رمضان المبارک گزرتے ہی ڈیل اور ڈھیل کے چرچے گھوڑے اور مہرے متحرک، تین گھوڑے خان سے ڈیل کے لیے کوشاں، تین مہروں نے کوششیں ناکام بنا دیں، حماقتوں کے باعث رابطوں کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند، اسٹیبلشمنٹ کا سخت جواب، لگتا ہے خان تیزی سے تاحیات نا اہلی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ عید کی تعطیلات کے دوران اڈیالہ جیل میں قید خان سے ملاقاتیں مگر ’’جو تیری بزم سے نکلا سو پریشان نکلا‘‘ کسی کو ڈانٹ کسی کو ہدایات کسی کی ہدایات، ملاقاتیوں کی فہرستیں تیار کرنے والوں کو گیٹ نمبر 5 پر روک لیا گیا۔ علی امین گنڈا پور، بیرسٹر سیف اور اعظم سواتی جیل کے اندر جانے میں کامیاب، اعظم سواتی نے خان سے ملاقات میں شکایات کے انبار لگا دئیے۔ خیبرپختون خوا اسمبلی کے سپیکر اور دیگر کے خلاف کرپشن کے الزامات لگائے، خان سدا سے کانوں کے کچے، سپیکر کو مستعفیٰ ہونے کا حکم دیا، انہوں نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا۔ خان سے ملاقات کر کے استعفیٰ دیں گے تاہم حماد اظہر کی شکایت کی تو انہوں نے نا قابل واپسی استعفیٰ دے دیا، گنڈا پور اور بیرسٹر سیف سے الگ الگ ملاقات ہوئی۔ ڈانٹ پڑی؟ پتا نہیں، گلے لگایا؟ یہ بھی پتا نہیں، ملاقات کے بعد دونوں استاد شاگرد ستے چہروں کے ساتھ خاموشی سے پشاور روانہ ہو گئے۔ ذرائع بولنے لگے۔ بیرسٹر سیف سے رابطوں کا احوال جانا گنڈا پور کو رابطوں کا ٹاسک سونپ دیا، یہ بھی پوچھا کہ 9 مئی پر معافی یا معذرت اچھا سا فارمولا یا تیر بہدف نسخہ بتائو، جواب میں ’’ہدایات‘‘ پہنچائی گئیں۔ زبان بند رکھیں، سوشل میڈیا کو کنٹرول کریں میں اوپر والوں سے بات کروں گا، بعد کے دنوں میں خبروں کا سیلاب اُمڈ آیا، اندر والوں نے باہر والوں کو بتایا کہ ڈٹا ہوا کپتان لیٹنے کو تیار ہے۔ خاموش رہنے پر آمادہ لیکن نچلا بیٹھنے کی عادت نہ فطرت، ٹوئٹ کر دی جھکوں گا نہیں، بہی خواہوں نے سر پکڑ لیے۔ رابطے چار شرائط سے مشروط، سوشل میڈیا بند، بیرونی لابسٹوں سے لا تعلقی کا اظہار سڑکیں گرم کرنے سے گریز، موجودہ سیٹ اپ کے چلنے کی یقین دہانی خان مشکل میں پھنس کر رہ گئے، ڈیل کر کے باہر آئے تو عوام باہر نہیں آئیں گے عید بعد عوام کو سڑکوں پر لایا گیا تو خان باہر نہیںآ ئیں گے۔ ’’گوئیم مشکل وگرنہ گوئیم مشکل‘‘ ملاقاتوں کے بعد رابطوں کی افواہیں ڈیل کا پروپیگنڈا۔ جنہیں ٹاسک سونپا گیا تھا ان کے رابطے بحال نہیں ہو سکے، کیوں؟ جیل سے باہر موجود قیادت نے کام بگاڑ دیا۔ تین مہرے گھر سے نکلے کرنے چلے اختر مینگل سے اظہار یکجہتی، اختر مینگل کوئٹہ سے 30 کلو میٹر دور 15 سو افراد کا ’’لشکر جرار‘‘ لے کر دھرنا دئیے بیٹھے ہیں۔ مطالبہ بی ایل اے کی مستند دہشتگرد ماہرنگ لانگو کی رہائی۔ اختر مینگل نے مبینہ طور پر کہا کہ میں آئین اور قانون کو نہیں مانتا ماہرنگ کو رہا نہ کیا گیا تو کوئٹہ کی طرف لانگ مارچ کروں گا کور کمانڈر کانفرنس کا عزم مصمم بلوچستان کے امن میں خلل ڈالنے نہیں دیں گے، ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرنے والوں سے پوری قوت سے نمٹیں گے۔ آرمی چیف کے دو ٹوک اعلان کے باوجود پی ٹی آئی کو کوئٹہ جانے اور سرداروں کے کھیل تماشے میں حمایت کا یقین دلانے کا شوق کیوں چرایا۔ دو مہرے محمود اچکزئی کے جلسے میں پہنچ گئے۔ (بی ایل اے کے کسی دہشتگرد نے پنجاب کا شناختی کارڈ رکھنے والے ان حضرات پر حملہ نہیں کیا) جلسہ میں مبینہ طور پر لطیف کھوسہ نے اسٹیبلشمنٹ پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ خوب نعرے لگے۔ ریوڑ میں شامل ہونے والے حامد رضا نے پنجابیوں کی طرف سے معافی مانگی، کاش اچکزئی یا ان کا کوئی کارندہ صادق آباد کے مزدوروں کے قتل پر پنجاب سے بھی معافی مانگتا، تینوں مہروں کو اتنا آگے بڑھنے کی کیا ضرورت تھی کہ واپسی کا راستہ بند ملے، راستہ بند ہو گیا۔ سخت جواب آیا کہ رابطے کون سے مذاکرات، مذاکرات کا ڈول ڈالنے والوں سے ہاتھ ہو گیا۔ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اہم فیصلہ، جیل سے باہر اچھل کود کرنے والوں کو بھی اندر کر دیا جائے گا۔ ’’خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے سب‘‘ ملاقاتوں کے لیے بھاگ دوڑ نہیں کرنا پڑے گی۔ خان کے لیے معافی نہیں پی ٹی آئی کے اختتام یا متبادل قیادت کے لیے انتظامات، ڈیل کا بھانڈا پھوٹ گیا اس کے ساتھ ہی پارٹی میں تقسیم در تقسیم کا مرحلہ شروع ہو گیا۔ عید بعد سڑکیں گرم کرنے کی بجائے سڑکوں پر بکھرے اپنے ٹکڑے جمع کرنا ہوں گے۔
اس سارے کھیل تماشے میں حکومت مضبوط اور مستحکم دکھائی دی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ جمعرات کی سہ پہر بجلی کی قیمتوں میں گھریلو صارفین کے لیے 7 روپے 41 پیسے اور صنعتی صارفین کے لیے 7 روپے 69 پیسے کمی کا اعلان کر کے عوام کے دل جیت لیے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ بجلی سستی کرنے میں آرمی چیف کا کلیدی کردار، اپنی شبانہ روز کوششوں وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری اور ٹیم کے دیگر ارکان کی محنت پر انہیں شاباش دی۔ ریکارڈ کمی میں بڑے بھائی کا بھی ہاتھ تھا۔ اسی خفیہ ہاتھ نے کام دکھایا۔ آئی ایم ایف نے ایک روپے کمی کی اجازت دی تھی۔ میاں نواز شریف نے اویس لغاری کو فون پر اور وزیر اعظم شہباز شریف کو ملاقات کے دوران 10 روپے کمی کی تجویز دی جس کے بعد مذکورہ بالا ریکارڈ کمی کا فیصلہ کیا گیا۔ 60 سال بعد قیمتوں میں کمی پر حکومتی ٹیم قابل مبارکباد آئندہ مہینوں میں مزید کمی کا بھی امکان ظاہر کیا گیا۔ ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے اور اسے معاشی ترقی کی شاہراہ پر ڈالنے میں آرمی چیف اور موجودہ وزیر خزانہ کی کوششیں بھی لائق صد تحسین ہیں۔ توقع ہے کہ بجلی قیمتوں میں کمی کے تسلسل سے مہنگائی میں کمی کے اثرات عوام تک بھی پہنچ پائیں گے۔
معاشی استحکام کی خوش کن خبروں کے باوجود سیاسی عدم استحکام پھیلانے کی سازشیں عوام کے لیے پریشان کن ہیں۔ وفاق کی تین اکائیوں بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا سے اچھی خبریں نہیں آ رہیں۔ بلوچستان میں اختر مینگل، گہرام بگٹی، زین بگٹی اور افغانستان میں بیٹھے ہربیار مری سمیت سرداروں نے بی ایل اے کی حمایت کا جھنڈا اٹھا لیا ہے۔ دھرنا جلوس لانگ مارچ شروع کرنے کی دھمکیاں، 48 اور 72 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن پریشان کرنے کے لیے کافی ہے۔ صوبہ کی شورش ختم کرنے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ کریک ڈائون اور آپریشن شروع کر دئیے گئے ہیں لیکن اس کے ساتھ جمہوری اقدامات بھی ضروری ہیں شنید ہے کہ میاں نواز شریف نے اس سلسلے میں اپنی خدمات پیش کر دی ہیں۔ دعا کرنی چاہیے کہ بلوچستان میں امن قائم ہو سکے، کے پی صوبہ میں افغانوں کی بے دخلی پر گنڈا پور کی حکومتی احکامات کی مخالفت بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں ایکشن لیا جانا چاہیے۔ سندھ میں 4 اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو مرحوم و مغفور (نشان پاکستان) کی برسی پر بلاول بھٹو کی نہروں کے مسئلہ پر تند و تیز تقریر پر باہمی مشاورت اور نہری متازع کا حل حکومت کے لیے از بس ضروری ہے۔
بجلی قیمتوں میں کمی، مذاکرات، تا حیات نا اہلی
09:08 AM, 7 Apr, 2025