پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ قومی سلامتی، خودمختاری اور خطے میں امن کے فروغ کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اس کے سب سے بڑے امتحان کی اگر کوئی مثال دی جائے تو وہ بلا شبہ پاک بھارت تعلقات ہیں، جو تقسیم ہند کے بعد سے کشیدگی، تنازعات اور بداعتمادی کا شکار رہے ہیں۔ ان تعلقات کی اصل جڑ مسئلہ کشمیر ہے، جو جنوبی ایشیا میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان کا ہمیشہ یہی اصولی مؤقف رہا ہے کہ کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دیا جائے، لیکن بھارت نے ہمیشہ اس مسئلے کو دو طرفہ تنازع قرار دے کر دنیا کو اس سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد اس بات پر ہے کہ کشمیر کو عالمی ضمیر کے سامنے اجاگر کیا جائے تاکہ دنیا یہ سمجھے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن تبھی ممکن ہے جب کشمیری عوام کو انصاف ملے۔ پاکستان نے سفارتی محاذ پر بھی اور عوامی سطح پر بھی یہ عہد برقرار رکھا ہے کہ کشمیر کے بغیر پاک بھارت تعلقات میں استحکام ممکن نہیں۔ دہشت گردی کے الزامات نے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کو مزید بڑھایا۔ بھارت مسلسل پاکستان پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام لگاتا رہا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار خود پاکستان ہے، جس نے ہزاروں جانوں کی قربانی دی اور امن کے لیے دنیا کے ساتھ کھڑا رہا۔ پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں کر کے خطے میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا لیکن بھارت کی الزام تراشیوں نے مذاکرات کی فضا کو ہر بار متاثر کیا۔ امن کی کئی کوششیں ہوئیںلاہور ڈیکلیریشن، آگرا مذاکرات اور جامع ڈائیلاگ مگر کارگل، ممبئی حملے اور پلوامہ جیسے واقعات نے ان کوششوں کو سبوتاژ کر دیا۔ اس کے باوجود پاکستان نے امن کے دروازے کبھی بند نہیں کیے۔ موجودہ حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی بارہا کہا ہے کہ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے، مگر شرط یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر ایجنڈے کا مرکزی حصہ ہو۔ شہباز شریف کے مطابق پاکستان جنگ نہیں بلکہ انصاف پر مبنی امن چاہتا ہے۔ پاکستان کی دفاعی پالیسی خارجہ پالیسی کا ایک لازمی جزو ہے۔ پاکستان نے ایٹمی صلاحیت جنگ کے لیے نہیں بلکہ اپنے دفاع اور امن کے تحفظ کے لیے حاصل کی۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی دفاعی تیاری کا مقصد جارحیت نہیں بلکہ خطے میں استحکام ہے۔ پاکستان اپنی خودمختاری پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا اور قوم کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ تاہم اصل مقصد دشمن کو جنگ سے باز رکھنا اور امن کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اقتصادی اور تجارتی پہلو بھی اہم ہیں۔ اگر بھارت مثبت رویہ اپنائے تو دونوں ممالک کے درمیان تجارت سے خطے میں خوشحالی آسکتی ہے۔ لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اور سیاسی تعصب نے ہمیشہ ان مواقع کو ضائع کیا۔ پاکستان بارہا یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ اقتصادی تعاون ہی غربت کے خاتمے اور ترقی کی کنجی ہے، لیکن بھارت کے غیر لچکدار رویے نے ہر بار پیش رفت روکی۔ اس کے باوجود پاکستان یہ امید رکھتا ہے کہ تعلقات کی بحالی خطے کے عوام کے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان نے ہمیشہ متوازن رویہ اپنایا ہے۔ امریکہ، چین، روس اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات اس انداز سے قائم کیے جا رہے ہیں کہ عالمی طاقتیں جنوبی ایشیا میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان اقوام متحدہ سے بھی
بارہا اپیل کرتا رہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے، کیونکہ اس کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتی ہیں، لیکن بھارت ان پر عملدرآمد سے گریز کر کے جمہوریت کے اپنے دعووں کو کمزور کرتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر کی حالیہ پالیسیوں نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان امن کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت سمجھتا ہے۔ ہماری دفاعی صلاحیت مضبوط ہے تاکہ دشمن کسی قسم کی مہم جوئی کی جرأت نہ کرے، لیکن اولین ترجیح ہمیشہ امن، ترقی اور سفارت کاری ہی ہے۔ پاکستان کی پالیسی میں یہ تسلسل نمایاں ہے کہ ہم کشمیری عوام کی جدو جہد کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور سمجھتے ہیں اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔ پاکستان دشمنی کے بجائے تعلقات کے فروغ پر یقین رکھتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت بارہا مذاکرات کی پیشکش کی گئی اور عالمی برادری کو اس عمل میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان کی پالیسی یہ بھی ہے کہ خطے کے دیگر ممالک، مثلاً چین، ایران، افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ مثبت تعلقات قائم کیے جائیں تاکہ بھارت کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستان تنہا نہیں بلکہ ایک مضبوط اور ذمہ دار ریاست ہے۔ پاکستانی عوام کا بھی یہی یقین ہے کہ امن ہی ترقی کی بنیاد ہے۔ اسی سوچ کو خارجہ پالیسی میں ڈھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ دفاعِ وطن اور امن دونوں ساتھ ساتھ چل سکیں۔ ایک طرف فوجی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ دشمن جارحیت کی جرأت نہ کرے اور دوسری طرف سفارت کاری کے ذریعے خطے میں اعتماد سازی کی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان کا واضح پیغام ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں مگر اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ مسئلہ کشمیر ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور اس پر کسی قسم کی کمزوری ممکن نہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی امن، انصاف، خودمختاری، دفاع اور ترقی کے اصولوں پر قائم ہے۔ یہی اصول پاکستان کے مضبوط مستقبل اور خطے کے پائیدار امن کی ضمانت ہیں۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی: امن، خودمختاری اور کشمیر
09:22 AM, 6 Oct, 2025