اللہ مالک ہے

09:22 AM, 6 Nov, 2025

میں سوچ رہاہوں احمد جاوید کے قاتل کہیں میری اس بات کا بھی بْرا نہ منا جائیں میں نے یہ کیوں کہا ’’اللہ مالک ہے‘‘، یہ کیوں نہیں کہا میرے ’’مالک‘‘ احمد جاوید کے قاتل ہیں، ایک مظلوم باپ عادل رشید کا ساتھ دینے پر قاتل اپنے ایک دو’’ملازموں‘‘ کے ذریعے میری کردار کشی کی جتنی چاہیں گھٹیا مہم چلا لیں، جتنے چاہیں’’پیڈ وی لاگ‘‘ کرا لیں مجھے میرے مقصد سے نہیں ہٹا سکتے، یہ میرے خون میں شامل ہی نہیں مظلوم کے مقابلے میں ظالموں کا ساتھ دوں، میں نے اپنی جان ظالموں کو نہیں اللہ کو دینی ہے، ظالم لاکھ سازشیں کر لیں زندگی موت عزت ذلت کا اختیار جب اللہ کے پاس ہے اْن کی کوئی سازش اول تو کامیاب نہیں ہو گی، ہو بھی گئی میرے بچوں میری نسل کو لوگ عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے کہ ظالموں کے مقابلے میں مظلوم کا ساتھ میں نے دیا تھا، البتہ ایک بات پر مجھے حیرانی ہوتی ہے قاتلوں اور ظالموں کے پاس بے پناہ دولت اور وسائل ہیں، کچھ پولیس افسروں کے ساتھ اْن کے یارانے اور کاروباری معاملات بھی ہیں، دْنیاوی لحاظ سے بھی وہ بہت طاقتور ہیں، کریمنل ریکارڈ بھی اچھا خاصا وہ رکھتے ہیں، مجھ ’’کمزور‘‘ سے اْن کا کیا مقابلہ ہے؟ میری ساری زندگی لوگوں کے سامنے ہے، میرے خلاف ایک ایف آئی آر الحمد للہ آج تک نہیں ہوئی، پھر کیوں میرے مقابلے پر وہ اْترے ہوئے ہیں ؟ میری عزتوں میں تو اللہ مزید اضافہ ہی کر رہا ہے، میرے ایف سی اور گورنمنٹ کالج کے شاگردوں میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے بے شمار سینئر قانون دان بھی ہیں۔ کل ان کا ایک وفد مجھ سے ملنے آیا، اْن کی خواہش تھی میری کردار کشی کرنے والوں کے خلاف وہ قانونی کارروائی کریں، اْن کی بے پناہ ضد اور اصرار کے باوجود میں نے اْنہیں روک دیا، میں نے کہا ’’جب آپ کسی سے انتقام لے لیتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے آپ نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑنے کے بجائے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے، ممکن ہے اللہ نے اْن کی سازشوں ان کے ظْلموں اور منافقتوں پر اْنہیں کسی بڑے عذاب میں مبتلا کرنا ہو، لہٰذا میں یہ معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہوں جو سب سے بڑا انصاف کرنے والا ہے، میں نے مزید اْن سے کہا فرض کر لیں اْن کے خلاف قانونی کارروائی کی کوئی درخواست میری مرضی یا اجازت کے بغیر آپ دے بھی دیں جتنے وہ طاقتور اور خونخوار ہیں ضروری نہیں قانون اْن کے خلاف کوئی ایسی کارروائی کرے جس سے انہیں کوئی سبق مل سکے، سو بہتر یہی ہے میں اْن کے لیول پر نہ اْتروں جو کہ وہ چاہتے ہیں میں اْتروں اور میری توجہ اصل معاملے سے ہٹ جائے جو احمد جاوید کے اصل قاتلوں کو قانون کے مطابق سزا دلواناہے، میں جانتا ہوں یہاں قانون طاقتوروں کے لیے اور ہے کمزوروں کے لیے اور ہے، میں نے کئی بار لکھا 1973ء میں اتنا لمبا چوڑا آئین لکھنے کی کیا ضرورت تھی ؟ سیدھا سیدھا لکھ دیتے ’’جس کی لاٹھی اْس کی بھینس‘‘ مگر اللہ کی بے آواز لاٹھی سے ظالم بچ نہیں سکتے، اللہ کی پکڑ میں دیر سویر ہو سکتی ہے اندھیر نہیں ہو سکتی، فرمایا گیا’’ظالم کو اللہ مہلت دیتا ہے لیکن کیا تم نے نہیں سْنا اْس کی پکڑ بہت شدید ہے‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جو کسی جھگڑے میں کسی کی ناحق مدد کرے گا تو اللہ اْس سے ناراض ہی رہے گا یہاں تک کہ وہ اس سے باز آ جائے ‘‘۔ مگر یہاں کسی کو اللہ کی ناراضی کی کیا پروا ہے؟ انہیں تو بس اپنے دنیاوی مالکوں کو راضی کرناہے جن کے بارے میں وہ بخوبی جانتے وہ ظالم ہیں، میں تو اْنہیں کچھ نہیں کہوں گا مگر جب قدرت کی کسی پکڑ میں وہ آئیں گے اذیتوں کے کسی بدترین مقام پر وہ پہنچیں گے اْنہیں ضرور یہ احساس ہو گا ظالموں کا ساتھ دینے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے، البتہ کرائے کے کچھ وی لاگروں سے ایک سوال میں ضرور پوچھنا چاہتا ہوں جو سلوک احمد جاوید کے ساتھ ہوا وہی اْن کے اپنے کسی بچے یا بھائی کے ساتھ ہوا ہوتا اْن کا رویہ تب بھی یہی ہوتا ؟ شاید یہی ہوتا کیونکہ جن کا دین ایمان پیسہ بن جائے اْنہیں آخرت کی کوئی فکر بھلا کیسے ہوسکتی ہے ؟، میری سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا میں ایک مظلوم باپ کا ساتھ دے رہا ہوں میرے اس عزم یا معمولی سی اس نیکی کو اللہ قبول فرما رہا ہے یا رد کر رہا ہے؟ مگر جب احمد جاوید کے قاتلوں نے اپنے کچھ ’’ملازموں‘‘ کے ذریعے میری کردار کشی کی مہم شروع کی مجھے یقین ہو گیا اللہ میری اس نیکی کو نہ صرف قبول کر رہا ہے بلکہ اس کے اجر کے طور پر مجھے مزید مضبوط بنا رہا ہے، میری عزتوں میں مزید اضافہ فرما رہا ہے، ابھی کل آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ کے لٹریری سرکل کی طرف سے مجھے اطلاع ملی اگلے سال ایوارڈ کے لئے مجھے نامزد کیا گیا ہے، جس طرح کے جھوٹے اور غلیظ الزامات بغیر شواہد کے مجھ پر لگائے جا رہے ہیں ہمارے قانون یا ریاست میں ذرا دم خم اگر ہوتا ادارے خود اس کا نوٹس لیتے، ہمارے ہاں نوٹس صرف اْن معاملات کے لئے جاتے ہیں جن میں ’’نوٹ‘‘ آتے ہوں، جھوٹے مکار اور منافق لوگوں کو میں کیا جواب دْوں ؟ میرے لاکھوں چاہنے والے جو جواب اْنہیں دے رہے ہیں میرے لیے اللہ کا یہی انعام کافی ہے، اْن کی شکلیں اْن کی زبان، اْن کا لب و لہجہ، اْن کا ماضی بتاتا ہے وہ کس قماش کے لوگ ہیں، میں تو بد دعا بھی نہیں دیتا، بددعا کو بھی میں انتقام ہی کی ایک قسم سمجھتا ہوں، سو میں نے اپنے کْل معاملات اللہ پر چھوڑ دئیے ہیں جو سب سے بڑا منصوبہ ساز ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’مظلوم کی بددعا سے بچو یہ آسمان کی طرف چنگاری کی صورت میں جاتی ہے‘‘۔  ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اور ہرگز یہ نہ سمجھنا جو کچھ ظالم کر رہے ہیں اللہ اس سے غافل ہے وہ تو لوگوں کو اْس دن تک کے لیے مہلت دے رہا ہے جس دن خوف کی وجہ سے اْن کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، وہ ظالم بدحواسی میں سروں کو اْوپر اْٹھا اْٹھا کر دوڑ رہے ہوں گے، اْن کی نگاہیں دہشت کی وجہ سے جھپکنے کو واپس نہیں آئیں گی اور اْن کے دل خوف کی وجہ سے اْڑے جا رہے ہوں گے ‘‘، اسی طرح سورۃ النفال میں فرمایا گیا ’’اور اس آزمائش سے سے ڈرو جو صرف تم میں سے ظالموں کو ہی نہیں لپیٹے گی بلکہ اس ظلم کا ساتھ دینے والے اور اس پر خاموش رہنے والے بھی اس عذاب میں شریک کر لئے جائیں گے اور جان لو اللہ سخت سزا دینے والا ہے‘‘۔ ظالموں کے مقابلے میں مظلوم باپ کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہونے پر سب سے زیادہ تکلیف اندرون و بیرون مْلک بیٹھے ایسے منافقوں کو ہے جنہیں میں نے جان سے عزیز رکھا۔ اب وہ میرے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، قاتلوں اور اْن کے ساتھیوں کو اْکسا رہے ہیں، اللہ اْنہیں خوش رکھے، اْن کے لئے میرا بس ایک ہی پیغام ہے، کوئی منافق جب کسی کو گرانا چاہتا ہے اپنی طرف سے وہ اْسے ’’دھکا‘‘ دیتا ہے، اللہ کی طرف سے وہ’’سہارا‘‘ بن جاتا ہے۔

مزیدخبریں