جنوبی ایشیا کی سلامتی اس وقت ایک گہرے بحران سے دوچار ہے اور اس بحران کی جڑیں بظاہر خطے کی ایک بڑی طاقت کے مذموم عزائم میں پیوست ہیں۔ حال ہی میں بنگلہ دیش کی نیشنل سکیورٹی انٹیلی جنس نے جو انکشافات کیے ہیں، وہ نہ صرف سنگین ہیں بلکہ خطے کے تمام ممالک کو گہری تشویش اور خود احتسابی کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ انکشافات واضح طور پر دکھاتے ہیں کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را (RAW)‘‘ مبینہ طور پر بنگلہ دیشی شہریوں کو ایک ’’ڈسپوزایبل اثاثے‘‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے تاکہ انہیں فِتنہ الخوارج جیسے دہشت گرد نیٹ ورکس کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے داخل کیا جا سکے۔ یہ محض ایک انٹیلی جنس رپورٹ نہیں، بلکہ ریاستی سرپرستی میں چلنے والی پراکسی دہشت گردی کے ایک پورے نظام کا پردہ فاش ہونا ہے۔ بنگلہ دیشی شہریوں کی بھرتی، انہیں جہادی تربیت دینا اور پھر انہیں پاکستان میں دہشت گردی کے لیے دھکیلنا یہ حکمت عملی دہلی کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتی ہے۔ بھارت ایک طرف تو عالمی سطح پر خود کو ’’دہشت گردی کا شکار‘‘ ظاہر کرتا ہے اور دوسری طرف خود ہی انتہا پسند گروہوں کو فنڈز اور سمت فراہم کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں جماع الانصار فل ہندال الشرقیہ (JFHS) کے رہنما ڈاکٹر شمیم
محفوظ کی گرفتاری اور ان کے ’را‘ سے مبینہ تعلقات کا سامنے آنا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ سازش صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد پورے خطے میں انتشار اور بدامنی پھیلانا ہے۔ ’را‘ کی اس حکمت عملی کا مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنا تاکہ اس کی اقتصادی اور سلامتی کی کوششیں پٹڑی سے اتر جائیں۔ دوسرا، ان پراکسی حملوں کا سارا الزام پاکستان پر عائد کر کے اسے عالمی سطح پر دہشت گردی کا مرکز ثابت کرنے کی کوشش کرنا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی، یہ ایجنسی مبینہ طور پر بنگلہ دیشی سرزمین کو استعمال کر کے پاکستان پر الزام تراشی کے ذریعے ڈھاکہ اور اسلام آباد کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی کوششیں بھی کر رہی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خطے کا مستقبل کیا ہو گا؟ جب ایک ملک، خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اپنی خارجہ پالیسی کے ایک ستون کے طور پر دہشت گردی اور فریب کا انتخاب کرتا ہے، تو کوئی بھی پڑوسی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ یہ واقعہ پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت پورے جنوبی ایشیا کے لیے ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ انہیں بھارت کے مذموم عزائم کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہو گا۔ اگر امن چاہیے تو سب سے پہلے ’’دھوکے کا یہ تعمیر کردہ گھر‘‘ گرانا ہو گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری، بالخصوص ان ممالک کو جو بھارت کو ایک ’جمہوری اور ذمہ دار عالمی طاقت‘ کے طور پر دیکھتے ہیں، انہیں اس سفاک حقیقت کا نوٹس لینا چاہیے اور دہلی سے وضاحت طلب کرنی چاہیے۔ جب تک پراکسی وار کی یہ پالیسی ختم نہیں ہوتی، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن محض ایک خوش فہمی ہی رہے گا۔ خطے کے عوام کی تقدیر کا فیصلہ بندوقوں اور سازشوں کے ذریعے نہیں، بلکہ شفافیت، باہمی احترام اور دیانت دارانہ مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے۔ جنوبی ایشیا کی تقدیر اب اس بات پر منحصر ہے کہ آیا خطے کی قیادتیں اجتماعی طور پر متحد ہو کر اس سازش کو بے نقاب کرتی ہیں، اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھارت کے ڈرامائی تضادات کا محاسبہ کرتی ہیں۔ اس خطے میں پائیدار امن کی بنیاد صرف شفافیت، انصاف اور دہشت گردی کے ہر رنگ سے مکمل لاتعلقی پر ہی رکھی جا سکتی ہے۔ بصورت دیگر، دہلی کی پراکسی وار پورے خطے کو تباہی کے دہانے پر لے جائے گی، جس کی ذمہ داری تمام فریقین پر عائد ہو گی۔ یہ انکشافات جنوبی ایشیا کی سیاسی بساط پر ایک فیصلہ کن لمحہ ہیں۔ اب دوٹوک بات کرنا ہو گی۔ اگر بھارت، پس پردہ انتہا پسندوں کو پراکسی بنا کر اپنے پڑوسیوں کو غیر مستحکم کرنے کی سفاک حکمت عملی پر قائم رہتا ہے، تو یہ خطے کے امن کا کھلا قتل ہے۔ تمام علاقائی ممالک کو خصوصاً پاکستان اور بنگلہ دیش کو اس ’’ڈھانچہ جاتی فراڈ‘‘ کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھانی چاہیے۔ جنوبی ایشیا کی سلامتی کا تقاضا ہے کہ سازش کی یہ بنیاد اکھاڑ دی جائے، ورنہ خطہ مستقل عدم استحکام کی تاریک گہرائیوں میں ڈوب جائے گا۔
دہلی کی پراکسی وار اور جنوبی ایشیا کا مستقبل
09:20 AM, 6 Nov, 2025