہ صحت، نہ سپورٹس، نہ فنون لطیفہ، نہ ثقافت اور نہ تعلیم کے نظام بن سکے۔ حکومت کوئی بھی ہو اس کے بنیادی فرائض میں یہی وہ شعبہ جات ہوتے ہیں جن پر اگر وہ کام کرتے تو پھر قوم سنور جاتی۔ ہماری سب سے بڑی بربادی اور تباہی کا سبب سیاسی حکمرانوں کی ناقص پالیسیز اور سیاسی کھلواڑ ہے۔ گزشتہ دنوں یو بی جی کے چیئرمین اور پاکستان فلم پروڈیوسر ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایس ایم تنویر کے ساتھ ایک ملاقات ہوئی تو انہوں نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان میں فلم انڈسٹری کو دوبارہ زندہ کرنے کی طرف جا رہے ہیں۔ میرے لئے بڑی حیران کن بات تھی کہ پاکستان کے بڑے بزنس مین کی طرف سے ایسا بیان آنا کہ فلم انڈسٹری جو دو تین عشروں سے بند ہے اس کو زندہ کرنا ہے یعنی یہ کام تو حکومتوں کو کرنا ہے بہرحال یہاں ایک اور اچھی خبر نے امید دلائی جس کے مطابق پنجاب اور سندھ کے ایک سو سترہ نوجوان فلم سازوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ انہیں سہولیات اور فنڈز دیں تاکہ پاکستان میں معیاری فلمیں بنائی جا سکیں۔ 
گزشتہ بیس سالوں سے ہماری فلم انڈسٹری بند پڑی ہے۔ آج پوری دنیا میں فلم ایک ایسا شعبہ ہے جس کی کمائی اربوں روپے میں ہے اور ثقافتی محاذ پر اگر بھارت کی مثال دوں تو وہاں حکومت کو سب سے زیادہ پیسہ یہاں سے جنریٹ ہوتا ہے۔ ایک دور تھا جب پاکستانی سٹوڈیوز میں دن رات فلمیں بنا کرتی تھیں اب وہاں یا تو گھر بنا دیئے گئے کچھ نے گودام۔ یہاں ایک احسان ہم پر سید نور نے کیا۔ انہوں نے شباب سٹوڈیو کا ایک حصہ خرید کر فلم سٹوڈیوز کے نام کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ دوسری طرف ہمارے سینما گھر یا تو شو رومز یا فلیٹ اور دکانوں میں تبدیل کرکے فلم انڈسٹری کی کمر میں آخری کیل بھی ٹھونک کر اس کے جنازے کو لحد میں اتار دیا…
اس سے پہلے کہ میں ماضی کے حوالے سے بات کروں۔ سینما گھروں کی تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ ملک بھر میں 186سینما گھر تھے، ان میں 67بند کر دیئے گئے۔ بندش کی بنیادی وجوہات میں ایک تو غریب آدمی مہنگی ٹکٹ خریدنے کی ہمت نہیں کر پا رہا۔ کہاں ٹکٹ پچاس سو روپے ہوا کرتی تھی اور آج وہٹ ٹکٹ دو ہزار پر چلی گئی ہے۔ ہمارے ہاں مہنگائی کا عالم یہ ہے کہ غریب آدمی روٹی کھائے یا وہ فلم دیکھے۔ ایک ہی تو اس کے پاس سستی تفریح تھی جو آپ نے اس سے چھین لی۔ یہ درست ہے کہ ملک اس وقت معاشی دبائو سے نکل رہا ہے۔ اس دبائو کی وجہ سے فلم انڈسٹری ہی نہیں اور دوسرے ادارے بند پڑے ہیں جو عوامی تفریح کے لئے بڑے بڑے ایک جائزے کے مطابق فیسٹیول کرایا کرتے تھے۔ 2022ء میں ریلیز ہونے والی بڑی فلم مولا جٹ تھی جس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد آج تک نہ کوئی فلم بنی نہ ریلیز ہوئی۔ کہاں وہ دور جب ہر ہفتے ایک دو نئی فلمیں ریلیز ہوا کرتی تھیں۔ ہوا یہ کہ حکومتی عدم دلچسپی کے باعث پاکستان سینما انڈسٹری سے لے کر فلم کے سیٹ تک غیرمعیاری پروڈکشنز اور جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی نے ہماری فلم کو بندش کے راستوں پر ڈال دیا اور اگر ایک آدھ نئی فلم آ ہی جاتی ہے تو بڑھتے ٹکٹ کون خرید کر فلم دیکھے۔ جب فلم ہی نہیں بنے گی تو سینما گھر ختم ہی ہوں گے۔ آپ اندازہ کریں گزشتہ سات سالوں میں 67سینما گھر گرا دیئے گئے اور سب سے زیادہ نقصان لاہور کو ہوا جہاں تیس بڑے سینما گھر بند ہوگئے جبکہ کراچی اور حیدر آباد کے پینتیس سینما گھر توڑے گئے۔ اب جس ملک میں نہ فلم بنے نہ سینما گھر ہوں تو کون غریب عوام کو تفریح فراہم کرے گا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ فلم انڈسٹری کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟ اور وہ کون سا مافیا ہے جو فلم انڈسٹری کو دوبارہ زندہ نہیں ہونے دے رہا۔ اگر میری ناقص رائے لی جائے تو میں یہ بات حقائق کے ساتھ ثابت کر سکتا ہوں کہ ہماری فلم انڈسٹری کی تباہی میں جہاں اس دور کے ماحول کا کردار تھا وہاں ہماری کسی بھی حکومت نے اس پر شفقت کا ہاتھ نہیں رکھا اور کبھی اس کو جدید سینما کی طرف لے جانے میں مدد کی اور نہ جدید سازو سامان دیا ۔         (جاری ہے)


جبکہ ادوار کے حوالے سے بات کروں تو ہر آنے والی ہر حکومت نے فلم انڈسٹری کو زندہ رکھنے کے لئے بڑے بڑے دعوے کئے مگر ان میں ایک بھی پورا نہ ہو سکا۔ جدید زمانے میں ہمارے ہاں آج بھی اِکا دُکا کلر لیب ہوں گی۔ اس سے بڑی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارے پاس فلم بنانے کے لئے جدید کیمرے تک نہیں۔ آج اگر بڑی سکرین پر فلم اتاری جاتی ہے تو پرانے کیمروں ہی سے کام لیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں جب کوئی بھی حکومت آگے نہیں آئے گی نہ اس طرف توجہ دے گی تو پھر مسائل اور بڑھیں گے۔ بڑے پروڈکشنز ہائوس فلم بنا تو رہے ہیں مگر وہ غریب آدمی کے لئے نہیں بنتی۔ ایسے حالات میں ایس ایم تنویر کو شاباشی دینا ہوگی کہ انہوں نے اپنی ٹریڈ سیاست اور کاروباری مصروفیات میں سے وقت نکال کر اگر فلم انڈسٹری کو زندہ کرنے کی ٹھان لی ہے اور مجھے علم ہے کہ وہ ایسا کر جائیں گے تو پھر امید ہے کہ ہمارے ہاں سستی، معیاری اور بہترین پروڈکشنز کے بینر تلے جہاں فلم بنے گی تو وہاں مردہ فلم انڈسٹری میں جان بھی پیدا ہو جائے گی۔ اس سلسلے میں ایس ایم تنویر کا جو موقف سامنے آیا ہے وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں فلم انڈسٹری جو ایک طویل عرصہ سے بند پڑی ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ آج کے مہنگے دور میں فلم بنانا امیروں کا شوق ہے جبکہ میرے نزدیک ایسی بات نہیں۔ اب میری اپنی ایک فلم پروڈیوسر ایسوسی ایشن ہے جب میں نے اس طرف توجہ دی تو مجھ۔ کہا گیا کہ ایک تو آئی ایس پی آر والے فلم بناتے ہیں تو دوسری طرف جیو اور اے آر وائی پروڈکشن کے زیراہتمام فلمیں بنائی جا رہی ہیں اور ان فلموں پر پچیس سے پینتیس کروڑ تک کی سرمایہ کاری ہوتی ہے اور اب ایک عام آدمی کے بس میں یہ بات نہیں رہی کہ وہ فلم بنائے اور پھر جب وہ فلم بنا کر اس کو کسی سینما میں نمائش کرتا ہے تو اس کا ٹکٹ پندرہ سو سے پچیس سو تک کا ہے جو عام آدمی خریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس فلم انڈسٹری کو دوبارہ چلانا اور زندہ کرنا ہے اور ازسرنو ایک ایسی فلم انڈسٹری کی تشکیل نو کرنا ہے کہ ہم کم لاگت پر اچھی عوامی معیاری فلمیں بنائیں اور انشاء اللہ ایسا ہوگا۔ آج گھٹن زدہ ماحول میں اس کی بہت ضرورت ہے۔ دیکھیں، بڑے ادارے تو بڑے کام ہی کریں گے۔چلیں انہوں نے کچھ تو کام کئے ہم تو اس سینما کی طرف جا رہے ہیں جہاں اچھی، سستی اور معیاری فلمیں پروڈیوس کریں گے عوام کو اِدھر لائیں، آپ اچھی فلم بنائیں گے تو وہ کامیاب ہوگی۔ اس سلسلے میں جب میں کچھ لوگوں سے ملا تو پتہ چلا کہ ہماری فلم کی لاگت کم از کم دو ڈھائی کروڑ روپے بنتی ہے اور جس سینما میں فلم لگاتے ہیں تو وہ اس کو دو تین دن کے بعد اتار دیتے ہیں۔ دوسری طرف سینما والوں کے پاس جب بڑی پروڈکشن کی بڑی فلم آتی ہے تو وہ اپنی کمائی کی خاطر اس فلم کو زیادہ پرموٹ کرتے ہیں۔ اب ماضی میں ہمارے ہاں ایک وقت تھا۔ دو سو سے زائد سینما گھر تھے اور اب چند گنے چنے رہ گئے ہیں۔ ان حالات میں جب آپ کے ہاں فلم نہیں بن رہی تو کون نئے سینما گھر بنائے گا۔ ایسے حالات میں اگر آرٹس کونسل والے فلم چلا دیں اور ٹکٹ بیس روپے رکھیں گے تو فلم ضرور چلے گی۔ اب میں آپ کے ساتھ اکنامی کی صورتحال پر بات کر رہا ہوں کہ فلم انڈسٹری کے نہ ہونے سے آپ کا بہت سا پیسہ ضائع ہو رہا ہے جو آنا چاہئے تھا۔ اب یہاں ایک مثال دوں گا کہ ابھی حال ہی میں میں کراچی گیا تو پتہ چلا کہ ایک ایکسپو ہو رہی ہے اور کراچی کے تمام ہوٹلز بک ہیں۔ باہر کی دنیا سے لوگ ہمارے ہاں آ رہے ہیں۔ اگر ایک ایکسپو پر بڑے ہوٹلز بک ہو سکتے ہیں تو اندازہ لگائیں کہ اگر فلم انڈسٹری دوبارہ سر اٹھائے گی تو معاملات کہاں تک جا سکتے ہیں۔ 
یہ آپ کی بات درست ہے کہ تفریح کا سامان ہوگا تو عوام اِدھر توجہ دیں گے۔ ملک میں جگہ جگہ فیسٹیول ہوں گے۔ آپ کو یاد ہے کہ ہمارے ہاں سب سے بڑا فیسٹیول پتنگ بازی ہوا کرتا تھا۔ اس وقت تو شہروں کے شہر لاہور آ جاتے تھے۔ اب بدقسمتی سے پیسے کے لالچ میں دھاتی تاروں سے اموات سامنے آئیں اور حکومت کو یہ فیسٹیول بند کرنا پڑا۔ انشاء اللہ یہ فیسٹیول بھی ہوگا اور آپ کی فلم انڈسٹری بھی ایک دن بحال ہوگی اور ان دونوں پر بڑی تیزی کے ساتھ کام ہو رہا ہے۔ 
اور آخری بات…!
دیکھنے میں یہ آ رہا ہے کہ جو کام حکومت نے کرنا ہیں وہ نہیں کر رہی اور جو کام حکومت نے نہیں کرنے اس میں پنگا لئے ہوئے ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہر عروج کے بعد زوال آتا ہے اور زوال کے بعد اس وقت عروج آتا ہے جب ایس ایم تنویر جیسے لوگ اس کو زندہ کرنے کے لئے آگے آئیں گے۔ یہاں حکومت سے بھی درخواست ہے کہ وہ کم از کم عوام کو اس گھٹن زدہ اور پریشان کن ماحول سے نکالنے کے لئے کم از کم ان اداروں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھے جو عوامی تفریح کا سبب بنتے ہیں۔ فلم بنے گی تو بے شمار لوگ سامنے آئیں گے، سٹوڈیوز آباد ہوں گے۔ جب حکومت اس کو فری ٹیکس زون میں رکھے گی تو پھر باہر سے جدید ٹیکنالوجی، کیمرے، لیب اور فلم کا سازو سامان آ سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سینما گھر پھر سے آباد ہوں گے۔ معیاری اور سستی فلم سے جہاں عوام کو تفریح ملے گی وہاں حکومت بھی اربوں روپے کمائے گی۔ اب یہ کام تو آئی ایم ایف کا نہیں ہے۔ ایسے حالات آئی ایم ایف نے نہیں ہم نے خود پیدا کرنے ہیں کہ ملک میں فلم انڈسٹری دوبارہ زندہ ہو سکے۔ 

مزیدخبریں