انسانی روئیے  

07:06 PM, 6 Nov, 2025

 سماجی رویئے معاشرتی ناہمواری معاشی مسائل  یا مایوسی آخر کیا وجہ ہے کہ کوئی انسان اپنی ہی جان لینے پر تل جاتا ہے؟ انسان مستقبل کی جتنی بھی منصوبہ  بندی کرتا ہے اس میں اگر کوئی چیز شامل نہیں ہوتی تو  وہ  ہے اس کی موت۔ جس کے بارے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا ۔زندگی بڑی قیمتی اور پیاری شے ہے جس کی حفاظت کاانسان کو مذہب بھی پابندبناتا ہے اسی لئے خودکشی کو فعل حرام قرار دیا گیا ہے۔  زندگی ایک نعمت ہے اور جس حیٰ بالذات ہستی نے اسے یہ نعمت عطا کی ہے اسکی حضرت انسان سے ڈیمانڈ بھی یہی ہے کہ وہ اس عطاء کردہ نعمت کا شکریہ اس طرح  ادا کرے کہ اس کو ہر طرح سے محفوظ ومامون بنائے۔ یوں کفران نعمت کے سبب سے ہی خودکشی حرام قرار پائی ۔مبادا یہ معاملہ اپنی ذندگی میں ناکام انسان کیساتھ جڑا ہوتب بھی ایک طرح سے کچھ سمجھ میں آتا ہے گو یہ فعل حرام ہی رہے گا ، جو شخص زندگی کے ہر میدان میں ناکام و نامراد ہی رہا ہو شدید مایوسی اور ذہنی دبائواسے اپنی زندگی کے یوں خاتمے پر مجبور کر سکتی ہے۔ ایک غیر سرکاری سماجی تنظیم کے جاری کردہ اعداد و شمار کی مطابق خودکشی کا عمومی رحجان لوئر مڈل کلاس میں زیادہ پایا جاتا ہے جس کے بنیادی محرکات معاشی مسائل یا سماجی معاملات ہوتے ہیں۔ کچھ اور وجوہات بھی بن سکتی ہیں لیکن غالب وجہ یہی دو مسائل ہوتے ہیں اپر مڈل کلاس یا ایلیٹ کلاس میں یہ رحجان نہ ہونے کے برابر ہے لیکن اپنی زندگی کے ہر میدان میں کامیاب و کامران افراد میں سے کوئی ایسی حرکت کا مرتکب ٹھہرتا ہے تو وہ اپنے ہاتھوں اپنے دردناک انجام کے پیچھے کئی سوال بھی چھوڑ جاتا ہے۔
 بالخصوص ایک سیلف میڈ انسان جس نے اپنی زندگی کے خوابوں میں کامیابی کے رنگ بھرنے کے لئے محنت عزم اور حوصلے کے ساتھ زندگی کی ہر مشکل کا سامنا کیا ہواپنی زندگی کے صبرآزما لمحے ایک دکھی اور زخمی مسکراہٹ میں ٹال گیا ہومعاشرتی ناہمواریوں اور اس پیدا ہونے والے مسائل کی ایک طویل فہرست کو درخور اعتنا ء نہ سمجھا ہولیکن جب منزل مقصود گوہر مراد پا چکا ہو معاشرے میں اپنی حیثیت منوا چکا ہو پھر ایسی حرکت کرے۔ یہ بات عقل سے بالاتر ہے۔
 گذشتہ دنوں جواں سال ایس پی اسلام آباد پولیس عدیل اکبر کی اپنے ہاتھوں دردناک موت انکے ساتھیوں ،فیملی،کو خون کے آنسو رلا گئی اور صاحبان حل وعقدکے ساتھ سماج کے لئے ایک بہت بڑا سوال کھڑا کر گئی کہ ایک کامیاب انسان کس بناپر اپنی زندگی کے درپے ہو گیا ۔ان کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا اور میرے صحافتی کیریئر کا یہ دوسرا کیس تھا جس میں کسی سی ایس ایس ٹاپر نے اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ہو۔
      کم و بیش سات سال قبل صبح ساڑھے نو بجے کے لگ بھگ میں دفتر میں داخل ہو رہا تھا تومیرا فون خاموش ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا فوری گاڑی پارک کرکے میں نے فون اٹھایا تو کال پولیس میں میرے ایک ذرائع کی تھی جس کے الفاظ سنتے ہی میں دم بخود رہ گیا۔ اس کے الفاظ مجھے دور سے آتے سجھائی دے رہے تھے وہ کہہ رہا تھا کہ ڈی سی گوجرانوالہ سہیل احمد ٹیپو نے خودکشی کر لی ہے میں اسے کہہ رہا تھاصبح صبح مذاق کا یہ کیا طریقہ ہے ،تو اگلے ہی لمحے اس نے مجھے ایک تصویر بھیجی جسے دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ واقعے کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے بغیر کوئی وقت ضائع کئے میں نے یہ تصویروفاقی وزیرداخلہ  محسن نقوی  صاحب کو بھجوا دی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق سہیل احمد ٹیپو کی لاش انکی خواب گاہ میں پنکھے سے لٹکتی ہوئی پائی گئی تھی جس کے دونوں ہاتھ پیچھے سے کمپیوٹر وائر سے بندھے ہوئے تھے۔ مزید چھان بین سے یہ بات سامنے آئی کہ صبح ان کا آپریٹر کافی دیر سے انہیں کالیں کر رہا تھا لیکن وہ فون نہیں اٹھا رہے تھے، جس پراس نے گھر میں موجود ان کے والد سے رابطہ کیا انہوں نے اوپر جا کر دیکھا تو تو یہ ہولناک سانحہ انکے علم میں آیا ۔
ٹیپو انتہائی نفیس اور سلجھے ہوئے انسان تھے ۔وہ اعلی حکام کے خاصے قریب جانے جاتے تھے جس کے باعث ان کی موت کو ہر حوالے سے جانچنے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے بعد ازاں ہوشربا انکشافات کئے۔ سہیل احمد ٹیپو ضلع وہاڑی کی تحصیل بوریوالہ کے رہائشی تھے۔ ایک معمولی سکول ٹیچر کے گھر پیدا ہونے والے اس ہونہار بیٹے نے تعلیمی میدان میں ہر امتحان نمایا ں نمبروں سے پاس کیا اپنی ذہانت اور انتھک محنت کے بل بوتے پر سول سروسز کے امتحان میں ٹاپ کر کے انہوں نے ڈی ایم جی گروپ کو جوائن کیا ،اسی بنیاد پر انکی شادی بوریوالہ کے ایک بہت بڑے زمیندار گھرانے میں ہو ئی۔ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق یہ شادی کافی بے جوڑ تھی کیونکہ انکے سسرال اور انکی ذاتی حیثیت میں بہت بڑا سماجی فرق تھا، شاید یہی وجہ تھی کہ بیوی بچے انکے ساتھ گوجرانوالہ رہنے کی بجا ئے لاہور کے کسی پوش علاقہ میں رہائش پذیر تھے، ان کے فون کال کی باقاعدہ فرانزک کروائی گئی جس سے پتہ چلا کہ انہوں نے آخری کالز اپنی بیوئی اور اپنے ہم زلف کو کی تھیں۔ موت سے پہلے انہوں نے رات اپنے والد کو اے ٹی ایم سے پیسے نکلوا کر دئیے اور دیر گئے تک  انکے ساتھ باتیں کرتے رہے۔ سونے کے لئے جانے سے پہلے انہوں نے اپنے والد سے کہا کہ میرے کمرے کی طرف سے کوئی آواز آئے تو اس پر پریشان مت ہوئیے گا میں نے بکریاں خریدی ہیں جن کی نقل حرکت سے شور بھی ہو سکتا ہے ان کے والد نے رات گئے کچھ شور سنا بھی لیکن اپنے بیٹے کی دی ہوئی تسلی کی وجہ سے بے فکر سوئے رہے۔ تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ ٹیپو نے ہم زلف کو آخری کال کرنے بعد  اپنے ہاتھ پیچھے سے کمپیوٹر وائر کے ساتھ باندھے  اور پھر پنکھے کے ساتھ بنائے گئے پھندے سے جھول گئے ۔انکے آپریٹر کی فون کال پرانکے  والد جب انہیں دیکھنے گئے تو انکے بیٹے کی لاش کے ساتھ بوریوالہ میں ہوئے ایک دلخراش واقعے کی یاد بھی انکے سامنے تھی۔ طویل تحقیقات کے بعد انکی موت گھریلو ناچاقی اور ازدواجی مسائل کی وجہ سے خودکشی قرار دی گئی اس طرح سماجی ناہمواری اور ازدواجی مسائل کی وجہ سے ملک ایک قابل افسر سے محروم ہو گیا۔            
   شاہد اکبر کامونکی میں گجر فیملی سے تعلق رکھتے تھے اور تعلیم مکمل کر کے بینکنگ کے شعبے سے منسلک ہو گئے اوردو سال قبل حبیب بینک سے بطور منیجر ریٹائر ہوئے تھے ۔خدا نے انہیں عدیل اکبر کی شکل میں ایک قابل بیٹے سے نوازا جس نے اپنی ذہانت اور محنت کے سبب سول سروسزکے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور اسی  بنیاد پر اس نے پولیس گروپ کو جوائن کیا۔ پولیس گروپ اور ان کی طبیعت کا میلان ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے تھے۔ عدیل اکبر ٹھہرا لٹریچر پسند، شعر وشاعری سے شغف رکھنے  والا،رومانوی انسان اپنی اسی افتاد طبع کے باعث وہ کامونکی کے ہی ایک بڑے زمیندار گھرانے کی لڑکی کے آگے دل ہار گئے ۔عدیل اکبر کی محبت کے سامنے آنے پرانکے والد نے انہیں سختی کے ساتھ اس محبت سے باز رہنے کی تنبیہ کی لیکن اپنی فیملی کی تماتر مخالفت کے باوجود انہوں نے اپنی محبت کو اپنا لیا۔
 ان کی شادی میں گھر کا کوئی فرد بھی شریک نہ ہوا تھاشادی تو انہوں نے کر لی لیکن انکے ماں باپ ان سے ہمیشہ کے لیے دور ہو گئے اور انکی موت تک یہ دوری ختم نہ ہو سکی۔ خدا نے انہیں ایک بیٹی سے بھی نواز دیا لیکن یہ ننھی پری بھی دادا کی ناراضی کو ختم نہ کرسکی ۔کچھ سروس کے مسائل اور خاندان میں جاری ان مسائل نے ہنستے مسکراتے عدیل اکبر کو زندگی سے اتنا مایوس کر دیا کہ انہوں نے اپنے گارڈ سے رائفل لیکر خود کو ختم کر لیا۔ جس کے فوری بعد ملک میں افواہوں کا بازار گرم ہو گیا۔کچھ لوگوں نے معاملے کو آئی جی اسلام آباد کے رویے سے جوڑنے کی کوشش کی  اپنی گھریلو ناچاقی اور سروس کے کچھ مسائل کو لیکر پچھلے کئی دنوں سے وہ شدید ذہنی دبائو کا شکار تھے  اسی سلسلہ میں وہ باقاعدہ نفسیاتی ڈاکٹر کو وزٹ بھی کر رہے تھے ۔
اسلام آباد میں ان کے کولیگز کے مطابق ڈاکٹر نے انہیں سختی سے ایڈوائز کیا تھا کہ وہ چھٹی پر چلے جائیں اور پولیس کے کسی آپریشن کو لیڈ کرنے کی کوشش نہ کریں ،جنازے پر انکے دوستوں اور دیگر عزیز واقارب نے بھی انہی دو معاملات کی نشاندہی کی۔ عدیل کے انتہائی قریبی دوستوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے عدیل کے والد کو راضی کرنے کی کئی کوششیں کیں لیکن صلح نہ ہو سکی ا ور انہی دو معاملات سے پیدا ہونے والی مایوسی انہیں اس انتہائی قدم کی طرف لے گئی۔
                طاقت اور دولت کا ازل سے اٹوٹ اشتراک ہے ۔ایک کی موجودگی دوسرے کے لیے لازم وملزوم   ہے۔ہمارے ہاں معاشرے میں کسی کے پاس دولت ہے تو وہ طاقت کا متمنی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے کہ ذات پات کی زنجیروں میں جکڑے ہمارے معاشرے میں طاقت کے متمنی بڑے دولت مند گھرانے افواج پاکستان یا سول سروسز جوائن کرنے والے فریش بلڈ پر بڑی گہری نظر رکھتے ہیں، اور ایسے بچے یا بچیوں کو ذات پات یا معاشرے میں سماجی فرق کے خلا ء کو  ملحوظ رکھے بغیر اپنی فرزندی میں قبول کر لیتے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ انکی بچی یا بچے کی تربیت کس ماحول میں ہوئی ہے۔ ناز و نعم میں پلی اسکی اولاد صدیوں سے رائج اس معاشرتی ناہمواری کو قبول بھی کر پائے گی  یا نہیں۔  دوسری جانب افواج پاکستان میں  شامل ہونے والے  فریش بلڈ کی اکیڈمی سطح پر سکرینگ اور نفسیاتی جانچ پڑتال کا ایک موثر نظام رائج ہے جبکہ سول سروسز اکیڈمی یا پولیس اکیڈمی میں کوئی ایسا اہتمام سرے سے ہی موجود نہیں ہے۔ سول سروسز میں ایک باقاعدہ شعبہ ہونا ضروری ہے ،جس کے ذریعے نئے افسران کی نفسیاتی جانچ پڑتال کی بنیاد پر ہی انکی فیلڈ تعیناتی ممکن ہو سکے، دوسرا اگر کوئی آفیسر باقاعدہ کسی نفسیاتی مسئلے میں الجھا ہو تو مکمل کونسلنگ تک اسے حساس نوعیت کی ڈیوٹی سے دور ہی رکھنے کا اہتمام بہت ضروری ہے۔
 اگر حکومت نے فوری اس مسئلے کا باقاعدہ کوئی حل تلاش نہ کیا تو قوم کے قابل سپوت یونہی انسانی رویوں کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے

 دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
 تم قتل کرو ہوکہ کرامات کرو ہو

تحریر: شفقت عمران  بیورو چیف نیو ٹی وی گوجرانوالہ

نوٹ:  یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادار ے کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

مزیدخبریں