وطن عزیز کے لئے شہید ہونا ہر ایک کے لئے اعزاز کی بات ہے۔ ایسا کوئی بھی نہ ہو گا جو لیلیٰ وطن کے حضور جان کا نذرانہ نہ پیش کرنا چاہے پانی پہلے بھی اہل اسلام پر بند ہوئے نتیجہ کیا نکلا پانی بند کرنے والوں کے نام و نشان مٹ گئے اور پیاسوں نے یہ جنگ جیت کر ہمیشہ کے لئے تاریخ میں اپنے نام رقم کروا لئے ۔
مسئلہ جو درحقیقت پیش ہے وہ تباہی کا ہے دو جوہری طاقتوںکی جنگ شروع تو ہو سکتی ہے مگر مکمل تباہی کئے بغیر ختم نہیں ہو سکتی… اب آ جائیں زیادہ تباہی کی طرف تو ظاہر ہے دونوں اطراف اربوں افراد کی زندگی دائو پر لگی ہے جو بچ جائیں گے ان کی نسلیں تک مفلوج ہو جائیں گی دونوں اطراف انسانی ترقی کا سفر ابھی ابتدائی مراحل میں ہے ترقی یافتہ قوموں نے تو آپس میں بارڈر تک ختم کر لئے ہوئے ہیں۔
مجھے لگتا ہے جنگ اور محبت اب صرف غریبوں کے مسئلے رہ گئے ہیں جہاں تک ’’مودی‘‘ کا تعلق ہے تو اس کا ’’سٹیک‘‘ پر کچھ نہیں، ماں نہ باپ نا بال بچہ وہ شخص جو سترہ برس کی عمر میں فیملی لائف چھوڑ کر پہاڑوں کی گپھا ئوں میں آر ایس ایس کے چکر میں نکل کر ہندو توا اور بال ٹھاکرے جیسی نفرت میں پروان چڑھا اس کا بھارتی وزیر اعظم بن جانا ہی بھارتی تنگ نظر دو سو برس مسلمانوں کی غلامی کے پرانے زخم کا مظہر ہے ۔
آج مودی نہیں ہندو توا کی تاریخ ساز نفرت کوٹھے پر چڑھ کر ناچ رہی ہے۔ مودی کا جنگی جنون اور مسلمان دشمنی کے لئے یہ شاید آخری موقع ہے۔ وہ بھارت اور برصغیر کو اسلام سے پاک کرنے کے منصوبے کو آخری سٹیمپ لگانا چاہتا ہے ۔مشکل ہے کہ عالمی برادری اس کے جنگی جنون کو کنٹرول کر سکے ایسے میں اسمبلی ممبران کے بڑھتے معاوضے تنخواہیں تیار پاسپورٹ ویزے اس امر کے گواہ ہیں کہ مرنا صرف غریبوں نے ہے۔
اگر ایک بھی حکمران کو خراش تک آ گئی یا کبھی تاریخ میں امرا وزراء یا حکمرانوں کو ایٹم بم کے نتیجے میں بھی زخمی ہونے کا ایک بھی واقعہ ہے تو بتایا جائے یہ ان بادشاہوں سے بھی بڑے بادشاہ ہیں جو میدان جنگ میں اترا کرتے تھے ۔
یہ ہے کہ دونوں طرف غریب مریں گے صرف غریب ،اشرافیہ گرمی کے ٹور پر نکل جائے گی۔
ٹک ٹاکرز سے بھی درخواست ہے کہ بس کریں مذاق ایک حد تک اچھا لگتا ہے ۔ افغانستان میں آج بھی معذور لنگڑے لولے افراد کی موجودگی روس امریکہ کے جنگی جنون کی تصویر ہے خطہ معذوروں سے بھر جائے گا ۔ زمین کے ٹکڑے کسی کے نہیں ہوئے زمین صرف دفن ہونے کے لئے ہوتی ہے ۔
لالچ سے بھرے ہوئے خزانوں کے انبار ایک سانس بھی نہیں بڑھا سکتے قبر کی لمبائی سب کی ایک جیسی ہی ہے۔ تیسری چوتھی پانچویں نسل میں آنے والی بہوئوں دامادوں کے لئے پاپ کی گھڑی نہیں اٹھانی چاہئے یہ لوگ کبھی آپ کے لئے فاتحہ بھی نہیں پڑھیں گے ۔
اس وقت وہ نسل جنہیں جنگ کی سمجھ نہیں بہت زیادہ ایکسائیٹڈ ہو چکی ہے یہ مکمل تباہی ہے پوری عالمی برادری سے ویسے ہی توقع نہیں جو جو غزہ کو آنکھوں کے سامنے جلتے دیکھ رہے ہیں افغانستان، یوکرین کو مرتے دیکھ رہے ہیں ۔ یہ دونوں طرف ہتھیار بیچ کر مزے سے بیٹھ کر ’’ککڑوں‘‘ کی لڑائی دیکھتے رہتے ہیں۔ کاروبار کا کاروبار تفریح کی تفریح بھارت نے تو اپنے لئے تباہی کا انتخاب خود ہی مودی کی صورت میں کر لیا ہے۔ پہلگام کا واقعہ بھی قاتل مودی نے بیرونی مہمانوں کی آمد پر کرایا مجھے بہت ہنسی آتی ہے جب غلیظ ترین گندگی میں لتھڑا بھارت ایک ریپ پر شور مچاتا ہے جیسے وہاں پیٹ میں پیدا ہونے سے پہلے ’’فیٹس‘‘ نہیں بک جاتے چونکہ فیٹس عورتوں کے میک اپ کی مہنگی پروڈکٹس میں استعمال ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہاں کی ایڈز زدہ ہیرا منڈیوں کی عورتیں اب جسم فروشی سے زیادہ پیٹ میں رکھے تین چار مہینے کے فیٹس کو بیچنا زیادہ بڑا کاروبار سمجھتی ہیں۔ وہ ملک رافیل کی قسطیں بھر رہا ہے روسی اسلحے کے پول یوکرین میں بھی کھل چکے ہیں۔ چین کی بے پایاں حمایت کے باوجود اگر یہ جنگ ہو گئی تو دامن کسی کا بھی نہیں بچے گا ۔ تہذیب ماضی کے دو شعر ہیں ۔
اگر کبھی تیرے نام پر جنگ ہو گئی تو
ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف میں کھڑے ملیں گے ۔
یا پھر
میں جنگ جیت بھی جائوں گا دشمنوں سے اگر
تو ان کی عورتیں قیدی نہیں بنائوں گا
ایسے اخلاقیات سے مزین معاشرے میں ایک پاگل کی وجہ سے جنگ ہونے لگی ہے پھر بھی ہندو دیش قائم نہ ہو گا آج اقبال اور قائد کی سوچ کا شکریہ کہ بھارت کے مسلمانوں کی طرح حب الوطنی ثابت کرنے کے لئے ہمہ وقت منت ترلہ نہیں کرنا پڑتا بے چارے جاوید اختر کی طرح ’’آرپار‘‘ کی باتیں نہیں کرنا پڑتیں ۔ جاوید اختر کی شاعری تو پہلے ہی مشکوک تھی اب کردار بھی پے در پے واقعات سے کھل کر سامنے آ گیا ہے ۔ وہ شاعر کیسے ہو سکتا ہے جو امن کی بات نہ کرے جو انسانیت کی بات نہ کرے ۔
جانثار اختر کا بیٹا ایسا ہی ہو سکتا تھا۔ جانثار اختر نے بھی ساری زندگی صفیہ اختر جو حجاز کی بہن تھی ۔خود کہا کہ شوہر اور اس کی ہمہ وقت محبوبہ فاطمہ بیگم کو بھی کھلاتی رہی اور منہ سے اف تک نہ کی یہ بہت اذیت پسند آدمی کا بیٹا ہے اس کا داخلہ پاکستان ہمیشہ کے لئے بند کرنا چاہئے۔
فیض فیسٹیول ہو یا کوئی اور ترقی ماڈرن ازم اور جدیدیت کے نام پر ایسے فضول لوگوں کو نا بلایا کریں جنہیں فیض زندہ ہوتے تو قریب نہ پھٹکنے دیتے … سب بڑے رائیٹرز کی اولادوں نے اپنے اپنے والد کی شہرت کا کاروبار کر رکھا خود انہیں ان کا کوئی ایک شعر بھی یاد نہ ہو گا لوگ سیاست میں وراثت کو روتے ہیں یہاں ہر جگہ یہی ’’رولا‘‘ ہے ۔ دعا ہے جنگ نہ ہو اور پسی ہوئی دو طرفہ مخلوق مفلوق الحال اور معذور نہ ہو جائے کہ جنگ صرف کمزوروں غریبوں اور بیماروں کا دکھڑا اور مسئلہ ہے ۔
دونوں طرف کے غریب اور جنگ
08:56 AM, 6 May, 2025