گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں

08:47 AM, 7 May, 2026


اپنے فلیٹی مفاد پر زد پڑنے پر ہمارے نون لیگی سیاسی و صحافی بھائی ابصار عالم نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پر جو الزامات لگائے اُن کا جواب لازمی دیا جانا چاہیے، مگر ہمارے حکمران جب اندھا دُھند طاقت کے نشے میں چور ہوتے ہیں وہ خود کو کسی معاملے میں جوابدہ نہیں سمجھتے، حتیٰ کہ وہ اس یقین کامل میں مبتلا ہوتے ہیں وہ اللہ کو بھی جوابدہ نہیں ہیں، چنانچہ اُن کے دل و دماغ میں جو آتا ہے وہ بے دھڑک کرتے چلے جاتے ہیں۔ اول تو اُن کی اصلیت یا حقیقت بیان کرنے کی کوئی جُرا¿ت نہیں کرتا، اُن کی طاقت کے سامنے سب سرنگوں رہتے ہیں، کوئی یہ جُرا¿ت کر لے اُسے اپنے خلاف ایسی ایسی گھٹیا انتقامی کارروائیوں کا سامنا ایسے ایسے ”نامعلوم مقامات“ سے کرنا پڑتا ہے سچ بولنے کا تصور ہی اُن کے ہاں ختم ہو جاتا ہے، اُمید ہے محسن نقوی پر الزامات لگانے سے ابصار عالم کا کچھ نہیں بگڑے گا، یہ ”گھر کی لڑائی“ ہے کچھ لے دے کے سیٹ ہو ہی جائے گی، انسان جب طاقت میں ہوتا ہے اُسے احساس ہی نہیں ہوتا طاقت اِک روز ختم ہونی ہے، وہ سمجھتا ہے یہ طاقت بعد از مرگ بھی جاری رہے گی، قبر میں جب فرشتے اُس سے حساب لینے آئیں گے اُلٹا وہ فرشتوں سے حساب لینا شروع کر دے گا، کاش یہ حقیقتیں انسان پر آشکار ہو جائیں فرعون نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا وہ دریائے نیل میں ڈوب جائے گا، مگر وہ ڈوبا ، شداد اگلے سیکڑوں برس اپنی جنت میں عیاشی کرنا چاہتا تھا دروازے پر پہنچ کر مر گیا، نمرود کی پلاننگ کئی صدیاں مزید حکومت کرنے کی تھی ایک مچھر کا شکار ہو گیا، ہٹلر کے ارادے کم خطرناک نہیں تھے، حالات نے ایسا پلٹا کھایا وہ خود کشی پر مجبور ہو گیا، دُنیا کے ہر ظالم کو ایک مُدت تک وقت ملتا ہے، اللہ کی جب پکڑ آتی ہے دھن دولت طاقت وسائل سب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، سارا غرور ساری طاقت، تکبر خاک میں مل جاتے ہیں، قبر میں صرف اعمال جاتے ہیں مال نہیں جاتے، ہمارے حکمرانوں کا ایمان ہے قبر میں مال جاتے ہیں، یہ اُن کی غلط فہمی ہے، مال و زر دُنیا میں کام نہیں آتا آخرت میں کیا آئے گا؟ مال کام آتا کوئی دولت مند بیمار ہوتا نہ مرتا، پر عرض کیا ناں انسان جب طاقت میں ہوتا ہے یہ ساری حقیقتیں بُھلائے بیٹھا ہوتا ہے، وہ اس احساس سے مکمل طور پر عاری ہوتا ہے قدرت کی سخت پکڑ کا اک روز اُسے شکار ہونا ہے، انسان کی بیشمار بداعمالیوں کا بدلہ اگر دُنیا میں نہ چُکایا جا سکا آخرت میں چکا دیا جائے گا، ظلم کا بدلہ مگر دُنیا و آخرت دونوں میں چکایا جائے گا، بیشمار درختوں کو قتل کر کے اسلام آباد کی تباہی کا جو منصوبہ بنایا جا رہا ہے منصوبہ ساز اگر سمجھتے ہیں وہ اُس کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں گے یہ اُن کی غلط فہمی ہے، ”مقتول درختوں“ کی بدعائیں ہمیشہ اُن کا پیچھاکریں گی، قدرت کے نظام میں بعض اوقات دیر ہوتی ہے اندھیر نہیں ہوتی، دیر بھی اس لیے ہوتی ہے اللہ وقت کے فرعونوں کو خود یہ موقع فراہم کرتا ہے بھاگو جہاں تک بھاگ سکتے ہو، جب وہ آخری حد تک چلے جاتے ہیں پھر اللہ کی پکڑ آتی ہے، ابھی سارے اپنی اپنی جہازی سائز کی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں، ایک مضبوط سرپرستی اُنہیں میسر ہے جو سیاہ و سفید کی مالک ہے، پورا نظام اُن کی گرفت میں ہے، کاروبار کرپشن عروج پر ہے، دُنیا میں کرپشن ہوتی ہے ہمارے ہاں ”کرپشن کا کاروبار“ ہوتا ہے، یہ واحد کاروبار ہے جو چمک رہا ہے باقی سارے ٹھپ پڑے ہیں، دو چار شعبوں کے دو چار لاوارث کرپٹ افسروں کو عارضی گرفت میں لا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے ”کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہے“، مرکز میں کرپشن جن کی سرپرستی میں ہو رہی ہے سب کو معلوم ہے، ایک وفاقی وزیر قتل کے ملزمان کی ضمانتوں کے سودے طے کراتا پھرتا ہے، ممکن ہے کچھ عرصے بعد کرپشن کی دوڑ میں پنجاب بُزدار دور سے بھی آگے نکل جائے، البتہ سندھ اپنی روایت کے مطابق ہمیشہ سب سے آگے رہے گا، نااہلی کی کرپشن میں کے پی کے کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا، نااہلی کی کرپشن روپے پیسے کی کرپشن سے بڑی ہوتی ہے، مُلک کو سب سے زیادہ نقصان اسی کرپشن نے پہنچایا ہے، اس کرپٹ اور کریمینل سسٹم کو ہم نے دل و جان سے قبول کیا ہوا ہے، قائداعظم، لیاقت علی خان، ملک معراج خالد، غلام مصطفی جتوئی، محمد خان جونیجو، ڈاکٹر مبشر حسن، میاں محمود علی قصوری، محمد حنیف رامے، معراج محمد خان جیسے عظیم سیاستدان اور حکمران اپنی ایمانداری کی وجہ سے ہمارے آئیڈیل تھے، ہمارے بچے ان کے نام تک نہیں جانتے، ہم نے اُن کی تربیت ہی ایسی کی ہے اب اُن کے آئیڈیل زرداری، نواز شریف، شہباز شریف، محسن نقوی اور وہ عمران خان ہیں جو تبدیلی کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دے کر خود تبدیل ہو گئے تھے، ایک ماڈرن علاقے کے بچے کو اُس کے دادا نے بتایا ”قائداعظم بہت بڑے لیڈر تھے“، بچے نے پوچھا ”عمران خان سے زیادہ بڑے لیڈر تھے؟“، یہ تاثر اب کمزور پڑتا جا رہا ہے ماضی کے مقابلے میں کرپشن کم ہے یا اہم عہدوں پر تقرریاں تبادلے اب لمبی رقمیں دے کر نہیں ہوتے، یہ اصل میں سسٹم چلانے والوں کی ”میڈیا مینجمنٹ“ ہے جس کی ہمیں داد دینا پڑے گی کہ کرپشن کی داستانیں ویسے سامنے نہیں آ رہیں جیسے ماضی میں آتی رہیں، دوسرے یہ بھی روایت ہے جب تک کوئی اقتدار یا طاقت میں ہوتا ہے اُس کے سارے کرتوت چھپے رہتے ہیں، جب وہ اقتدار اور طاقت سے محروم ہوتا ہے، جب اُس کے ”والی وارث“ بدلتے ہیں تب پتہ چلتا ہے کیسی کیسی اندھیر نگری اُس نے مچا رکھی تھی، پہلے ہم کہتے تھے ”سب پھڑے جان گے“، اب ہمیں پتہ ہے ”سب بھاگ جائیں گے“، کوئی پُرتگال، کوئی ترکی، کوئی فرانس، کوئی ہالینڈ کوئی برطانیہ تو کوئی امریکہ، پاکستان میں صرف چھوٹی موٹی کرپشن کرنے والے ہی رہ جائیں گے، چھوٹے چھوٹے پٹواری، تحصیل دار اور تھانیدار وغیرہ، اُنہیں بھی گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، ہمارا سسٹم اور ہماری عدالتیں اُن کی مدد کے لیے ہیں ناں۔

مزیدخبریں