ماضی کے چند گمشدہ کردار 

08:28 AM, 7 May, 2026

 سنا ہے کہ ہر انسان کو اپنے ماضی سے پیار ہوتا ہے اور یقینا ہمیں بھی ہے اور ہمارے پڑھنے والے قارئین کو بھی ہے۔ نوجوان نسل ابھی عمر کے اس حصہ میں ہوتی ہے کہ جہاں ماضی کے جھنجھٹ کا کوئی کام نہیں ہوتا اس لئے کہ ابھی تو ان کا ماضی بن رہا ہوتا ہے اور ان کا ماضی اگر ہوتا بھی ہے تو ان کا حال ماضی سے کہیں بہتر ہوتا ہے ۔یہ ماضی کی یاد کے بکھیڑے تو امبرسر اور لائلپور کی صورت میں اس وقت یاد آتے ہیں کہ جب انسانی اعضاءمیں چستی کی جگہ سستی آنی شروع ہو جاتی ہے ۔اس وقت جو بندہ بھی عمر کی پانچ دہائیاں دیکھ کر چھٹے عشرے میں قدم رکھ چکا ہے یا اس سے زیادہ عمر کا ہے ۔یہ نسل انسانی کی وہ دو تین نسلیں ہیں کہ جو بیک وقت دنیا کی خوش قسمت ترین اور بد قسمت ترین نسلیں ہیں ۔خوش قسمت ترین اس لحاظ سے کہ نسل انسانی کے ہر شعبہ میں جو سہولتیں گذشتہ تیس چالیس سال سے انسان کو مل رہی ہیں اس سے پہلے ہزاروں سال کی معلوم انسانی تاریخ میں انسان کو میسر نہیں تھیںلیکن بدقسمتی ان نسلوں کی یہ ہے کہ ان سے ان کا ماضی بلکہ ہر نقش کہن چھین لیا گیا ہے ۔ہزاروں سالوں سے انسانی آبادی ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھی تھی اور گاﺅں دیہات ہوں یا شہر ان کی حالت سینکڑوں سالوں بعد بھی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ویسی ہی رہتی تھی لیکن آبادی میں تیزی کے ساتھ اضافہ نے ہر چیز کو بدل کر رکھ دیا ہے اور بڑھتی آبادی کی رہائشی اور کاروباری ضروریات کو پورا کرنے کے لئے صدیوں سے غیر آباد جگہیں بھی آباد ہونا شروع ہو گئیں ہیں اس نسل کے لئے ماضی کا وہ حصہ بن چکے ہیں جو کبھی لوٹ کر نہیں آ سکتے ۔ 
یہ تو بے جان کرداروں کی بات تھی لیکن بہت سے جاندار ہمارے اردگرد چلتے پھرتے کردار بھی تھے جو اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں ۔یہ نہیں کہ ان کا وجود بالکل ہی ختم ہو چکا ہے لیکن جو اہمیت آب و تاب ان کی اس وقت تھی وہ یقینا اب نہیں ہے ۔شاعر اب بھی ہیں اور بڑی اچھی شاعری ہوتی ہے لیکن جس طرح ہر دوسری تیسری فلم میں ہیرو کا کردار ایک شاعر ہوتا تھا کیا اب بھی وہی صورت حال ہے ۔کیا اب بھی محفلوں میں لڑکیاں کسی شاعر کا انتظار کرتی ہیں اور ستر اسی کی دہائی کی فلموں کی طرح اس پر مرتی ہیں ۔یقینا ایسا نہیں ہے اور اس طرح کا شاعر جو ہیرو کا کردار رکھتا ہو اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے ۔ ماچھن کا کردار ہمارے ماضی کا ایک بڑا ہی اہم کردار رہا ہے ۔شام کو بھی لیکن دو پہر کے وقت اکثر گھر والے آٹا گوندھ کر بچوں کے ہاتھ تندور پر بھجوا دیتے اور بسا اوقات خواتین خود بھی تندور پر لے جاتی اور ماچھن تندور پر روٹیاں لگا دیتی اور آٹے ہی میں سے کچھ حصہ اجرت کے طور پر رکھ لیتی اور پھر اس کی روٹیاں تندور میں لگا کر بیچ دیتی ۔گرمیوں میں دو پہر کے بعد سہ پہر کے وقت گھر سے چاول اور کالے چنے لے جاتے اور پھر گھروالوں کے ساتھ بیٹھ کر اس سادہ سی غذا کا مزا یقین کریں آج کے پیزا اور شوارموں سے کہیں زیادہ تھا ۔
ڈاکیہ تو اتنا اہم کردار تھا کہ ہر گھر کو اس کا انتظار رہتا تھا۔ کسی کو پردیس سے اپنے کسی عزیز کے خط کا انتظار ہوتا تو کسی کو منی آرڈر کی فکر ہوتی ۔ پاکستان اور ہندوستان کی بہت سی فلموں میں ڈاکیہ ایک اہم کردار کے طور پر موجود ہوتا تھا۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ ڈاکیہ تو اب بھی ہے تو جناب ہو گا لیکن اگر نظر آ جائے تو دکھا دیں بلکہ دکھا کر شکریہ کا موقع دیں اور ثواب دارین بھی حاصل کریں ۔ کاتب بھی ماضی کا ایک انتہائی اہم کردار تھا اور ماضی بعید سے لے کر پرنٹنگ پریس کی ایجاد سے پہلے تک جتنا علم ہم تک پہنچا ہے اس میں کاتب کے بغیر یہ سب ممکن نہیں تھا یہ کردار 80کی دہائی تک موجود تھا ۔ جوگی اور سپیرے ۔سپیرے تو اب بھی ہیں لیکن ستر کی دہائی تک جس طرح گلی محلوں میں نظر آتے تھے اب اس دور کی نسبت کم کم ہی نظر آتے ہیں اور جوگی کا کردار تو قریب قریب ختم ہو چکا ہے اور اگر کہیں ہے بھی تو نظر نہیں آتا ۔سقہ کا کردار بھی ہوا کرتا تھا ۔ہماری پیدائش سے بھی پہلے کا جو زمانہ تھا اس میں تو یہ بھی معاشرے کے اہم کرداروں میں سے تھا لیکن بچپن کے دور میں بڑی نامعلوم سی یادیں ہیں کہ ریڑھی پر پانی کی بھری ہوئی مشکیں رکھ کر گھر گھر پانی پہنچا کر روزی کماتا تھا پھر جیسے جیسے ہینڈ پمپ (پانی کا نلکا) عام ہوتا گیا اس کی افادیت بھی ختم ہوتی گئی اور پھر جب گھر میں لگے نلکوں کی جگہ سرکاری پانی نے لے لی تو یہ کردار بھی ماضی کا حصہ بن گیا لیکن اس کی جھلک آج بھی نظر آتی ہے کہ جب منرل واٹر کی بڑی بوتلیں اسی طرح ریڑھی پر رکھ کر گھروں اور خاص طور پر دفاتر میں سپلائی کرتا ہوا کوئی بندہ جب نظر آ جاتا ہے ۔ کوچوان اب بھی ہیں لیکن کچھ عرصہ پہلے تک جب چنگ چی رکشہ ابھی عام نہیں ہوا تھا اس وقت کوچوان آمد و رفت کے حوالے سے معاشرے میں مرکزی کردار تصور کیا جاتا تھا ۔اب شہروں میں تو شادی بیاہ کے مواقع پر بگھی کی صورت میں کوچوان سے ملاقات ہو جاتی ہے ورنہ اس کا جو روایتی تصور تھا وہ کم و بیش ختم ہو چکا ہے ۔ اسی طرح لکڑ ہارا ، چرواہا اور ان جیسے کئی کردار کہ جو ہمارے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہر معاشرے کے اہم کردار تھے لیکن اب ان کا وجود بھی اس طرح سے باقی نہیں رہا کہ جس طرح ان کا ایک روایتی کردار تھا ۔وقت کے ساتھ ساتھ پیشے بدلتے گئے اور اس کے ساتھ بہت سے کردار کہ جن کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ادھورا تصور کیا جاتا تھا آج وہ سب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔یہی اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ خدائے بزرگ و برتر کی ذات کے سوا باقی سب فانی ہیں ۔کرداروں نے بھی مٹ جانا ہے اور کردار نبھانے والوں نے بھی فنا ہو جانا ہے باقی رہنے والی ذات فقط میرے رب کی ذات ہے۔

مزیدخبریں