حماس، اسرائیل اور امریکہ مصر میں غزہ تنازع پر مذاکرات کے لیے جمع

10:25 AM, 6 Oct, 2025

قاہرہ : آج فلسطینی تنظیم حماس، اسرائیل اور امریکہ کے نمائندے مصر کے شہر شرم الشیخ میں بیٹھ کر غزہ کی جنگ ختم کرنے اور قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے مذاکرات کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مذاکرات جلد مکمل کیے جائیں تاکہ دو سال سے جاری لڑائی ختم ہو سکے۔ حماس اور اسرائیل دونوں نے جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر مثبت رویہ دکھایا ہے، لیکن تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔

حماس کا کہنا ہے کہ وہ جلد جنگ ختم کرنے اور قیدیوں کے تبادلے پر عملدرآمد کے لیے پُرعزم ہے، جب کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو بھی امید ظاہر کر چکے ہیں کہ چند دنوں میں قیدیوں کی رہائی ممکن ہو جائے گی۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ مذاکرات بہت اچھے جا رہے ہیں اور ان کا پہلا مرحلہ اسی ہفتے مکمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے خصوصی نمائندے اس معاملے کو آگے بڑھانے میں مدد کر رہے ہیں۔

مصر پہنچنے والے حماس کے مرکزی مذاکرات کار خلیل الحیہ کی قیادت میں وفد شرم الشیخ میں مذاکرات میں حصہ لے گا، جبکہ اسرائیلی وفد بھی آج وہاں پہنچے گا۔

امریکہ، مصر اور قطر نے مہینوں کی کوششوں کے بعد امید ظاہر کی ہے کہ یہ مذاکرات ایک حقیقی موقع ثابت ہوں گے جس سے جنگ بندی ممکن ہو سکے گی۔

امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ فضائی حملے بند کرے تاکہ قیدیوں کی رہائی آسان ہو۔ حماس بھی اپنی عسکری کارروائیاں روکنے کو تیار ہے اگر اسرائیل بھی اپنی کارروائیاں بند کرے۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے بعد اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے حالات بنانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ اس منصوبے میں زندہ اور جاں بحق قیدیوں کی حوالگی بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ حماس نے گزشتہ سال اکتوبر میں اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا تھا، جن میں سے کچھ اب بھی قید میں ہیں، اور اسرائیل سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس کے بدلے میں سینکڑوں فلسطینی قیدی رہا کرے گا۔

مزیدخبریں