ایران کی جانب سے پیش کیا گیا نیا امن منصوبہ جو تین مراحل پر مشتمل ہے ۔اس میں چند نکات بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔ ۱۔ منصوبے کے تیسرے مرحلے میں ایران نے عرب ممالک کے ساتھ اسٹریٹیجک مکالمے کے آغاز اور پورے مشرق وسطیٰ پر مشتمل ایک سیکورٹی نظام کی تشکیل کی تجویز دی ہے ۔ ۲۔ امریکہ اور اسرائیل ، ایران اور اس کے اتحادیوں پر حملہ نہ کرنے جبکہ ایران کی جانب سے بھی امریکہ و اسرائیل پر حملے نہ کرنے کی شرط شامل ہے ۔ دوسرے لفظوں میں کہہ سکتے ہیں ”نہ تسوی مینوں چھیڑونہ میں توانوں چھیڑناواں ۔ راقم کی رائے کے مطابق ایران کو یہ شرط رکھنی چاہیے تھی کہ ( خطے میں اگر کسی ایک پر حملہ ہوا تو سب پر حملہ پر تصور ہو گا ۔ تب سب مل کر اس کا دفاع کریں گے )۔ ماضی اور موجودہ خون ریز جنگی حالات کا تقاضا ہے کہ سہ فریق نہیں بلکہ ہمہ جہتی معاہدے کی اشد ضرورت ہے ۔ خیال رہے کہ نائن الیون کی جنگ کے دوران 2004 میں جغرافیائی و سیاسی تصور کی بنیاد پر امریکہ کی جانب سے متعارف کرایا گیا بیانیہ ” گریٹر مشرق وسطیٰ “ میں پاکستان کو بھی شامل کیا گیا تھا ۔ پھر اس وقت سے لیکر اب تک پاکستان ، افغانستان ، ایران اور عرب ممالک حالت جنگ میں ہی ہیں ۔ ۳۔ ایران نے امن منصوبے میں اسرائیل کو شامل کرنے کی بات کی ہے ۔ عربوں کے ساتھ اسٹریٹجک مکالمہ اور مشترکہ سیکورٹی نظام کی تشکیل درحقیقت عرب ممالک کی بھرپور موجودگی کی اہمیت کو پہلی بار تسلیم کیا گیا ہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے دیئے گے نئے امن منصوبے میں حیرت انگیز لچک سے اس خیال کو تقویت مل رہی ہے ۔ کہ ایران ، ناکہ بندی ” بحری
قزاقی “ اور حالیہ جنگ میں ہونے والے ناقابل برداشت نقصان سے دوچار ہے ۔ جو مزید جنگ جاری رکھنے کا متحمل نہیں ہو پارہا ۔ ایران کا جنگ کے دوران ہونے والے نقصان کے ازالے کا بار بار اور سختی سے تقاضا دگرگوں معاشی صورت حال کو سنبھالا دینے او رخطے میں اپنے اثرورسوخ کو برقرار رکھنے کی کوشش کہا جا سکتا ہے ۔ اسرائیل کو مذاکرات میں شامل کرنے کی بات کر کے بالواسطہ یا بلا واسطہ لچک کی انتہا کی طرف اشارہ ہے ۔ مبصرین کے مطابق مکمل جنگ بندی ہونے کی صورت میں کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سبب بن سکتا ہے ۔ بہرحال یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔
صہیونی ساہوکار چالاک و عیار ٹرمپ ایران کے ان کمزور پہلوﺅں سے باخوبی آگاہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہارا ہوا ٹرمپ ” نیول ٹاک “ پر یہ جنگ جیتنا چاہتا ہے ۔ اور کسی بھی سمجھوتے تک پہنچنے سے پہلے پہلے ایران سے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ راقم نے ایک ماہ قبل اور چند روز قبل بھی اپنے کالموں میں کہا تھا ۔ کہ میزائلوں ، گولہ بارود اور ڈرونز سے شروع ہونے والی جنگ اب اعصابی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ بنے گا سکندر وہی جو اپنے اعصاب پر قابو رکھے گا ۔ ایران کی چلائی ہوئی چال ( آبنائے ہرمز کی بند ش ) اب اس پر خود ( ناکہ بندی کی شکل میں ) الٹ دی گئی ہے ۔ جوکہ ایرانی اسٹیک ہولڈروں کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا ، کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ بقول ٹرمپ کے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بہت سے ممالک اس وقت امریکہ کے آپریشن ” پروجیکٹ فریڈم “ کی حمایت میں اس کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ جبکہ دوسری جانب ایران تنہا نظر آرہا ہے ۔ حتیٰ کہ چین و پاکستان نے بھی چند روز قبل آبنائے ہرمز کو دونوں جانب سے کھولنے پر زور دیا ہے ۔ یہ سارا ” نیول اسٹریٹجک “ منظرنامہ 11 اپریل کو شائع ہونے والے کالم ( آبنائے ہرمز بنی نوع انسان کی لائف لائن ) میں احاطہ تحریر میں لا چکا ہوں ۔ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے آپریشن پروجیکٹ فریڈم اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتی ہے ۔ عرب ذرائع ابلاغ کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران اپنے موقف میں مزید نرمی لاتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو مﺅخر رکھنے کی شرط واپس لے لی ہے ۔ اور اب جوہری پروگرام پر بھی فوری بات چیت کے لیے تیار ہے ۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے پہلی والی تجویز سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بتدریج آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کو بھی کھولنے کے لیے تیار ہے ۔ بقول عرب میڈیا کے اس نے خطے سے امریکی افواج کے انخلاءکا مطالبہ بھی ترک کر دیا ہے ۔ فی الحال یہ خبر صرف عرب میڈیا سے ہی آئی ہے ۔
مبصرین کے مطابق ایران پوری کوشش کر رہا ہے ۔ کہ کسی طرح اس کی نیول سرحدوں کے ارد گرد ”فوجی بلڈ اپ “ ختم کر دیا جائے ۔ ناکہ بندی جسے ایران بحری قزاقی سے تعبیر کرتا ہے ۔ اب دن بدن اس کے لیے ناقابل برداشت بوجھ بنتی جارہی ہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جہاں تک ہو سکتا تھا ، اس نے لچک دکھائی ۔ اس کے باوجود صہیونی کٹھ پتلی ٹرمپ نہیں مانتا ۔ تو خطہ و آبنائے ہرمز انسانی خون سے سرخ ہو جائے گی ۔ تب کسی کے لیے کچھ نہیں بچے گا ۔ وقت آ گیا ہے کہ ٹرمپ کو بے جا ضد چھوڑ کر مستقل جنگ بندی کا معاہدہ کر لینا چاہیے ۔ شاید کہ بگڑا ہو ا بچہ نوبل انعام کے لیے نامزد ہو جائے ۔ فی الحال اسے بتانا نہیں ۔
متوقع معاہدہ : نئی جنگ کی پیش بندی یا امن کی ضمانت
08:27 AM, 7 May, 2026