شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا ناجائز کیوں؟

08:43 AM, 7 May, 2026


22 اپریل تا 10 مئی 2025ءپاکستان اور بھارت کے مابین پیدا ہونے والی کشیدگی نے ”معرکہ حق“ اور قرآنی تصور ”بنیان مرصوص“ کی عملی اہمیت کو نمایاں کر دیا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ”بے شک اللہ تو ان کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے“۔ (الصف: 4)۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حق کی خاطر جدو جہد کرنے والوں کے لیے اتحاد، نظم اور باہمی ربط بنیادی شرط ہے۔ اس کشیدگی کے دوران قومی سطح پر جس یکجہتی اور اجتماعی شعور کا مظاہرہ کیا گیا، وہ اس قرآنی ہدایت کی عملی تفسیر کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے پاک فوج کو جس طرح جوابی کارروائی کیلئے منظم کیا اس کی مثال نہیں ملتی، دوسری طرف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے فضائی معرکے میں ”مجھے رافیل چاہیے“ کہنے والے بھارت بلکہ رافیل بنانے والے ملک کا غرور خاک میں ملا دیا اور دشمن ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں پاکستان، پاک فوج اور پاک فضائیہ کی دھاک بٹھا دی۔ عسکری قیادت نے بھارت کو چند گھنٹوں میں ہی گھٹنوں پر لاکھڑا کیا یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند ہوا اور عالمی طاقتیں پاکستان کی عسکری قیادت کی معترف ہوئیں۔ بہرکیف اسلام نے جنگ کو بھی اخلاقی حدود کا پابند بنایا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور اللہ کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑیں اور زیادتی نہ کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا“ (البقرہ: 190)۔ اسی اصول کی وضاحت نبی اکرم کے اس فرمان سے ہوتی ہے: جس میں بچوں اور غیرمقاتلین کے قتل سے منع کیا گیا ہے۔ مذکورہ جنگ میں بھارت نے مساجد، مدارس اور بے گناہ معصوم بچوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنا کر جنگی جرائم اور انسانیت سوز ی کا ارتکاب کیا۔ جبکہ پاکستان نے صرف فوجی اور دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا، پاکستان کی دفاعی حکمت عملی قرآن وسنت اور اسلامی تعلیمات مطابق تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو فتح مبین عطا فرمائی۔ بھارت نے اس آپریشن کا نام ”سندور“ اور پاکستان نے معرکہ حق ”بنیان مرصوص“ نام رکھا۔ اس مضمون میں اسلامی جنگی اصولوں اورشہری آبادیوں کو نشانہ نہ بنانے سے متعلق اسلامی تعلیمات کواختصارکے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح اندھا دھند حملے، جن میں شہری اور فوجی کے درمیان کوئی تمیز باقی نہ رہے، بھی ”اعتدا“ میں شامل ہیں۔ لہٰذا ایسے حملے جو بلا امتیاز ہوں، اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ مزید برآں، لاشوں کی بے حرمتی (مثلہ) بھی ممنوع ہے، جس سے نبی کریم نے سختی سے منع فرمایا (صحیح بخاری:3015)۔ اسی طرح خیانت، بدعہدی اور معاہدات کی خلاف ورزی بھی زیادتی کے زمرے میں آتی ہے، کیونکہ اسلام نے امان اور وعدوں کی پاسداری کو بنیادی اخلاقی قدر قرار دیا ہے۔ ماحول اور املاک کی بلا ضرورت تباہی جیسے درخت کاٹنا، کھیت جلانا یا جانوروں کو بے وجہ ہلاک کرنا بھی اسی ممانعت میں شامل ہے، جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے لشکروں کو ہدایات دیتے وقت واضح فرمایا۔
”وَلَا تَع±تَدُوا“کا ایک اہم پہلو اصولِ تناسب (Proportionality) بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت کا استعمال ضرورت سے زیادہ نہ ہو۔ اگر دشمن محدود ہے تو حملہ بھی محدود ہونا چاہیے، اور شہری نقصان کو حتی الامکان کم سے کم رکھا جائے۔ یہی اصول آج کے بین الاقوامی انسانی قانون میں بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلامی تعلیمات نہایت متوازن اور ہمہ گیر ہیں۔ اس آیت کا ایک اور اہم پہلو اس کا دفاعی اور اصلاحی مزاج ہے۔ اسلام میں جنگ کسی جارحانہ مقصد کے لیے نہیں بلکہ دفاع اور ظلم کے خاتمے کے لیے مشروع ہے۔ سیاقِ آیات (البقرہ: 190–193) سے واضح ہوتا ہے کہ قتال کی اجازت اس وقت دی گئی جب دشمن نے زیادتی کی، اور اگر وہ رک جائے تو مسلمانوں کو بھی جنگ روک دینے کا حکم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام جنگ کو آخری حل کے طور پر دیکھتا ہے، نہ کہ پہلا اختیار۔
یہ آیت اسلامی قانون جنگ کے تین بنیادی ستون قائم کرتی ہے۔ اوّل: تمیز (Distinction) کہ صرف جنگجو افراد ہی ہدف ہوں۔ دوم: عدمِ تعدی (No Excess) کہ کسی بھی قسم کی زیادتی نہ کی جائے۔سوم: تناسب (Proportionality) کہ طاقت کا استعمال متوازن اور محدود ہو۔ ان اصولوں کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط بلکہ شرعی طور پر صریح ناجائز اور حرام ہے۔ اسلام کا پیغام یہ ہے کہ جنگ کے میدان میں بھی انسانیت، عدل اور رحمت کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔ اسی طرح انسانی جان کی حرمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: مت قتل کرو، اس جان کو، جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا مگر حق کے ساتھ (الانعام151:6) ناحق قتل کرنے والے یا قتل کا حکم دینے والے کے بارے میں احادیث میں سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں، مثلاً: حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے، رسول اکرم نے فرمایا: قیامت کے دن مقتول قاتل کو لے کر اس حال میں آئے گا کہ اس کی پیشانی اور سر اس کے ہاتھ میں ہوں گے اور گردن کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا۔ عرض کرے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا، حتیٰ کہ قاتل کو عرش کے قریب کھڑا کر دے گا۔ (جامع ترمذی:3040)
غیر مقاتلین کا تحفظ اسلامی قانونِ جنگ کا ایک بنیادی ستون ہے۔ قرآن، حدیث، سیرتِ نبوی اور خلفائے راشدین کے طرزِ عمل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام نے جنگ کو بھی اخلاقی حدود کا پابند بنایا ہے۔ بے گناہ افراد کو نقصان پہنچانا نہ صرف ناجائز بلکہ سنگین گناہ ہے۔ اسلامی تعلیمات آج کے دور میں بھی انسانیت کے لیے ایک مکمل ضابطہ اخلاق فراہم کرتی ہیں، جو ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ حتیٰ کہ جنگ میں بھی انسانیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یہ اصول بھی جنگی حالات میں خاص طور پر اہم ہو جاتا ہے اگر دشمن فوج نے کوئی جرم کیا ہے تو اس کی سزا عورتوں، بچوں اور عام شہریوں کو نہیں دی جا سکتی،کیونکہ وہ اس جرم میں شریک نہیں۔ اسی لیے فقہائے اسلام نے تصریح کی ہے کہ غیر مقاتلین کو نشانہ بنانا اس قرآنی اصول کے خلاف ہے۔ یہی مضمون قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر دہرایا گیا ہے: ”کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“۔ (النجم: 38) اس تکرار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصول اسلام میں انتہائی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
گزشتہ برس پاکستان اور بھارت کے مابین پیدا ہونے والی کشیدگی نے جسے پاکستان نے بنیان مرصوص کی علامتی تعبیر کے طور پر پیش کیا، اس بات کو واضح کر دیا کہ جدید جنگی حالات میں بھی اسلامی اصولِ جنگ کی معنویت پوری طرح قائم ہے۔ اس دوران قومی سطح پر جس اتحاد، نظم اور اجتماعی شعور کا مظاہرہ ہوا وہ اسی قرآنی ہدایت کی عملی تصویر ہے کہ حق کے لیے صف بندی ایک مضبوط دیوار کی مانند ہونی چاہیے۔ اس معرکہ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستانی افواج نے سلامی تعلیمات کے مطابق جنگ کا دائرہ صرف دفاعی اور فوجی اہداف تک محدود رکھا، جبکہ بھارت نے مساجد، مدارس، عبادت گاہوں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جو صریحاً جنگی جرائم اور ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس معرکہ کے ذریعے پاکستان کو دنیا میں شان و عزت اور بھارت کو ذلیل و رسوا کیا۔ اس لیے بنیان مرصوص کا حقیقی پیغام یہی ہے کہ قوت و دفاع کے ساتھ ساتھ اخلاقی حدود، انسانی حرمت اور اصولِ عدل کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے، کیونکہ اسلام میں فتح صرف میدانِ جنگ کی ہی نہیں ہوتی بلکہ اصول و اخلاق کی پابندی کی بھی ہوتی ہے۔1

مزیدخبریں