نئی دہلی : پہلگام فالس فلیگ حملے کے بعد بھارت میں سیاسی فضا مزید گرم ہو گئی ہے۔ ایک بھارتی سیاسی رہنما نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی کو اب وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے کر دوبارہ چائے کا ٹھیلا لگانا چاہیے۔
ویڈیو بیان میں رہنما نے کہا کہ مودی 2016 سے دہشت گردی ختم کرنے کے دعوے کر رہے ہیں، لیکن 2025 آ گیا، حالات وہی کے وہی ہیں۔ انہوں نے پلوامہ حملے، آرٹیکل 370 کی منسوخی اور فوج کو سیاست میں شامل کرنے پر بھی مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔
وزیر داخلہ امیت شاہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ وہ ریاستوں کو خریدنے اور حکومتیں گرانے میں لگے ہوئے ہیں، جبکہ مشیر قومی سلامتی اجیت ڈوول پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو "جیمز بانڈ کا پردادا" سمجھتے ہیں، لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر پا رہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ بھارتی عوام اب مودی حکومت سے مایوس ہو چکے ہیں اور ہندوتوا کے نظریے نے ملک کو تقسیم اور خوف کا شکار کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مودی، امیت شاہ اور اجیت ڈوول کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر بھارت کو فرقہ وارانہ سیاست سے نجات دلائی جائے۔