اگلے روز میں نامور قلم کار رؤف کلاسرا کی ایک تحریر پڑھ رہا تھا ، اب جب کہ بدقسمتی سے پاکستان میں کتاب کو سب سے ناکارہ شے سمجھا جانے لگا ہے ، کتابوں سے کسی کو کوئی دلچسپی ہی نہیں رہی ، اس ماحول میں رؤف کلاسرا کتاب کلچر کو زندہ رکھنے کی جو کوششیں کر رہے ہیں میں اس پر دل سے اْن کی قدر کرتا ہوں ، میرے گھر میں بے شمار کتابیں ہیں حتیٰ کہ میرے ڈرائنگ روم میں بھی بہت سی کتابیں ہیں ، مدت ہوئی کوئی ایسا مہمان نہیں آیا جس نے ڈرائنگ روم میں پڑی ان کتابوں میں سے کوئی کتاب اْٹھا کر پڑھی ہو ، پڑھنا تو درکنار محبت سے ان کتابوں کی طرف دیکھتے تک نہیں ، میں اکثر اپنی بیگم سے اور جو خواتین گھر کے کام کاج میں ہماری مدد کرتی ہیں اْن سے گزارش کرتاہوں کہ گھر کی دوسری اشیاء پر کسی وجہ سے اگر ڈسٹ وغیرہ پڑی ہو وہ میں برداشت کر لوں گا لیکن اگر کتاب پر مجھے ڈسٹ نظر آئی میں برداشت نہیں کروں گا، چنانچہ میرے گھر میں روزانہ صبح سب سے پہلے کتابوں کی ڈسٹنگ ہوتی ہے ، ایک زمانے میں کتاب کو ایک قیمتی سرمایہ سمجھا جاتا تھا ، ہمارے لکھاری بہت محنت اور توجہ سے کتابیں لکھتے تھے ،یہ زمانہ کتاب کی قدر کا زمانہ تھا ، ملک کی اس وقت جو معاشی صورتحال ہے اس میں دوسرے کاروبار بھی تباہی کے تقریباً آخری دہانے پر پہنچے ہیں ، سب سے زیادہ نقصان ’’اشاعتی اداروں‘‘ کا ہوا ہے ، میں حیران ہوں ’’سنگ میل‘‘ جیسا اشاعتی ادارہ کیسے اپنا وجود اب تک قائم رکھے ہوئے ہے ؟، رؤف کلاسرا کو کتاب سے عشق ہے ، دنیا جہان کی کتابیں اْنہوں نے پڑھ رکھی ہیں ، اْن کی اپنی کتابیں بھی بہت شاندار ہیں ، کتابوں کے ساتھ اپنے رومانس کے اسی عالم میں اْنہوں نے انارکلی بازار لاہور کے ایک فٹ پاتھ پر کتابیں فروخت کرنے والے ایک شخص کی اس انداز میں مدد کی جسے سراہے بغیر میں نہیں رہ سکا، آج کل پورے پنجاب میں ’’ناجائز تجاوزات‘‘کو ختم کیا جا رہا ہے ، یہ کام خیر سے فارم 47 کی پیداوار ’’ناجائز حکومت‘‘کر رہی ہے ، اس معاملے میں جتنی بد دعائیں حکومت کو مل رہی ہیں حکومت کو اس کی کوئی پروا ہی نہیں ہے ، ہماری حکمران اب دعاؤں بددعاؤں پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ اْنہیں پتہ ہے نہ کسی کی دعاؤں سے وہ اقتدار میں آتے ہیں ، نہ کسی کی بددعاؤں سے وہ اقتدار سے جاتے ہیں ، رؤف کلاسرا کو اْن کے کتاب فروش دوست کا فون آیا کہ ’’انارکلی بازار سے میری پرانی کتابوں کے فولڈنگ سٹال کو اْٹھا کر لے گئے ہیں ، آپ اس معاملے میں میری مدد فرمائیں ‘‘، رؤف کلاسرا نے اس پر چند افسروں اور حکمرانوں کو ٹیگ کر کے ایک ٹویٹ کیا ، اْن کے اس ٹوئٹ کا کسی نے نوٹس نہیں لیا ، سوائے خواجہ سعد رفیق کے اْنہوں نے اس فولڈنگ سٹال کو بحال کرانے کے لیے ذاتی طور پر کچھ افسروں سے رابطہ کیا اور اپنی کوشش میں وہ کامیاب ہو گئے ، رؤف کلاسرا نے اْن کے شکریہ کے لئے ایک خوبصورت کالم لکھا ، ساتھ ہی اْنہوں نے یہ گلہ بھی کیا کہ اْنہوں نے اپنا یہ ٹویٹ وزیراعظم شہباز شریف ، وزیراعلیٰ مریم نواز ، وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری ، حکومت پنجاب ڈی جی ایل ڈی اے اور ڈپٹی کمشنر لاہور وغیرہ کو ٹیگ کیا تھا مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ، میرے خیال میں عوام کے لئے مکمل طور پر اْن کے بند کانوں پر جوں رینگنی بھی نہیں چاہیے تھی ، کیونکہ ان میں سے کوئی شخص یا خاتون ایسی نہیں جس کی کتاب کے ساتھ کوئی دلچسپی یا محبت کبھی ظاہرہوئی ہو ، جہاں تک ہماری بیوروکریسی کا تعلق ہے ہمارے افسران اپنی فائلیں صحیح طرح نہیں پڑھتے کتابیں اْنہوں نے کیا پڑھنی ہیں ؟ ایک بار ہمارے مرحوم شاعر ادیب دانشور ڈاکٹر محمد اجمل نیازی اپنے کسی کام کے سلسلے میں اْس وقت کے سیکرٹری تعلیم یوسف کمال سے ملنے گئے تو اپنی کچھ کتابیں بطور تحفہ لے گئے ، سیکریٹری صاحب نے اس بات کا سخت بْرا منایا اور کتابیں واپس کر دیں ، یوسف کمال کے اللہ درجات بلند فرمائے ، بہت ’’نازک مزاج‘‘افسر تھے ، ایک بار میں نے اْن کے بارے میں لکھا تھا کہ ’’عام طور پر کسی کی پیٹھ پیچھے کوئی بْرائی کرے وہ ناراض ہوتا ہے ، یوسف کمال کی پیٹھ پیچھے کوئی بْرائی کرے وہ خوش ہوتے ہیں ‘‘، ایک زمانے میں ہمارے بیوروکریٹس میں بڑے بڑے شاعر ادیب و دانشورہوتے تھے ، وہ دل کے بھی بہت اچھے ہوتے تھے ، لوگوں کی مدد کر کے خوش ہوتے تھے ، قدرت اللہ شہاب ، مختار مسعود ، کرنل محمد خان ، مشتاق احمد یوسفی ، سید ضمیر جعفری ، شیخ منظور الٰہی ، ڈاکٹر شہزاد قیصر ، ظفر محمود ، طارق محمود ، نصرت علی ، مبارک علی شاہ کئی نام مجھے یاد ہی نہیں آرہے جنہوں نے ادب کی اتنی خدمت کی لوگ اْنہیں اْن کے اعلیٰ عہدوں کے حوالے سے نہیں بطور شاعر ادیب و دانشور کے جانتے تھے ، ان میں کچھ اب دْنیا میں نہیں رہے مگر اْن کی شناخت بطور شاعر ، ادیب دانشور کے اب بھی قائم ہے ، اب ہماری بیوروکریسی میں صرف اْن کتابوں سے محبت کی جاتی ہے جن میں کوئی نوٹ رکھ کے اْنہیں پیش کر دے ، جہاں تک خواجہ سعد رفیق کا معاملہ ہے وہ رکھ رکھاؤ ، محبت مروت اور دید لحاظ والے سیاستدان ہیں ، ہماری سیاست سے ایسے لوگوں کا بڑی تیزی سے خاتمہ ہوتا جا رہا ہے ، پاکستان میں ایک تربیت گھر کی ہوتی ہے ، دوسری تربیت معاشرہ کرتا ہے ، وہ معاشرہ جو اس وقت بداخلاقی کے بدترین مقام پر پہنچا ہوا ہے ، خواجہ سعد رفیق کے گھر کی تربیت اتنی مضبوط ہے بداخلاق معاشرہ یا بداخلاق سیاست اْن کے گھر کی تربیت کا کچھ نہیں بگاڑ سکے ، وہ ایک غصیلے انسان ہیں ، سچا اور کھرا انسان ایسا ہی غصیلہ ہوتا ہے ، مگر وہ جتنے بھی غصے میں ہوں اخلاق کا دامن اْنہوں نے کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا ، وہ اس بار الیکشن نہیں جیت سکے ، لاہور میں پی ٹی آئی کے کچھ ’’کھمبے ‘‘الیکشن جیتے ، کچھ ’’کھوتے‘‘بھی جیتے ، سعد رفیق کی اعلیٰ ظرفی اْنہوں نے اپنی جماعت یا اپنی جماعت کو لانے والوں کی کچھ زیادتیوں کے باوجود جیتنے والے اْمیدوار کو کھلے دل سے مبارک دی، اْس کے بعد بننے والی اپنی حکومت سے خیرات میں کوئی عہدہ بھی قبول نہیں کیا اور الگ تھلگ ہو کر بیٹھ گئے ، ایک غریب کتاب فروش کی مدد پر رؤف کلاسرا کے ساتھ میں بھی اْن کا شکر گزارہوں کہ جہاں اْن کی جماعت خیرات میں ملنے والے اقتدار کے نشے میں گم ہے ، وہاں وہ ہوش میں ہیں اور کچھ ایسے کام کر دیتے ہیں جس سے اْن کی جماعت کے لیے عوام کی نفرتوں میں ایک فیصد ہی سہی کمی ضرورہوتی ہے۔
افسران ،کتابیں ، سعد رفیق اور رؤف کلاسرا
08:57 AM, 6 May, 2025