کائنات کا فلسفہ

09:23 AM, 6 Oct, 2025

قافلہ ابھی شہر سے تھوڑا پیچھے تھا کہ موسلا دھار بارش شروع ہو گئی اور اونٹوں پر لدا ہوا سامان تجارت جو کہ کھجوروں اور اناج وغیرہ پر مشتمل تھا بھیگنے لگا۔ بارش سے بچتے بچتے اور محفوظ جگہ پر پہنچتے پہنچتے آدھا مال بھیگ چکا تھا۔ منڈی میں پہنچ کر تاجروں نے مال اتارنا شروع کیا ان تاجروں میں ایک بہت معصوم چہرے والا، انتہائی خوش شکل، پاکیزہ، خوبصورت زلفوں والا نوجوان تاجر بھی موجود تھا۔ اس نوجوان تاجر نے جب اپنا مال اتارا تو اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ خشک کھجوریں اور خشک اناج ایک طرف رکھ دیا اور بھیگی کھجوریں اور اناج علیحدہ کر کے رکھ دیا۔ جب خرید و فروخت شروع ہوئی تو نوجوان تاجر کے پاس جو خریدار آتا وہ اسے بھیگے مال کا بھاؤ کم بتاتے جب کہ خشک مال کا بھاؤ پورا بتاتے۔ گاہک پوچھتا کہ ایک جیسے مال کا الگ الگ بھاؤ کیوں ۔۔۔۔ تو وہ بتاتے کہ مال بھیگنے سے اس کا وزن زیادہ ہو گیا ہے لہٰذا خشک ہونے کے بعد وزن کم ہو جائے گا اور یہ بد دیانتی ہے۔
لوگوں کیلئے یہ نئی بات تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں پوری منڈی میں ان کی دیانتداری کا چرچا ہو گیا۔ لوگ جوق در جوق معصوم صورت والے، روشن چہرے والے، پیاری آنکھوں والے تاجر کے گرد جمع ہونے لگے۔ ساتھ ساتھ ان کے اخلاق کے گرویدہ ہو گئے۔
وہ معصوم اور خوش شکل نوجوان ’’ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ تھے۔ جنہوں نے کاروباری اصول و ضوابط اسی ایک واقعہ سے وضع فرما دئیے۔ جن میں ردو بدل تو کیا رتی بھر بھی جھول کی گنجاش نہیں ہے اور نہ تا قیامت رہے گی۔
’’کسی نے بکریاں پالنے والے ایک دیہاتی سے پوچھا: ’آپ کے پاس کتنی بکریاں ہیں، اور آپ سالانہ کتنا کما لیتے ہو؟‘ بکری والے نے کہا ’میرے پاس اچھی نسل کی بارہ بکریاں ہیں، جو مجھے سالانہ تقریباً چھ لاکھ روپے دیتی ہیں۔ جو ماہانہ پچاس ہزار روپے بنتا ہے۔ مگر جب، سوال پوچھنے والے نے، بکریوں کے ریوڑ پر، نظر دوڑائی، تو اس ریوڑ میں، بارہ نہیں تیرہ بکریاں تھیں۔ جب اس نے، بکری والے سے اس تیرھویں بکری کے بارے میں پوچھا، تو اس بکری والے کا جو جواب تھا، وہ کمال کا تھا، اس جواب میں زوال کی گنجاش نہ تھی۔ اس کا جواب زندگی کی کامیابی پر ایک لکیر تھی اور اس کا وہی ایک جملہ، دراصل، اس بکری والے کے کامیاب ہونے کا بہت بڑا راز تھا۔ اس بکری والے نے کہا: ’ان بارہ بکریوں سے، میں چھ لاکھ منافع، حاصل کرتا ہوں، اور اس تیرھویں بکری کے سال میں دو بچے ہوتے ہیں۔ اس تیرھویں بکری کے، ایک بچے کی، میں قربانی دے دیتا ہوں، اور اس بکری کا دوسرا بچہ، میں کسی مستحق غریب کو دے دیتا ہوں تاکہ اس کی زندگی کا پہیہ حیات کی پُر کٹھن راہ پر رینگتا رہے۔ اس لیے، یہ بکری، میں نے گنتی میں شامل نہیں کی اور نہ ہی میں اس کا شمار رکھتا اور نہ میں نے اسے کبھی شمارِ گردشِ ایام میں رکھا ہے۔ یہ تیرہویں بکری، میری باقی کی  بارہ بکریوں کی محافظ ہے، اور میرے لیے باعث خیر و برکت ہے میرے لیے اطمینان قلب کا باعث ہے‘‘۔ یقین کریں کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے فلاسفروں کے فلسفے ایک طرف، انسانوں کی نفسیات کا مطالعہ ایک طرف، شعور اور لاشعور پر بحث ایک طرف، طبیعات و مابعد طبیعات کا فلسفہ ایک طرف اور اس بکریاں پالنے والے نوجوان کا یہ جملہ ایک طرف ۔۔۔۔ یہ بات ایک ان پڑھ، سادہ لوح، بکری والے گلہ بان نے، کامیابی کا وہ فلسفہ سمجھا دیا، جو کامرس کی موٹی موٹی کتابیں بھی کسی کو نہ سمجھا سکیں گی۔
’’لوگ، رزق کو، محنت میں تلاش کرتے ہیں، حالانکہ، رزق، سخاوت میں پوشیدہ ہے‘‘۔ کائنات میں زندگی بسر کرنے کا سارے کا سارا فلسفہ ان دو واقعات میں مضمر ہے۔ یہ دو واقعات انسان کی حیات کو شمع کی طرح فروزاں رکھ سکتے ہیں۔ ان واقعات سے سبق سیکھ کر ہم اپنے ملک، اپنے معاشرے، اپنے افراد اور اپنی زندگیوں کو بہت سہل اور آسان بنا کر شارع حیات پر باآسانی چل کر اپنی منزل کو پا سکتے ہیں اور آخرت کی منزل کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

مزیدخبریں