واشنگٹن : مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی کی بدلتی صورتحال کے درمیان امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر انتہائی سخت اور واشگاف بیانات سامنے آئے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ امریکہ خود کسی فوجی آپریشن کی پہل نہیں کر رہا، تاہم انہوں نے دوٹوک الفاظ میں وارننگ دی ہم پر گولی چلائی گئی تو خاموش نہیں رہیں گے، بلکہ اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی تجارتی گزرگاہ ہے، اور کسی بھی واحد ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس اہم ترین سمندری راستے پر اپنا یکطرفہ کنٹرول قائم کرے۔
ادھر امریکی وزیرِ جنگ (وزیرِ دفاع) پیٹ ہیگستھ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ اس وقت جنگ بندی نافذ ہے، لیکن امریکی فوج کی جانب سے آبنائے ہرمز کا فوجی محاصرہ بدستور قائم رہے گا تاکہ عالمی جہاز رانی کو محفوظ رکھا جا سکے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، امریکی انتظامیہ کا حتمی ہدف واضح ہے۔ امریکی وزیرِ جنگ نے تصدیق کی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران کسی بھی قسم کے مذاکرات یا شرائط کے بغیر مکمل طور پر ہتھیار ڈالے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ کے اس سخت موقف سے خلیج کی پٹی میں عسکری کشیدگی کسی بھی وقت تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز پر تناؤ عروج پر: "حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیں گے"، امریکہ کا ایران کو ہتھیار ڈالنے کا الٹی میٹم
09:20 AM, 6 May, 2026