یہاں اسلام آباد میں مہاتما نے پاکستان کے تمام دیرینہ دوستوں کے ساتھ اپنے آقاو¿ں کی خوشنودی کےلئے سفارتی تعلقات خراب کئے ، بالخصوص سعودی عرب کے قابلِ صد احترام شہزادہ محمد بن سلمان کے خلاف انہی کے جہاز میں بکواس کی گئی اور یوں سعودیہ جیسا غم خواردوست بھی پاکستان سے الگ تھلگ ہوگیا اور زوال پذیری کا سفر اب تیزی سے شروع ہو گیا۔ قصہ مختصر نئے پاکستان کے نام پر پاکستان کے سینے پر وہ گھاﺅ لگائے کہ جن سے آج بھی لہو ٹپک رہاہے اور ناجانے کب تک یہ زخم رستا رہے گا۔ افغانستان سے دہشتگردوں کو ہزاروں کی تعداد میں لا بسایا ۔ اور ذاتی مفادات کیلئے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ۔ دہشت گردوں کی کھلم کھلا سپورٹ اور حمایت کل بھی کرتے تھے اور آج بھی کر رہے ہیں ۔ ساتھ ہی ملک سے رواداری، مساوات ، بھائی چارے اور رکھ رکھاﺅ والی سیاست کی جگہ گالی اور عدم برداشت کو فروغ دیا تاکہ ملی و قومی یک جہتی برباد ہو اور اس طرح اغیار کے پاکستان توڑنے کے منصوبے کی تکمیل ممکن ہو سکے ۔ چنانچہ شعور کے نام پر ذلت و پستی ، نفاق کو ایسے پروان چڑھایا گیا کہ معاشرتی توازن ہی بگڑ گیا۔
پاکستان کی سلامتی کے ضامن ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کی طرف مہاتما بڑھا اور ہر دوسرے جملے میں یہ کہتا تھا کہ ہمیں یہ پروگرام نہیں چاہئے ۔ فوج کا بجٹ زیادہ ہے ۔ فوج کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی ۔ پہلے آئی ایم ایف کے پاس جانے کو موت سے تشبیہ دی گئی بعد ازاں ملک وینٹی لیٹر پر چلا گیا تو بھاری شرائط پر مالیاتی ادارے کا پروگرام لیا۔ پھر اپنے اقتدار کی آخری سانسوں پر اس پروگرام سے بھی مکر گیا جس کا خمیازہ آج بھی پاکستان بھگت رہا ہے ۔
اقتدار سے آئینی طریقے سے باہر ہوا تو عزائم کھل کر سامنے آ گئے اور ملک دشمنی میں وہ وہ حرکات کیں کہ میر جعفر بھول جائے ۔چنانچہ اللہ پاک کے فضل و کرم سے میاں محمد شہباز شریف اور جناب سید عاصم منیر صاحب جیسے محب وطن رہنماﺅں کے ہاتھ ملک کی باگ ڈور لگتے ہی اغیار کا یہ آلہ کار آپے سے باہر ہوگیا اور اب باقاعدہ طور پر غدار وطن کے طور پر سامنے آتا ہے آئی ایم ایف کو پاکستان کو قرض نہ دینے کے خطوط لکھے ، عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی جستجو عروج پر پہنچی اور ملک کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ جلسے جلوسوں میں پیش کیا جانے لگا ۔ اسرائیل کے اخبارات میں شائع ہونے والے آرٹیکل اور تھیوریز پھر برطانیہ کے با اثر گولڈ سمتھ خاندان جو کہ اس کا سسرال بھی ہے اس کی حمایت سے واضح ہے کہ مہاتما پاکستان کا واضح دشمن اور ملک کو ہر صورت توڑنا چاہتا ہے ۔ 9 مئی اس کا واضح ثبوت ہے۔ اس کے بعد بھی بہت سے اہم بیانات اور تحریکِ انصاف کی قیادت کا رویہ واقعتا اس پیغام کو عام کر رہا ہے کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں یعنی ہم ملک توڑ دیں گے۔ گزشتہ سال پاک بھارت جنگ میں الحمدللہ سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور میاں محمد شہباز شریف کی دور اندیشی بہادری اور دانش سے پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے اور تاریخی فتح حاصل کی ۔ بنیان مرصوص نے دنیا کی جنگی تاریخ ہی بدل دی پاکستان کی یہ فتح اب جدید جنگی نصاب کا حصہ ہے۔
تحریک انصاف کی ملک دشمنی اور موقع پرستی کا یہ عالم ہے کہ افغانستان کی بزدلانہ کارروائیوں ، پاکستان کی فوج اور سویلین آبادی پرحملوں کو بھی جائز قرار دے رہی ہے۔ پاکستان افغان جنگ میں تحریکِ انصاف نے افغان طالبان کی حمایت کی اے آئی کے ذریعے ان کی فتح کی ویڈیوز بنائیں ، پاکستان کی فوج کا مورال گرانے کی سازش کی اور تو اور وفاق کے ایک یونٹ خیبرپختونخوا کو وفاق کے سامنے کھڑا کرنے کی کوشش جاری ہے ۔ صوبائی حکومت ملکی سالمیت کے کسی بھی اجلاس کا حصہ نہیں بنتی‘ طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی کرتی ہے اور نہ ریاست کو کرنے دیتی ہے بلکہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی بھونڈی بات کی جاتی ہے۔
پاک افغان جنگ میں الحمدللہ پاکستان کی مسلح افواج نے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ اور اپنے اہداف کو نشانہ بناکر پاکستان دشمنوں کو چن چن کر جہنم واصل کیا ہے ۔ اس پر بھی تحریک انصاف اور اچکزئی سمیت چند ضمیر فروش چیخیں مار رہے ہیں ۔ علاقائی سالمیت کی بات کی جائے تو امریکہ اسرائیل ایران جنگ کی وجہ سے یہ خطہ اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ بالخصوص خلیجی ممالک اور سعودی عرب پر ایران کے حملوں کے بعد صورتحال گمبھیر ہے ۔ اسرائیل امت مسلمہ کو توڑنا چاہتا ہے اور اتحاد کو پارہ پارہ کر کے اپنے مقاصد میں کامیاب ہونا چاہتا ہے ۔ ایسے میں وزیر اعظم پاکستان کے پارلیمانی رہنماﺅں کی کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت کو ٹھکرا کر تحریک انصاف نے پھر ثابت کر دیا ہے کہ اس کے نزدیک پاکستان کی سالمیت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ پاکستان میں جنگ ہو ملک کو نقصان پہنچے اس میں تحریک انصاف کا فائدہ ہے اس کے مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ اگر ملک میں امن و امان ہو گا، ترقی، خوشحالی اور استحکام ہو گا تو تحریک انصاف اور اس کے آقاو¿ں کے تمام منصوبوں پر پانی پھر جائے گا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ فارن فنڈنگ سمیت ملک دشمنی کے واضح شواہد کی موجودگی میں طالبان کے سیاسی ونگ تحریک انصاف کو مکمل بین کر دینا چاہیے۔ 9 مئی، پاک بھارت جنگ اور اب افغانستان کے ساتھ جنگ میں تحریک انصاف کا کردار ایک ملک دشمن کا رہا ہے۔ بالخصوص اس جماعت کے ڈیجیٹل دہشت گرد جو بھگوڑے ہیں انہیں بھی نشان عبرت بنایا جائے۔ اگر اس وقت تحریک انصاف سمیت طالبان کے خلاف حتمی فیصلہ کن کارروائی نہ کی گئی تو اس کے بھیانک نتائج نکلیں گے۔ ایک صوبے کو دیگر ملک سے کاٹنے کی دھمکیاں عروج پر ہیں، خیبرپختونخوا کی حکومت کی کارکردگی اور عزائم سامنے ہیں۔ نفرتوں اور نفاق کا بیج بونے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے بصورت دیگر تاریخ آپ کو معاف نہیں کرے گی۔
ملک دشمنی کا سفر!....آخری قسط
08:59 AM, 7 Mar, 2026