آزاد کشمیر معاہدہ، خوفناک منصوبہ، فرمائشی گولہ باری

09:20 AM, 6 Oct, 2025

وطن عزیز کو تیزی سے بڑھتے مسائل نے گھیر لیا، سلجھنے کی رفتار انتہائی سست، بے شمار وجوہات کس کس کو بیان کیا جائے، مفاد پرستوں کو قومی مسائل سے غرض نہیں، ذاتی مفادات پیش نظر ہیں اور ان مفادات کے لیے وہ پورے ملک کی سلامتی، استحکام اور ترقی کو دائو پر لگائے ہوئے ہیں، حالات اچھے نہیں، ایک دوست نے سنا تو بات کاٹ کر بولے حالات بہت بُرے ہیں۔ صوبوں میں آگ لگی ہے۔ مفاد پرست جلتی پر تیل ڈالنے میں مصروف ہیں۔ خیبر پختونخوا میں فتنہ خوارج کے پے در پے حملے، کرک میں 17 خوارج جہنم واصل، اپنے بہادر بیٹے شہید، اب تک سیکڑوں خوارج مارے جا چکے ہیں اور کتنے ہیں؟ جہنم کا پیٹ ایک ہی بار کیوں نہیں بھرا جاتا تاکہ ہل من مزید کی صدائیں بند ہو سکیں، پہاڑوں سے یاجوج ماجوج نکلتے چلے آتے ہیں، شمالی وزیرستان میں کرفیو، جاسوسوں کا سراغ لگانا ضروری، افغان حکومت منافقین کا ٹولہ، مکہ مدینے کے منافقین بھی اسی طرح کے تھے جنہیں جہنم کے سب سے نچلے حصہ کی ’’خیمہ بستیوں‘‘ میں رکھنے کی وعید سنائی گئی۔ بلوچستان میں بی ایل اے ہندوستان کی مدد سے دہشتگرد کارروائیوں میں مصروف، خود کش حملوں کا لا متناہی سلسلہ شروع کر رکھا ہے، پورا ملک کفار و منافقین کے نرغے میں ہے۔ پنجاب اور سندھ کچے اور پکے کے ڈاکوئوں سے پریشان، سیلاب کی وجہ سے وقتی خاموشی۔ ڈاکوئوں کا خاتمہ نہ ہو سکا تو حکومتی سطح پر ’’فرمائشی گولہ باری‘‘ شروع ہو گئی حکومت اتحادی لڑ پڑے، سمندر والوں کی طرف سے بیانات کی شکل میں 800 کلو میٹر رینج کی گولہ باری جبکہ راوی والوں کی جانب سے بھی دور مار گولوں نے دلوں میں نفرتیں بھر دیں، دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی۔ حاصل حصول کچھ نہیں، مضبوط ڈور سے بندھے ہیں بوکاٹا کا خطرہ نہیں۔ بچوں کی لڑائی میں بڑے کود پڑے، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز کو آنے والی تباہی کا جلد ادراک ہو گیا۔ انہوں نے سندھ اور پنجاب کے پرانے تجربہ کاروں کو بلا لیا، سمجھایا بجھایا کہ عوام کے ووٹ قسمت اور کارکردگی سے ملتے ہیں سنٹرل اور جنوبی پنجاب کی تخصیص نہیں، گولہ باری بند کرنے پر اتفاق ہو گیا مگر آج کل بچے بڑوں کی بات کب مانتے ہیں۔ سیز فائر کی خلاف ورزی جاری، بقول شاعر ’’دلوں کی نفرتیں بڑھتی رہیں گی اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے‘‘ الیکشن دور ہیں اپنے اپنے صوبہ کو سجائیں بنائیں کارکردگی دکھائیں ایک دوسرے کا دل نہ دکھائیں، وقت آنے پر فیصلہ عوام پر چھوڑ دیں، سیدھا آسان حل سیاست بیچ میں کہاں سے آ گئی۔
پہلے مسائل حل نہیں ہوتے نئے مسائل کھڑے ہو جاتے ہیں آزاد کشمیر کے تاجروں نے اپنے مسائل کے لیے مظاہرے شروع کیے دوسرے بیچ میں کود پڑے، عوامی ایکشن کمیٹی بن گئی پُر امن مظاہروں میں تشدد جانے کہاں سے آ گیا، دکانیں، شاہراہیں اندرونی راستے بند، عوام پریشان ہمارے محترم استاد جناب مجید اصغر کے مطابق جو کام آزاد کشمیر کی حکومت اور سیاسی جماعتوں کو کرنا چاہیے تھا وہ وفاقی حکومت کے پلے پڑ گیا۔ پُر تشدد مظاہروں میں فائرنگ اور کیل لگے ڈنڈوں سے 9 پولیس اہلکار اور شہری شہید جبکہ 172 زخمی ہوئے (حیرت انگیز مماثلت کیل ڈنڈے تو زمان پارک کے باہر پولیس مقابلوں میں نظر آئے تھے) موصولہ خبروں سے ان شکوک کو تقویت ملتی ہے کہ مظاہرین میں پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار اور بھارت کے نقاب پوش جاسوس بھی شامل تھے۔ وزیر اعظم شہباز شریف ملک سے باہر تھے اطلاع ملتے ہی واپس لوٹے اتحادیوں کی بارہ رکنی کمیٹی بھیجی، مذاکرات ہوئے ڈیڈ لاک کی صورت بھی پیدا ہوئی، تاہم جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب تین بجے معاہدہ ہو گیا۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے 98 فیصد مطالبات تسلیم، دو پر قانون سازی کرنا ہو گی، اس قسم کے مظاہروں کی اہمیت تسلیم لیکن ان میں تشدد کا عنصر شامل ہونے سے جانی و مالی نقصانات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ بھارتی فوجی پہاڑوں پر بیٹھے ہیں ہمارے بہادر جوان اپنے بھائیوں کی حفاظت اور ملکی دفاع کی ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کر رہے ہیں۔ اسی دوران چند کشمیریوں نے اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر مظاہرہ کرنے کی کوشش کی پولیس نے روکا تو پریس کلب میں گھس گئے۔ پولیس سے حماقت ہوئی پریس کلب میں آج تک نہ گھسی تھی اندر گھس کر توڑ پھوڑ کی کیمرے توڑے پریس کلب کے صدر افضل بٹ نے وزیر مملکت طلال چوہدری کی معذرت مسترد کر دی ملک بھر میں صحافیوں کے مظاہرے، حکومت کے ماتھے پر ایک اور ٹیکا خواہ مخواہ کی بدنامی۔
آزاد کشمیر میں معاہدے کے نتیجے میں امن قائم ہو گیا لیکن غزہ میں خونریزی روکنے کا معاہدہ نہ ہو سکا، ٹرمپ کا نوبل پرائز خطرے میں پڑ گیا، سات جنگیں رکوانے کے دعویدار ٹرمپ آٹھویں جنگ نہ رکوا سکے۔ امریکی صدر نے شاہی پروٹوکول اور خوشامد درآمد سے پاکستانی وزیر اعظم اور آرمی چیف کو رام کرنے کی کوشش کی لیکن چالاکیاں اور چاپلوسیاں کام نہ آئیں، اپنے 20 نکاتی ایجنڈے میں انہوں نے صرف اسرائیلی وزیر اعظم کی تجاویز کو ترجیح دی جبکہ پاکستان اور اسلامی ممالک کی امن تجاویز کو نظر انداز کر دیا۔ غزہ میں خونریزی نہ رک سکی، اس دوران پاکستان میں یوتھیا بریگیڈ اور بعض ویلاگرز نے پاکستانی حکومت کے خلاف جعلی خبروں کے ذریعے عوام کو سڑکوں پر لانے کی کوشش کی۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی وضاحت کے باوجود ایک اچھے بھلے ویلاگر نے غیر ملکی ٹوئٹس سنا سنا کر اشتعال دلایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے مبینہ طور پر اسرائیلی وزیر اعظم سے خفیہ ملاقات کی ہے جس کے بعد پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم اور ابراہام معاہدے پر سر تسلیم خم کر دیا ہے یہ خوفناک منصوبہ اسحاق ڈار کی وضاحت کے بعد پروان نہ چڑھ سکا تاہم ذہنوں کو زہر آلود کر گیا۔
خان کی بات چلی ہے تو انہیں جیل میں بیٹھے مسلسل جھٹکے محسوس ہو رہے ہیں، پی ٹی آئی میں ٹوٹ پھوٹ، گروپ بندی، پارٹی پر قبضہ کے لیے علیمہ باجی اور گنڈا پور کی کوششیں، پشاور کا ناکام جلسہ، گنڈا پور کو جوتے دکھانے بوتلیں مارنے، خواتین کے ساتھ بدتمیزی اور ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی میں منتقلی کی خبریں جھٹکوں سے کم نہیں۔ مبینہ طور پر دراز زلف نے ’’انہوں‘‘ نے پیغام پہنچا دیا ہے کہ وقت آپ کے ہاتھ سے نکل گیا۔ علیمہ باجی نے بیٹوں کی رہائی کے بدلے صلح کر لی ہے۔ وعدے کر کے جیل سے باہر آنے والے آپ کے نہیں رہے آپ کے اندر رہنے میں ہی باہر آنے والوں کا فائدہ ہے۔ آپ کو لمبی اور لمبی سزائیں ہونے جا رہی ہیں، فیملی سے ہی کسی کو نامزد کر دیں ورنہ پی ٹی آئی ہے نہیں تھی ہو جائے گی مائی ڈیئر خان ان دنوں سوچوں میں گم ہیں۔

مزیدخبریں