اسرائیل نے فلوٹیلا مشن کے مزید 29 کارکنوں کو ملک بدر کر دیا، قیدیوں پر بدسلوکی کے انکشافات

11:46 AM, 6 Oct, 2025

بیت المقدس : اسرائیل نے عالمی صمود فلوٹیلا کے زیرِ حراست مزید 29 افراد کو ڈی پورٹ کر دیا ہے۔ اب تک مجموعی طور پر 170 کارکن رہا کیے جا چکے ہیں، جبکہ اس مشن کے دوران 450 سے زیادہ افراد کو اسرائیلی فورسز نے حراست میں لیا تھا۔

رہائی کے بعد روم، میڈرڈ اور دیگر شہروں پہنچنے والے کارکنوں نے بتایا کہ اسرائیلی حراست میں ان کے ساتھ انتہائی غیر انسانی سلوک کیا گیا۔ اطالوی کارکنوں نے بتایا کہ انہیں گھنٹوں تک ہاتھ باندھ کر ٹھنڈے کمروں میں بند رکھا گیا، ڈرایا دھمکایا گیا، دوائیاں نہیں دی گئیں اور کھانے پینے تک سے محروم رکھا گیا۔

ایک اطالوی صحافی خاتون نے بتایا کہ فلوٹیلا کے شرکاء کو جیلوں میں مسلسل تضحیک کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا جو انسانی وقار کے بالکل خلاف تھا۔

میڈرڈ پہنچنے والے ہسپانوی کارکنوں نے بھی اسی قسم کے حالات بیان کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں مسلسل خوف میں رکھا گیا، ان کے بنیادی انسانی حقوق پامال کیے گئے اور ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا گیا۔

ملائیشیا سے تعلق رکھنے والی مشہور گلوکارہ اور اداکارہ بہنیں، حلیزہ ہلمی اور حضوانی ہلمی نے بتایا کہ ان کے جہاز پر بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی حملہ ہوا، اور گرفتاری کے بعد انہیں جانوروں سے بدتر حالت میں رکھا گیا۔

حضوانی ہلمی نے بتایا: "ہمیں پیاس لگتی تو ٹوائلٹ کا پانی پینا پڑتا۔ کئی لوگ بیمار ہو گئے، لیکن اسرائیلی اہلکاروں نے کہا کہ اگر کوئی مر جائے تو وہ ان کی ذمہ داری نہیں۔"

ان کی بہن حلیزہ ہلمی نے کہا: "مجھے تین دن تک کچھ کھانے کو نہیں دیا گیا۔ یکم اکتوبر کے بعد آج پہلی بار کچھ کھایا ہے۔ ان تین دنوں میں صرف ٹوائلٹ کے پانی سے گزارا کیا۔"

رہا ہونے والے کارکنوں نے عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے اس غیر انسانی سلوک کا نوٹس لیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مزیدخبریں