سیلابی بحران کی جڑ درختوں کی بے دریغ کٹائی ہے:حافظ نعیم

08:12 PM, 6 Sep, 2025

اسلام آباد: جماعت اسلامی کے قائد حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی بنیادی وجہ درختوں کی بے دریغ کٹائی ہے، جسے حکومت کی نادانی یا غفلت نے مزید بڑھاوا دیا ہے۔

آبی وسائل کے تحفظ سے متعلق ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ہم محض نکتہ چینی نہیں کرتے بلکہ عملی حل تلاش کرنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ماہرین کی کمی نہیں، بلکہ ایمانداری اور دیانت داری کی کمی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 2017 سے ارلی وارننگ کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے مگر حکومتی ادارے مؤثر اقدامات سے قاصر رہے، لہٰذا ان اہلکاروں کی شناخت کی جانی چاہیے جنہوں نے ارلی وارننگ کا نظام نافذ نہ کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ پانی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی اور جامع حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے اور جدید موسمیاتی آلات کی عدم موجودگی حکومت کی ناکامی ہے۔

انہوں نے شمالی علاقوں میں درختوں کی کٹائی کو ماحولیات کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ درخت درجہ حرارت کو کم کرکے قدرتی آفات جیسے کلاؤڈ برسٹ سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

کالاباغ ڈیم کے حوالے سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اسے سیاسی موضوع بنانے کی بجائے اصل مسائل پر توجہ دی جائے۔ اگر حکومت کے پاس کالاباغ ڈیم کی حمایت میں مضبوط دلائل ہیں تو انہیں عوام کے سامنے لانا چاہیے۔

انہوں نے راوی اربن ڈیولپمنٹ منصوبے کو جاری رکھنے کی حمایت کی اور کہا کہ مختلف مفادات کا غلبہ ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ حافظ نعیم نے مطالبہ کیا کہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں کا ضیاع بند کیا جائے اور متنازعہ ڈیموں کے بجائے دیگر اہم منصوبوں پر توجہ دی جائے۔

مزیدخبریں