آزادی صحافت، قلم محفوظ، قوم مضبوط

09:19 AM, 6 Nov, 2025

صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے آزادی صحافت کے تحفظ اور صحافیوں کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انکے الفاظ تسلی بخش تھے لیکن کیا وہ زمینی حقائق کی عکاسی کرتے ہیں؟ پاکستان میں صحافت اکثر خوف، دباؤ اور غیر یقینی صورتحال میں زندہ رہتی ہے۔ جب تک وعدے ٹھوس عمل میں تبدیل نہیں ہوتے، آزادی اظہار ایک نعرہ ہی رہے گا۔ آزادی اظہار پر قدغن و پابندیوں پر پاکستان کے صحافیوں ، او ر صحافی تنظیموں نے بہت کام کیا ہے، جیلیں کاٹی ہیں کوڑے کھائے ہیں اپنی آزادی اظہار کے حق کیلئے منظم تحریکیں چلائی ہیں ، اسوقت کے حکمرانو ں نے صحافیوںکے اتحاد سے خوفزدہ ہوکر ان منظم تنظیموں کو حصوں بخروں میں تقسیم کردیا ان کے پاس یہ ہی حل تھا کہ یہ جیل جانے، کوڑے کھانے پر تیار صحافیوںکو مستقبل کیلئے تقسیم کردیا جائے جس میں وہ کامیاب ہوگئے مگر آج وزیراعظم شہباز شریف کے بیان نے صحافیوں کو حوصلہ دیا چونکہ محسوس ہوا کہ وہ ایماندار صحافیوں کی مشکلات سے آگاہ ہیں صحافت کو نقصان کا سامنا کرانے والی صرف حکومت ہی نہیں ہوتی بلکہ وہ با اثر لوگ اور سیاست دان بھی ہوتے ہیں جو اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھتے ، انہیں وہی صحافت یا صحافی پسند ہوتا ہے جسکے قلم سے انکے بیانئے کو تقویت ملے ، یہ گزشتہ تین چارسال سے پاکستان میں ہورہا ہے صحافیوںکو استعمال کرکے ایک جماعت نے ملک کے اداروںکے خلاف رائے بنانے کی کوشش کی، ملک کے میڈیا ہائوسز نے توجہ نہ دی تو ملک کے اندر اور باہر بیٹھے سوشل میڈیا کا سہارہ لیا اور اپنے بیانئے کے مطابق عوام کو نہ صرف سیاسی حکومت بلکہ ملک معتبر اداروں یہاں تک عسکری قیادت اور اداروں کے خلاف زہریلے پراپیگنڈے کو اپنا ایجنڈا بنایا جسکی طر ف عسکری قیادت نے بارہا اشارہ اور مذمت کی مدمقابل نے اسے آزادی اظہارکا نام دیا ایماندار صحافی احتیاط سے چلتے ہیں، اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ ایک لفظ طاقتور کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے یا مضبوط مفادات کو چیلنج کر سکتا ہے۔ جمہوریت میں سچ بولنا کبھی جرم نہیں ہوتا۔ اس کا اندازہ معتبر الیکٹرانک چینلز اور پرنٹ میڈیا کو بھی ہے ۔ پاکستان کے اندر با اثر لوگوںکی جانب سے صحافیوںکو نقصان پہنچایا گیا ، یہ نقصان جمہوریت کو سمجھنے والوںنے نہیں بلکہ جسکی خبر کی ٹوپی اسکے سر پر فٹ نہیں آئی اسے اس نے بے ایمان صحافی کہہ دیا ۔ صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ہمت کا کام بن جاتا ہے۔جب وزیراعظم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دھمکیاں آزادی اظہار پر حملہ ہیں ، پاکستان کو فوری طور پر ایسے قوانین کی ضرورت ہے جو صحافیوں کو خاموش کرنے کے بجائے ان کی حفاظت کریں۔مثبت تنقید کا مطلب غیر معیاری خبر نہیںہوتی اگر یہ بات سب کی سمجھ آجائے تو پاکستان میں صحافت کو کوئی خطرہ نہیں ، صحافت کے شوق میں نو واردوں، ’’فیس بکی‘‘ صحافیوں کی پذیرائی اگر کوئی بھی ادارہ یا شخص کرے گا وہ جمہوریت کو نقصان پہنچائے گا ، پاکستان میں میڈیا ہائوسز میں کم تنخواہوں اور ناتجربہ کار ، صحافت کے رموز سے نا سمجھ نوواردئیے صحافت کو نقصان کو پہنچاتے ہیں اسکے ذمہ دار میڈیا ہائوسز کے مالکان ٹھہرانے چاہئیں چونکہ وہ اپنی دکان چمکانے اور چلانے کیلئے لو گوںکی ضرورت ہوتی ہے اظہار کی آزادی ایک اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ آتی ہے میڈیا تنظیموں اور صحافیوں کو یکساں طور پر پیشہ ورانہ اخلاقیات کوبرقرار رکھنا چاہیے، حقائق کی تصدیق کرنی چاہیے اور سنسنی خیزی سے گریز کرنا چاہیے۔ غلط معلومات نہ صرف صحافت کی ساکھ کو کمزور کرتی ہیں بلکہ عوامی اعتماد کو بھی ختم کرتی ہیں – بلاشک پاکستان میں صحافت کا معیار آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں آزادی اظہار، پیشہ ورانہ دیانت داری اور معاشی مجبوریوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک مشکل چیلنج بن چکا ہے۔ بلاشبہ، ملک میں میڈیا کی وسعت اور اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی صحافتی اقدار اور معیار میں وہ پختگی نظر نہیں آتی جو کسی آزاد اور ذمہ دار میڈیا کی پہچان ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے، پاکستان میں سیاسی جماعتیں اور بااثر طبقے میڈیا پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے مالی لالچ، اشتہارات کی بندش اور کبھی کبھار براہِ راست دھمکیوں کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ دباؤ صرف اداروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ انفرادی سطح پر بھی صحافیوں کی زندگیوں کو متاثر کرتا ہے۔ 
میڈیا ہاؤسز کی اندرونی صورتحال بھی کسی المیے سے کم نہیں۔ کم تنخواہوں، غیر مستقل روزگار اور کام کے دباؤ نے بہت سے صحافیوں کو پیشہ ورانہ کمزوریوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔ نتیجتاً، خبر کا معیار، تحقیق کی گہرائی اور زبان و بیان کی صفائی سب متاثر ہو رہی ہے۔ کئی نوجوان صحافی بغیر مناسب تربیت کے صرف روزگار کے حصول کے لیے اس شعبے میں قدم رکھتے ہیں، جس کا اثر براہِ راست صحافت کی ساکھ پر پڑتا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے اگرچہ صحافیوں کی حفاظت کے لیے مختلف قوانین متعارف کرائے ہیں، مگر ان پر عمل درآمد کا فقدان ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ قانون کتابوں میں ضرور موجود ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات مظلوم صحافی کو انصاف حاصل کرنے کے لیے خود ہی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا ادارے اپنی اندرونی پالیسیوں کو شفاف بنائیں، صحافیوں کو باعزت اور مناسب معاوضہ فراہم کریں اور دوسری جانب حکومت صحافیوں کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائے۔ صرف اسی صورت میں پاکستان میں صحافت دوبارہ اپنی اصل روح سچائی، تحقیق اور عوامی مفاد کی طرف لوٹ سکتی ہے۔ پاکستان میں سرکاری میڈیا کو طویل عرصے سے عوامی اعتماد حاصل کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔ جدید دور میں جب نجی نیوز چینلز اور سوشل میڈیا نے معلومات کے سیلاب کو عام کر دیا ہے، وہاں سرکاری میڈیا بدستور پرانی سوچ، محدود خبروں اور سرکاری بیانیے کے دائرے میں قید دکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث سرکاری میڈیا عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکا ہے اور مسلسل مالی و انتظامی خسارے کا شکار ہے۔ایک اور بڑی وجہ پیشہ ورانہ معیار کی کمی ہے۔ سرکاری اداروں میں اکثر تعیناتیاں اہلیت کے بجائے سفارش یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔ نتیجتاً، پروگراموں میں تازگی اور مواد میں جدت کی کمی واضح محسوس ہوتی ہے۔ مالی مشکلات بھی سرکاری میڈیا کے زوال میں بڑا کردار ادا کر رہی ہیں۔

مزیدخبریں