بی وائی سی! بی ایل اے کا سیاسی ونگ

09:12 AM, 7 Apr, 2025

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) خود کو بلوچ عوام کے حقوق کی ایک نمائندہ تنظیم ظاہر کرتی ہے مگر در حقیقت یہ دشمن ممالک کے ایجنٹوں کا ایک مسلح جتھہ اور کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے ) کا سیاسی ونگ اور (Non Register Organisation) ہے۔ جس کا اصل مقصد عسکریت اور تشدد پسند تنظیموں کے جرائم پر پردہ ڈالنا اور دہشت گردوں کو ’’لاپتا افراد‘‘ بنا کر ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا کرنا اور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ایک دہشت گرد اور خصوصاً بلوچوں کے لیے ایک غیر محفوظ ریاست ثابت کرنا ہے۔ ان مذموم مقاصد کے لیے ملک دشمن قوتوں نے ماہ رنگ لانگو کا انتخاب کیا، کیونکہ وہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے اہم کمانڈر اور بدنام زمانہ دہشت گرد عبدالغفار لانگو کی بیٹی ہے۔ چونکہ ماہ رنگ نے پہلے ہی غداری کے نظریات میں پرورش پائی، اس لیے اسے زیادہ تربیت دینے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ ملک دشمنی، ذاتی مفادات اور بلوچ عوام کے استحصال کی سوچ اس کے خون میں شامل ہے۔ جس نے اپنے مفادات کے لیے بیرونی آقائوں کی ایما پر سیکڑوں مائوں سے ان کے طلعت عزیز جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹوں کو برین واشنگ کے ذریعے گمراہ کر کے دہشت گرد اور ریاست کا باغی بنا دیا۔ جس نے بلوچ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ہاتھوں سے کتابیں چھین کر ہتھیار پکڑا دئیے، جس نے اپنی سیاست کے لیے بلوچ خواتین کو سڑکوں اور چوراہوں پر لا کر اسلامی اور بلوچ روایات کی دھجیاں اڑا دیں۔ جس نے اسی ریاست کا کھایا اور اسی کے خلاف زہر اگلا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور، معاشرے، ملک اور قوم میں منافق اور غدار پیدا ہوتے رہے ہیں، جن کی منافقت اور غداری کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑا۔ یہ وہ ناسور ہوتے ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اپنی ہی قوم کی جڑیں کاٹتے ہیں۔ کبھی یہ ابن علقمی غدار کی شکل میں بغداد کو تباہ کراتے ہیں، ابن علقمی خلیفہ المعتصم کا وزیر تھا لیکن چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان سے مل گیا، جس کے نتیجے میں 1258ء میں بغداد تباہ ہوا اور لاکھوں مسلمان قتل ہوئے۔ کبھی یہ میر جعفر بن کر 1757ء میں پلاسی کی جنگ میں نواب سراج الدولہ سے غداری کر کے بنگال پر انگریزوں کا قبضہ کراتے ہیں۔ کبھی یہ میر صادق کی شکل میں مسلمانوں کے بہادر سالار ٹیپو سلطان کا وزیر بن کر سرنگا پٹنم کی جنگ میں انگزیزوں کے ہاتھوں ٹیپو سلطان کو شہید کراتے ہیں اور کبھی یہ کریمہ بلوچ بن کراپنے ہندئو بھگوان مودی کی مدد سے بلوچستان میں دہشت گردی، انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور کبھی یہ غدار اور منافق ماہ رنگ لانگو، سمی دین اور صبیحہ بلوچ کی شکل میں ریاست مخالف سرگرمیوں میں شامل ہو کر، بیرونی ایجنڈوں پر کام کرتے ہوئے بلوچ عوام کا استحصال کرتے ہیں، مالی فنڈنگ کے لیے اپنے ہی صوبے بلوچستان میں انتشار، تشدد اور ظلم و جبر کو پیدا کرتے ہیں۔ تاریخ شائد ہے کہ جب کسی قوم یا ملت نے ترقی کی راہ اختیار کی، کچھ عناصر نے ذاتی مفادات کے لیے غداری کا راستہ چنا اور اپنی ہی قوم کی جڑیں کاٹیں۔ اسلامی تاریخ سے لیکر برصغیر کی تاریخ اور موجودہ دور تک، ایسے کردار مسلسل سامنے آتے رہے ہیں جن میں اس وقت ماہ رنگ لانگو سرفہرست ہے۔ یاد رکھیے گا کہ غداروں کا انجام ہمیشہ رسوائی اور تباہی ہوتا ہے، تاریخ کے اوراق ان کی ذلت آمیز زندگی اور موت کی داستانوںسے بھرے پڑے ہیں، ابن علقمی کو ’’بغداد کا قاتل‘‘ میر جعفر کو ’’غدار ملت‘‘ اور میر صادق ٹیپو سلطان کے ایک وفادار سپاہی قادر خان کے ہاتھوں ذلت آمیز موت مرا، چار دن تک اس کی سر سے جدا لاش پڑی رہی اور بغیر کفن کے ہی اسے دفن کر دیا گیا، شہر کے لوگ اب بھی آتے جاتے اس غدار کی قبر پر تھوکتے، جوتے اور غلاظت پھینکتے ہیں۔ کریمہ بلوچ نے 2016ء میں رکھشا بندھن کے دن ویڈیو بیان میں پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے وزیر اعظم نریندرمودی کو راکھی پیش کرتے ہوئے اپنا بھائی قرار دیا اور پاکستان کے خلاف مدد کی اپیل کی۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا تھا کہ بلوچستان میں آگ لگانے کے لیے اس کو ’’بی ایس او آزاد‘‘ کا تعاون حاصل رہا جس کی چیئرپرسن اس وقت کریمہ 
بلوچ تھی۔ کریمہ بلوچ کو بلوچستان میں علیحدگی کی آگ بھڑکانے میں بھارت حمایت اور مالی مدد حاصل تھی، اس نے دوران تعلیم ’’بی ایس او آزاد‘‘ جوائن کی اور تقریباً ایک عشرے بعد اسی تنظیم کی چیئرپرسن بن گئی کیونکہ اس کا بھائی سمیر بلوچ اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیا جانے والا اللہ نذر بلوچ کا دست راست تھا۔ بی ایس او آزاد بلوچ شدت پسندوں کی تنظیم ہے جو پاکستان سے بلوچستان کو الگ کرنے کے ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ اس تنظیم سے بی ایل اے اور بی ایل ایف نے جنم لیا تھا۔ بی ایل اے کا کمانڈر حربیار مری اور بی ایل ایف کا ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ یہ دونوں کمانڈرز بی ایس او آزاد کے سرگردہ کارکن تھے۔ کالعدم تنظیم بی ایل اے نے بلوچستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ دہشت گردانہ کارروائیاں کی ہیں خاص کر شناختی کارڈ دیکھ کر پشتونوں اور پنجابیوں کو بسوں سے اتار کر مارنا، ہزاروں بے گناہ بلوچوں، پشتونوں اور پنجابیوں کو قتل کیا۔ سال 2013ء میں جب تمام شواہد کی بنا پر بالآخر پاکستان نے بی ایس او آزاد کودہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا تب کریمہ بلوچ افغانستان فرار ہو گئی وہاں سے این ڈی ایس، اس کو انڈیا لے کر گئی۔ جہاں سے اس کو کینیڈا منتقل کیا گیا۔ وہاں اس کو فوری طور پر سیاسی پناہ مل گئی۔ بعدازاں اپنے پول کھلنے کے ڈر سے بھارتی خفیہ ایجنسی راء نے اس کو مروا دیا۔ کینیڈا میں کریمہ بلوچ کی ہلاکت کے بعد ماہ رنگ لانگو نے بھارت کی ایجنٹ ہونے کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ جس کا مقصد کالعدم تنظیم بی ایل اے کو سپورٹ کرنا اور نئے دہشت گردوں کی بھرتی کے لیے تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں کو محرومیوں اور ریاستی ناانصافیوں کی جھوٹی کہانیاں سنا کر گمراہ کرنا تھا۔ ماہ رنگ لانگو نے ایک طرف دشمن ممالک کے ایما بلوچستان میں ’’آزاد بلوچستان کی چنگاری سلگائی‘‘ دوسری طرف ’’دہشت گردوں‘‘ کو مسنگ پرسن بنا کر بی ایل اے کی پشت پناہی اور پراکسی کا حق ادا کیا، تیسری طرف ’’لاپتا افراد‘‘ کا ڈرامہ رچا کر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی ہمدردی اور مالی فنڈنگ حاصل کی۔ اس وقت ماہ رنگ لانگو و دیگر کی گرفتاری جعفر ایکسپریس پر دہشت گرد حملے کے خلاف آپریشن میں واصل جہنم ہونے والے کالعدم تنظیم بی ایل اے کے دہشت گردوں کی لاشوں کے لیے ہسپتال پر دھاوا بولنے کی وجہ سے ہوئی ہے جو کہ قانون کے عین مطابق ہے۔

مزیدخبریں