طلاق۔۔ بچے اور جذبات

09:10 AM, 7 Apr, 2025

’’بابا میں آپ کے ساتھ جائوں گی! ماما مجھے ساتھ لے جائیں‘‘ ۔۔۔ یہ الفاظ شبو (فرضی) نے جب کہے تو چوپال میں موجود سبھی لوگ دل گرفتہ ہو گئے اور تفصیل جاننے کے لیے مضطرب تھے ۔۔۔ شبو ۔۔ چاچا رفیق کی بھتیجی کی سہیلی تھی ۔۔۔ چوپال میں عام طور پر خواتین کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔۔ لیکن۔۔ چاچا رفیق نے جب شبو کی کہانی سنی تو مجبور ہو کر باپردہ خاتون جس کی عمر کوئی اٹھائیس، تیس برس کی ہو گی کو ساتھ لے آئے ۔۔۔ چپ سائیں نے بھی چاچا رفیق کو انکار نہیں کیا ۔۔ شبو دوبارہ بولی ۔۔۔ بھائیو اور بزرگو ۔۔۔ میں نے اکی (فرضی نام) کے ساتھ محبت کی شادی کی تھی۔ شروع شروع میں سب ٹھیک تھا، ہم دونوں خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے۔ اکی میرا بہت خیال رکھتا تھا۔ لیکن پھر ۔۔۔ یہ کہتے کہتے شبو رک گئی ۔۔۔ اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔ اس کے آنسوئوں سے اس کا نقاب بھی بھیگ گیا ۔۔۔ چپ سائیں نے نتھو اور پھتو کو پانی کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔ نتھو نے پانی کا گلاس چاچا رفیق کو دیا ۔۔۔ شبو نے بڑی مشکل سے گھونٹ گھونٹ پیا ۔۔۔ چوپال میں سکوت کی کیفیت تھی ۔۔۔ دو چار منٹ کی خاموشی کے بعد شبو نے دوبارہ بولنا شروع کیا ۔۔۔ اکی کو نجانے کہاں سے موئے جوئے کی لت پڑ گئی ۔۔۔ وہ جوئے کے ساتھ دو چار سگریٹ بھی پینے لگ گیا اور پھر اس کو ہوش ہی نہیں ہوتی تھی ۔۔ شبو نے کہا کہ میرے دو بچے ایک بیٹا اور بیٹی ہے ۔۔۔ میری اکی سے باقاعدہ علیحدگی ہو چکی ہے ۔۔۔ اس نے شادی کے پانچویں سال میرے ہاتھ میں کاغذ تھما کر مجھے گھر سے نکال دیا ۔۔۔ میرے کوئی آگے نہ کوئی پیچھے ۔۔۔ شہر میں بس دو چار لوگ ہی جان پہچان کے تھے ۔۔۔ سلائی کڑھائی جاننے کی وجہ سے گزر بسر شروع کی ۔۔۔ فیملی کورٹ میں بچوں کی حوالگی کے لیے کیس کیا ہے۔۔ وکیل کی فیس نجانے کیسے دیتی ہوں؟ ۔۔ شبو پھر چپ کر گئی ۔۔۔ توقف کے بعد بولی سائیں جی میں نے سن رکھا ہے کہ آپ کی بڑی عزت ہے۔ لوگ آپ کی بڑی سنتے اور مانتے ہیں ۔۔۔ بیٹی والد جبکہ بیٹا میرے ساتھ رہنا چاہتا ہے ۔۔۔ میں عدالت کے چکر لگا لگا کر تھک چکی ہوں 
۔۔ موئی تاریخ پر تاریخ اور کچھ نہیں ۔۔۔ سائیں جی کچھ ایسا کریں، اکی کو سمجھائیں ۔۔۔ بچے میرے پاس رہنے دے ۔۔۔ وہ تو جوئے کی لت میں لگا ہے ۔۔۔ میرے بچوں کو بھی کہیں ۔۔! شبو کہتے کہتے چپ کر گئی اور دوبارہ سسکیاں لینے لگی ۔۔۔ چاچا رفیق نے دوبارہ پانی کا گلاس دیا ۔۔۔ شبو اشکبار آنکھوں اور سر کو جھکائے ۔۔۔ چپ سائیں کی منتظر تھی۔۔۔
چپ سائیں نے ٹھنڈی آہ بھری ۔۔۔ حق ہو ۔۔۔! کہا بھائی دوستو ۔۔ بہن، بیٹی کا ایسا دکھ تو چٹان جیسے انسان کو بھی مٹی کا ڈھیر بنا دیتا ہے۔۔ شبو بٹیا ۔۔۔ ہم سب مل کر ضرور کچھ کریں گے ۔۔۔ صاحبو! ۔۔۔ چپ سائیں چوپال میں بیٹھے، نتھو، پھتو اور دیگر لوگوںکی طرف متوجہ ہوئے ۔۔ بولے ۔۔۔ طلاق ایک پیچیدہ اور حساس موضوع ہے، اور اس کے اثرات بچوں پر گہرے ہوتے ہیں۔ جب والدین طلاق لیتے ہیں تو بچوں کو مختلف جذباتی، ذہنی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا 
ہے۔ ماں باپ کی علیحـدگی کے بعد بچے خود کو اکیلا، مایوس یا گمشدہ محسوس کر تے ہیں۔ وہ اپنے والدین کی محبت اور ساتھ گزرے لمحات کو یاد کرتے ہیں اور گم سم ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کے بچے سکول اور تعلیمی اداروں میں اپنے دوستوں، دیگر سماجی ماحول میں لوگوں کے بدلے ہوئے رویے کو محسوس کرتے ہیں اور بہت حساس ہو جاتے ہیں۔ غلطی تو ماں یا باپ سے ہوتی ہیں لیکن ۔۔ بھگتنا ۔۔۔ بھگتنا معصوم بچوں کو پڑتا ہے ۔۔۔ چپ سائیں بولے ۔۔۔ یہ کوئی سال دو سال کی بات نہیں ہوتی بلکہ عمر بھر اس کو جھیلنا پڑتا ہے۔ چپ سائیں نے کہا کہ ایسے بچوں کی زندگی میں خلا ہوتا ہے جو کبھی پُر نہیں ہوتا ۔۔۔ فیملی کورٹس میں کچھ اس قسم کے 
جذباتی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جب بچے والد یا والدہ کے ساتھ جانے کی ضد کرتے ہیں لیکن ۔۔۔ چپ سائیں دوبارہ غمگین آواز میں بولے ۔۔۔ عدالتی فیصلے کچھ اور ہی ہوتے ہیں۔
چپ سائیں نے نتھو، پھتو کی طرف دیکھا اور کہا میرے بچو ۔۔ میں معاشرے میں جب یہ دیکھتا ہوںکہ کسی کا گھر طلاق جیسے لفظ سے اجڑ گیا ہے تو اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتا ۔۔۔ کاش ۔۔ کاش ۔۔ میرے دل سے آواز آتی ہے کہ کاش میں کچھ کر سکتا لیکن حیف ۔۔۔ میں کچھ نہیں کر پاتا سوائے ہر دو فریقین کو سمجھانے کے ۔۔۔ کبھی کبھار اللہ کریم کی ذات مجھے کامیابی سے نوازتی ہے لیکن ۔۔۔ کبھی کبھی تو دونوں فریقین انتہائی سخت رویہ رکھتے ہیں اور علیحدگی کے سوا بہتر آپشن نہیں ہوتا ہے۔ دوستو! سچ پوچھو تو مجھے شبو جیسی ہر بیٹی سے دلی ہمدردی ہے ۔۔۔ میں اس کے بچوں کے لیے بھی نرم گوشہ رکھتا ہوں۔ وہ میرے لیے نواسے، نواسی کی طرح ہیں ۔۔۔ لیکن ۔۔ صاحبو! شبو نے علیحدگی کا جو فیصلہ کیا وہ درست کیا ۔۔۔ اس کی زندگی اکی کے ساتھ دنیا میں جہنم سے کم نہیں تھی ۔۔۔ شبو سمجھدار ہے۔ سلیقہ شعار بچی ہے ۔۔ سلائی کڑھائی جانتی ہے ۔۔۔ گزر بسر کر لے گی ۔۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ بچوں کو اس جذباتی کیفیت سے نکالا جائے ۔۔۔
چپ سائیں نے کہا بچے ابھی چھوٹے ہیں لیکن وہ کس کرب سے گزر رہے ہیں، یہ تو ان پھول جیسے چہروں سے ہی پوچھا جائے جو کملائے ہوئے پھول کی طرح ہیں۔ چپ سائیں نے ایسے بچوں کے جذبات کی ترجمانی کچھ اشعار سے کی، کہا!
میرے دل میں اک خلا سا ہے
جہاں تم تھے، اب وہاں سناٹا سا ہے
کتنی دعائیں کیں ہم نے، پر تمہارا پیار نہ بچا
وہ لمحے جب تم دونوں ساتھ تھے، دل میں وہ رنگین خواب تھے
اب تم دونوں الگ الگ ہو، میرے دل میں بے شمار تکلیفیں ہیں
میری آنکھوں کے سرمے میں بھی دکھ ہے
تمہارے درمیان جو فاصلہ ہے، رگوں میں بھی اس کا دکھ ہے
میرے دل میں تمہاری تلخ یادوں کا بوجھ ہے
اور میری دعا ہے کہ تم واپس آئو، واپس آ جائو شاید ہمارا دکھ کم ہو جائے
آخری مصرعہ کہتے ہوئے چپ سائیں بھی چپ کر گئے اور ان کی آنکھوں سے اشک بہہ رہے تھے۔ صاحبو! خدا کے لیے گھریلو جھگڑوں کو اتنی ہوا نہ دیا کرو ۔۔۔ کبھی روٹھ گئے تو کبھی مان گئے ۔۔۔ ضد اور انا کی بھینٹ نہ چڑھ جایا کرو ۔۔۔ بُرائی کو گھر کی دہلیز تک نہ لایا کرو ۔۔۔ خدارا ۔۔۔ طلاق جیسا لفظ منہ سے نکالنے سے قبل بچوں پر ہی نظر ڈال لیا کرو اور اس بیٹی کے جذبات کو بھی مٹی میں نہ ملایا کرو ۔۔۔ چپ سائیں کی آواز ڈگمگا گئی ۔۔۔ باقی رہے نام اللہ کا!

مزیدخبریں