حکمرانوں کو سچ کا آئینہ دکھانا مشکل

09:20 AM, 6 Nov, 2025

وزیر اعظم شہبازشریف جذباتی شخصیت کے مالک ہیں وزیراعلیٰ پنجاب ہوں تو شعروشاعری کرکے لوگوں کا خون گرماتے ہیں کبھی لوڈشیڈنگ کیخلاف مینار پاکستان کے سائے تلے بیٹھ کر احتجاجی کیمپ لگاتے ہیں ،کبھی بھاٹی چوک جلسے میں زرداری کا پیٹ پھاڑنے کی باتیں کرتے ہیں اپوزیشن میں ہوں تو عوام کادرد انہیں سونے نہیں دیتا اقتدارمیں ہوں تو ایسے ایسے بیانات داغتے ہیں کہ لگتا ہے اب پاکستان میں کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں حالانکہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے جو بھی سرکارآتی ہے صحافیوں کوکھڈے لائن لگانے میں سارا ز و رصرف کرتی ہے اورشہر اقتدار سے نکلتی ہے تو خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے ہر حکومت نے صحافیوں کو زر خرید غلام بنانا چاہا لیکن ناکام رہی دنیا میں پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں اظہار رائے کی آزادی کو طرح طرح کے تعزیری قوانین کا خوف رہتا ہے ، جان جانے کا دھڑکا الگ سے لگا رہتا ہے پاکستان میں تو صورتحال کچھ زیادہ ہی گمبھیر ہے، کہا جاتا ہے کہ میرزاغالب اور میرتقی میر نے قلم سے طوفان کھڑا کیا تھا، مگر آج کوئی ہے جو ان بڑوں کے سچ کی شمع روشن کرتے ہوئے حکمرانوں کو سچ کا آئینہ دکھائے آج سچ لکھنا اور سچ کہنا بہت مشکل کام ہے ،قلم اٹھانے والا اور ضمیر کی آواز سننے والا آج دفن ہو کر رہ گیا ہے کوئی سچ سننا چاہتا ہے اور نہ کوئی سچ سنانا چاہتا ہے سچ ناپید ہورہا ہے حکمران چاہے کوئی بھی ہو سچ لکھنے کی کسی کو اجازت نہیں دیتے حکم عدولی پرمیڈیا پرطرح طرح کے قدغن لگائے جاتے ہیں آج صحافت کے نام پر مینا بازار لگا یا گیا ہے جہاںچند ایسے افراد قابض ہو گئے ہیں جن کا صحافت سے دور دورتک بھی کوئی تعلق نہیں وہ صحافت کے نام پر بدنما داغ ہیں ایک وقت تھا قلم مزدور سچ کیلئے ڈٹ جاتے تھے حالات جیسے بھی ہوں سچ کے ساتھ کھڑے رہتے تھے، آج وہ لوگ منظر سے غائب ہیں جب ہر طرف لاشے ہی لاشے ہوں اور انصاف بھی بکتا ہو تو کون ہے جو موت کے منہ میں جائے لیکن اس کے باوجود صحافی اپنے قلم کو زیر نہیں ہونے دیتے پھر بھی سرکار صحافیوں سے خوش نہیں ہوتی اور طرح طرح کے قوانین لاکر من مرضی کی صحافت کرانا چاہتی ہے زباں بندی کیلئے نئے نئے شکنجے تیار کیے جاتے ہیں اورجو حکم عدولی کرے اس کا علاج بھی کیا جاتا ہے؟ حکومتی دبائو کی وجہ سے جب سچ بولنے والا خاموش ہو جائے، تو مقدس پیشے کی روح ختم ہو جاتی ہے۔ صحافی کا فرض طاقت ورکے سامنے ڈٹ جانا اور مظلوم کی آواز بننا ہوتا ہے،ہر دور حکومت میں صحافیوں کی زبان بندی کی گئی ڈرایا دھمکایا گیا اور تو اورہر دور میں صحافیوں کو بکائو مال اور دو ٹکے کا کہا گیا جب من مرضی کی صحافت نہ کی جائے تواکثراسی طرح کے القابات سے نوازا جاتا ہے ابلاغ عامہ کو کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے اور صحافت کسی بھی ملک کیلیے ستون کا درجہ رکھتی ہے لیکن یہ کہنے کی حد تک ہے جانیں لینے کے باوجود صحافی حالت جنگ میں بھی اپنے فرائض سے پہلو تہی نہیں کرتے اس کی مثال غزہ ہے جہاں کئی صحافیوں کو موت دیدی گئی پاکستان میں بھی ایسا ہی ہے کئی علاقوں میں سچ لکھنے کی پاداش میں زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے حکومت نے آج تک سوائے دعوے کرنے کے عملی طور پر کچھ نہیں کیا پاکستان میں سیاسی بدامنی ہے اور صحافیوں کو ظلم ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس میں قتل، اغوا، ہراسانی، مقدمات، دھمکیاں، ایف آئی اے میں طلبی، آف ایئر کرنا، جبری برطرفیاں اور ٹرولنگ وغیرہ شامل ہے اوپر سے کوئی شنوائی بھی نہیں ہوتی دوسروں کو انصاف کی امید دلانے والے خود بے انصافی کا شکار ہوتے ہیں حکومت اور نہ ہی عدالتیں صحافیوں کو انصاف دینے میں دلچسپی رکھتی ہیں ٹارگٹ کلنگ معمول کی بات ہے بہت سے صحافیوں کے اہل خانہ وسائل نہ ہونے یا خوف کی وجہ سے خاموشی اختیار کرلیتے ہیں صحافیوں پر درج ایف آئی آرز کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے،اس کی وجہ سے کئی صحافی ملک چھوڑ گئے اس وقت پاکستان میں آزادی صحافت سخت دباؤ کا شکار اور بہت سی آوازیں مکمل خاموش ہیں، جو صحافی اس دنیا سے چلے گئے ان کے لیے انصاف تو دور کی بات ہے، جو زندہ ہیں ان کی زندگی بھی اجیرن بنائی ہے، حکومت صحافیوں کی مشکلات سے پردہ پوشی کر تی چلی آ رہی ہے یہ کہنا کہ ذرائع ابلاغ کی آزادی کیلئے کوشاں ہیں جھوٹ ہے کسی بھی حکمران کو سچ لکھنا اچھا نہیں لگتا اور اگر سچ لکھ دیا جائے تو پیکاایکٹ جیسے قوانین کا سامنا کر نا پڑتا ہے آزادی اظہار رائے کرنے کی پاداش میں کئی بار کال کوٹھری کی یاترا بھی کرنا پڑتی ہے کوئی صحافی اپنے پیشے سے غداری کا سوچ بھی نہیں سکتا حکومت کو بھی یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے۔

مزیدخبریں