مردوں کو دل کی صحت برقرار رکھنے کے لیے خواتین سے دوگنی ورزش کرنا ہوگی:نئی تحقیق میں انکشاف

03:06 PM, 6 Nov, 2025

لندن: ایک تازہ ترین بین الاقوامی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مردوں کو دل کی بیماریوں کے خطرات کم کرنے کے لیے خواتین کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ورزش کرنا پڑتی ہے۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق یہ تحقیق چین کی شامن یونیورسٹی کے ماہرین نے کی ہے، جس میں یوکے بایو بینک (UK Biobank) کے تحت شامل 80 ہزار سے زائد مرد و خواتین کے جسمانی سرگرمی کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق وہ خواتین جو ہفتے میں تقریباً 250 منٹ ورزش کرتی ہیں، ان میں دل کی بیماری (کورونری ہارٹ ڈیزیز) کا خطرہ 30 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
جبکہ مردوں میں یہی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ہفتے میں تقریباً 530 منٹ (نو گھنٹے) ورزش ضروری ہے۔

تحقیق کے مصنفین نے جریدے نیچر کارڈیو ویسکولر ریسرچ (Nature Cardiovascular Research) میں لکھا کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین نصف وقت کی ورزش سے ہی مساوی دل کے فوائد حاصل کر لیتی ہیں۔

مطالعے کے دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ وہ خواتین جو ہفتے میں 150 منٹ ورزش کرتی تھیں، ان میں آٹھ سال کے عرصے میں دل کی بیماری کا خطرہ 22 فیصد کم تھا، جبکہ مردوں میں یہ کمی 17 فیصد رہی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ خواتین جسمانی لحاظ سے مردوں کے مقابلے میں عموماً کم سرگرم ہوتی ہیں، لیکن ان کے جسم ورزش کے اثرات کو زیادہ مؤثر انداز میں قبول کرتے ہیں۔
دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک عورت دل کے امراض سے موت کا شکار ہوتی ہے، لہٰذا یہ نتائج خواتین کے لیے خاص طور پر حوصلہ افزا قرار دیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کے مطابق 16 سے 64 سال کے افراد کو ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل ورزش یا 75 منٹ سخت ورزش کرنی چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہفتے میں کم از کم دو بار پٹھوں کو مضبوط بنانے والی سرگرمیوں میں حصہ لینا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ تحقیق اس بات کی یاد دہانی ہے کہ چاہے مرد ہوں یا خواتین، دل کی صحت کے لیے باقاعدہ ورزش ناگزیر ہے۔
خواتین کم وقت میں بہتر نتائج حاصل کر سکتی ہیں، مگر مردوں کو اپنی جسمانی سرگرمی میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ وہ اسی سطح کی حفاظت حاصل کر سکیں۔

مزیدخبریں